السلام علیکم۔
ایک طوطا اور طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ہوا، وہ دم لینے کے لئے ایک ٹنڈ منڈ درخت کی شاخ پر بیٹھ گئے۔ طوطے نے طوطی سے کہا ”اس علاقے کی ویرانی دیکھ کر لگتا ہے کہ الوؤں نے یہاں بسیرا کیا ہوگا“ ساتھ والی شاخ پرایک الو بیٹھا تھا اس نے یہ سن کر اُڈاری ماری اور ان کے برابر میں آکر بیٹھ گیا۔ علیک سلیک کے بعد الو نے طوطا طوطی کو مخاطب کیا اور کہا ”آپ میرے علاقے میں آئے ہیں، میں ممنون ہوں گا اگر آپ آج رات کا کھانا میرے غریب خانے پر تناول فرمائیں“۔
اس جوڑے نے الو کی دعوت قبول کرلی رات کا کھانا کھانے اور پھر آرام کرنے کے بعد جب وہ صبح واپس جانے لگے توالو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور طوطے کو مخاطب کرکے کہا ”اسے کہاں لے کر جا رہے ہو، یہ میری بیوی ہے“ یہ سن کر طوطا پریشان ہوگیا اور بولا ”یہ تمہاری بیوی کیسے ہو سکتی ہے، یہ طوطی ہے تم الو ہو، تم زیادتی کر رہے ہو“ اس پرالو اپنے ایک وزیر باتدبیر کی طرح ٹھنڈے لہجے میں بولا ”ہمیں جھگڑنے کی ضرورت نہیں، عدالتیں کھل گئی ہوں گی۔
ہم وہاں چلتے ہیں، وہ جو فیصلہ کریں گی، ہمیں منظور ہوگا“ طوطے کو مجبوراً اس کے ساتھ جانا پڑا۔ جج نے دونوں طرف کے دلائل بہت تفصیل سے سنے اور آخر میں فیصلہ دیا کہ طوطی، طوطے کی نہیں، الو کی بیوی ہے۔ یہ سن کر طوطا روتاہوا ایک طرف کوچل دیا۔ ابھی وہ تھوڑی ہی دور گیاتھا کہ الو نے اسے آواز دی ”تنہا کہاں جا رہے ہو، اپنی بیوی تو لیتے جاؤ“۔ طوطے نے روتے ہوئے کہا ”یہ میری بیوی کہاں ہے، عدالت کے فیصلے کے مطابق اب یہ تمہاری بیوی ہے“
اس پر الونے شفقت سے طوطے کے کاندھے پرہاتھ رکھا اور کہا ”یہ میری نہیں، تمہاری ہی بیوی ہے، میں توتمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الوؤں کی وجہ سے ویران نہیں ہوتیں بلکہ اس وقت ویران ہوتی ہیں جب وہاں سے انصاف اٹھ جاتا ہے“۔
والسلام