HallaGulla: Urdu Poetry/Shayari & Literature Community & Forum.
Urdu Poetry/Shayari Forum


Download Urdu Books
Watch Movies
Urdu Poetry/Shayari Forum
Go Back   Urdu Poetry/Shayari Forum > Urdu Adab > Urdu Writer's Club

Notices

Urdu Writer's Club A place for new & famous Urdu Writers. If you write Urdu Columns, Urdu Article, Urdu Short Stories, Urdu Afsanay, Urdu Darama, Tanz o Mazah, Khakay, Inshaiye, Urdu Makalmay/Mukalmay, or just Khudkalami, share it here or read of others.


Reply
 
LinkBack Thread Tools
  #1  
Old 05-25-2007, 05:37 AM
AdilMinhaj's Avatar
Member
 
Join Date: Jul 2006
Location: Islamabad
Posts: 110
Thanks: 0
Thanked 0 Times in 0 Posts
Rep Power: 71
AdilMinhaj is on a distinguished road
Default Other - آخری منصوبہ(Last Episode)

آخری منصوبہ(۱۱) محمد عادل منہاج

رات کی تاریکی میں رابرٹ ڈیوڈ کے گھر پہنچا تو حیران رہ گیا وہاں موجود ذیادہ تر گھر مسمار کیے جاچکے تھےیہاں تک کہ ڈیوڈ کے پیچھے والا مکان بھی گرایا جاچکا تھا
’اگر میں آج یہاں نہ آتا تو شاید کل تک یہ گھر بھی مسمار ہوچکا ہوتا‘ رابرٹ بڑبڑایا اور پھر لاک کھول کر ڈیوڈ کے گھر میں داخل ہوگیاوہ سیدھا ڈیوڈ کے کمرے میں گیا اور وہاں دیوار میں لگا ایک خفیہ بٹن دبایا تو فرش کا ایک حصہ ایک طرف کو سرک گیااور سیڑھیاں نیچے جاتی نظر آنے لگیں وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے تہ خانے میں پہنچا تو دروازہ خود بخود بند ہوگیا اس نے بلب جلایا تو تہ خانہ جگمگا اٹھایہاں ایک الماری تھی جس میں ڈیوڈ کے کاغذات اور ضروری چیزیں تھیںرابرٹ نے جلدی جلدی سارے کاغذات بیگ میں بھر لیے اور واپسی کے لیے قدم اٹھائےمگر ایک دم وہ چلتے چلتے رک گیاتہ خانے کی دائیں دیوار میں ایک بڑی سی دراڑ پڑ چکی تھی شاید پیچھے والا گھر مسمار کرنے کے دوران جھٹکا لگنے سے یہ دراڑ پڑی تھیرابرٹ بے خیالی میں آگے بڑھا اور اس دراڑ میں سے جھانکا تو چونک اٹھادراڑ کے دوسری طرف ایک اور کمرہ نظر آرہا تھا
’یہ یہ کیا ڈیوڈ کہ کہنے کے مطابق تو گھر میں بس یہی ایک تہ خانہ ہے پھر یہ دراڑ کے دوسری طرف کون سا کمرہ ہے؟‘ وپ حیرت سے بولا
’کک کہیں یہ کوئی ایسا خفیہ کمرہ تو نہیں جو ایلن نے بنایا ہو اور جس سے ڈیوڈ بھی ناواقف ہو‘ اس نے سوچا پھر اس پر جوش طاری ہوگیااس نے تہ خانے میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں اسے لوہے کی ایک راڈ مل گئیوہ راڈ سے دراڑ ک ےارد گرد سیمنٹ کھرچنے لگا جلد ہی اینٹیں نظر آنے لگیں وہ راڈ دراڑ میں پھنسا کر اینٹ نکالنے کی کوشش کرنے لگااس پر جنون طاری تھاکافی زور لگانے کے بعد اینٹ نکل گئی دوسری طرف بھی ایسا ہی ایک کمرہ نظر آرہا تھا رابرٹ مزید اینٹیں نکالنے کی کوشش کرنے لگاکئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد وہ دیوار میں اتنا خلا بنانے میں کامیاب ہوگیا کہ دوسری طرف جاسکےوہ خلا سے نکل کر دوسرے تہ خانے میں پہنچ گیا یہ نسبتا چھوٹا کمرہ تھا اس میں ایک میز ٬کرسی اور ایک الماری تھیالماری میں تالا لگا تھارابرٹ نے ایک اینٹ اٹھا کر زور زور سے تالے پر ماری تو وہ ٹوٹ گیااس نے الماری کھولی تو اندر فائلیں ہی فائیلیں بھری نظر آئیں
’کہیں یہ ایلن کے بنائے ہوئے منصوبے تو نہیں‘جوش کی حالت میں وہ بڑبڑایا اور جلدی جلدی فائیلیں دیکھنے لگاپھر اس کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا یہ واقعی ایلن کے بنائے ہوئے منصوبے تھے ا سنے ہر منصوبے کی ایک کاپی اپنے پاس رکھی ہوئی تھی پھر رابرٹ کی نظر ایک موٹی سی فائل پر پڑی جس پر بڑے بڑے حروف میں لکھا تھا’میری زندگی کا آخری منصوبہ‘
یہ الفاظ پڑھ کر رابرٹ کا دل دھڑکنا بھول گیااس نے کئی سالوں کے بعد بالآخر وہ منصوبہ پالیا تھا جس پر پولس عمل کر رہا تھا جث دنیا میں یہودیت پھیلانے کا منصوبہ تھاجس پر کامیابی سے عمل درآمد جاری تھاجس می لپیٹ میں ساری دنیا آئی ہوئی تھیرابرٹ کرسی پر بیٹھ کر جلدی جلدی منصوبہ پڑھنے لگایہ کافی ضخیم مسودہ تھامگر اب رابرٹ کو کسی چیز کا ہوش نہیں رہ گیا تھا وہ تو تیزی سے ورق گردانی کرتا جا رہا تھااسے وقت گذرنے کا بھی احساس نہیں تھااور پھر پوری فائل پڑھنے کے بعد اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اس کے جسم سے جیسے جان نکل چکی تھی
’اف میرے خدا! اتنا بھیانک منصوبہ! افغان پور سے لاس کا انخلا٬عامر بن ہشام کو ہیرو بنانا٬پھر راک کا ریست پر قبضہ اور راک پر حملہ٬اشریکا میں دہشت گردی ٬عامر بن ہشام پر اس کا الزام اور افغان پور پر قبضہ یہ سب اس منصوبے کے تحت ہوا اور دنیا میں کسی کو اس کا احساس نہیں کہ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا ہے اور اور اب راک پر حملہ ہوگا اور راک پر بھی اشریکی حکومت بن جائے گی پھر ملک سام ٬ جاردن وغیرہ پر قبضہ ہوگا اور اس کے بعد پاک کی باری آئے گیاور تو اور اس کے بعد اشریکا کو بھی لاس کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا مجھے فورا دنیا کے سامنے اس منصوبے کو لانا چاہیے تاکہ دنیا گبرائیل اور پولس کی سازشوں سے آگاہ ہوسکے مجھے فورا یہ کام کرنا ہوگا ورنہ ورنہ راک پر حملہ ہونے ہی والا ہے‘ وہ اچھل کر کھڑا ہوگیا او رمنصوبے کی فائل اٹھا کر تیزی سے دیوار میں موجود سوراخ کی طرف دوڑااسی وقت اس کے کانوں میں گڑگڑاہٹ کی آواز گونجی اور ایک دھماکہ سنائی دیاوہ اچھل پڑا اور اس نے اپنی گھڑی پر نظر ڈالی تو اس کے ہوش اڑ گئے منصوبہ پڑھنے کے چکر میں رات گذر چکی تھی دن نکل آیا تھا اور یقینا اوپر مکانات مسمار کیے جا رہے تھےوہ تیزی سے سوراخ سے نکل کر دوسرے کمرے میں آیا سیڑھیاں چڑھ کر اس نے ایک بٹن دبایا تو چھت ایک طرف کو سرک گئیوہ جلدی سے اوپر ڈیوڈ والے کمرے میں چڑھا اور پھر صدر دروازے کی طرف دوڑ لگادیاسی وقت ایک دھماکے کے ساتھ پچھلا کمرہ گر پڑاشاید اس گھر کے گرانے کی باری بھی آچکی تھیوہ بھاگ کر گھر سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ بلڈوزر گھر پر چڑھائی کر رہا تھاا سنے باہر نکلتے ہی دوڑ لگادی
’ اےاے کون ہو تم؟ رکو‘ پیچھے سے کوئی چلایا مگر رابرٹ نے مڑ کر نہ دیکھا اور بھاگتا چلا گیااسے اپنے پیچھے دوڑتے قدموں کی آواز آئی تو اس نے اپنی رفتار اور تیز کردی
’خبردار رک جاﺅ ورنہ ہم فائر کردیں گے‘ پیچھے سے کوئی چیخا مگر رابرٹ نے اس دھمکی پر کان نہ دھرےاس کا گھر قریب آتا جا رہا تھاجونہی اس نے گلی کا موڑ مڑا پیچھے سے کسی نے فائر کردیاگولی اس کی کمر میں لگی وہ لڑکھڑاگیا اس کے سینے میں شدید درد اٹھا ایک لمحے کو رک کر وہ پھر تیزی سے دوڑا جلد ہی وہ اپنی گلی تک پہنچ گیااور اپنے گھر میں گھس کر دروازہ بند کرلیا تعاقب کرنے والے دوڑتے ہوئے اس گلی سے آگے نکل گئے وہ رابرٹ کو گلی میں داخل ہوتا نہ دیکھ سکے تھے
اندر ڈیوڈ اس کی حالت دیکھ کر اچھل کر کھڑا ہوگیا
’رابرٹ یہ یہ کیا ہوا؟‘ وہ چلایا
’مجھے گولی لگی ہے‘ وہ کمزور آواز میں بولا اور لڑکھڑا کر گرپڑامنصوبے والی فائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ڈیوڈ تیزی سے آگے بڑھا اور رابرٹ کا سر اپنی گود میں لے لیا
’یہ کیسے ہوا رابرٹ ؟‘ وہ دکھ بھرے لہجے میں بولا
’میں تمہارے گھر کے تہ خانے سے کاغذات نکال کر پلٹ رہا تھا کہ مجھے ا س تہ خانے کے برابر ایک اور کمرے کا سراغ ملا میں دیوار توڑ کر اس کمرے میں گیا تو پتہ چلا کہ اس کمرے میں تمہارے والد نے اپنے سارے منصوبوں کی کاپیاں رکھی ہوئی تھیں‘ رابرٹ کمزور آواز میں بولا
’کیا!!‘ ڈیوڈ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں
’ہاں ان میں سے مجھے اس کا آخری منصوبہ بھی مل گیا یہ اس کی کاپی ہے‘ اس نے فائل کی طرف اشارہ کیا’میں فائل لے کر باہر نکلا تو وہاں پولیس والے گھر مسمار کرنے پہنچے ہوئے تھےانہوں نے مجھے نکلتے دیکھ لیا اور مجھ پر گولی چلادی‘وہ بولا
’اوہمگر اب کیا ہوگا تم تو بہت زخمی ہو تمہیں فورا ہسپتال لے کر جانا ہوگا‘ ڈیوڈ گھبرا کر بولا
’اب اس کی ضرورت نہیں رہی میرے دوستگولی میرے دل تک پہنچ گئی ہےمیرا آخری وقت آپہنچا ہے ہم نے ایک دوسرے کا بہت ساتھ دیا کیا اس آخری وقت میں تم میرا ایک کام کرو گے‘رابرٹ ہانپتا ہوا بولا
’یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو میں بھلا تمہارے کسی کام سے انکار کرسکتا ہوں‘ ڈیوڈ نے دکھ بھرے لہجے میں کہا
’تو پھر آخری منصوبے کی فائل ملک پاک میں اختر شاہ تک پہنچادو‘ رابرٹ بولا
’ملک پاک میں! مگر وہ کیوں؟‘ ڈیوڈ نے چونک کر پوچھا
’میں نے تم سے آج تک چھپائے رکھا میں دراصل پاک کا جاسوس کامران خان ہوں یہاں جاسوسی کے لیے آیا تھا قسمت نے تم سے ملوادیااور تمہارے مشوروں کی بدولت میں پولس تک جا پہنچا‘ کامران خان نے کہا
’اوہ!!‘ ڈیوڈ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں
’ڈیوڈ مجھے غلط نہ سمجھناہم مسلمان کسی کے دشمن نہیں تم جانتے ہو کہ گبرائیل ساری دنیا خصوصا مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہا ہے تم خود بھی اس ظلم کے خلاف ہو ہمیں مجبورا اپنے بچاﺅ کے لیے جوابی کاروائی کرنا پڑتی ہے ورنہ ہمارا کسی سے کوئی جھگڑا نہیں اگر دنیا ہمیں چین سے رہنے دے تو ہم بھی کسی کو تنگ نہیں کرتے میرے دوست پولس کا یہ منصوبہ انسانیت کے خلاف ہےاس نے دنیا پر بہت ظلم ڈھائے ہیں اگر یہ منصوبہ جاری رہا تو دنیا ختم ہوجائے گی دنیا کو بچا لو انسانیت کو بچالو یہ فائل اختر شاہ تک پہنچادو تا کہ ساری دنیا اس سے واقف ہوجائے اور اور پولس اپنے انجام کو پہنچ سکے ڈیوڈ میرا یہ کام کردو پلیز پلیز یہ تمہارا مجھ پر بہت بڑا احساناحسان‘ کامران خان کے الفاظ درمیا ن میں رہ گئے
’رابرٹرابرٹ‘ ڈیوڈ نے اسے پکارا مگر اس کی روح پرواز کرچکی تھی ڈیوڈ سکتے کے عالم میں بیٹھا تھا پھر اس نے آہستہ سے کامران کا سر فرش پر رکھا اور منصوبے کی فائل اٹھالی فائل کھول کر وہ پڑھنے لگا پھر اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹنے لگے پوری فائل پڑھنے کے بعد وہ سکتے کے عالم میں تھا اس کی نظریں کامران خان پر تھیں اور وہ گہری سوچ میں گم تھا
******************* ******************** ********************** **********************
’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ راک پر حملہ کس بنیاد پر کیا جائے؟‘ اشریکا کا صدر پریشانی کے عالم میں بولا
’کیوں؟ تمہیں کیا پریشانی ہے؟‘ پولس نے اسے گھورا
’دیکھیں ہم نے اس پر کیمیائی ہتھیار بنانے کا الزام لگایا اور اسے معائنہ کروانے کو کہامیرا خیال تھا کہ وہ نہیں مانے گا اور میں اس بہانے اس پر حملہ کردوں گا مگر وہ راضی ہوگیااقوام متحدہ کی ایک ٹیم معائنے کے لیے گئی تو راک نے اس کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور ہر جگہ کا معائنہ کروادیااب اس ٹیم کے سربراہ نے اپنی رپورٹ مجھے دی ہے جس کے مطابق راک میں کوئی کیمیائی ہتھیار نہیں اس کے علاوہ راک نے اس بات سے بھی انکار کیا ہے کہ عامر بن ہشام وہاں ہے یا البرکہ کے دہشت گرد وہاں چھپے ہیں وہ کہتا ہے کہ اگر کوئی دہشت گرد ہے تو اسے گرفتار لرلیں اب بھلا میں کیا کروںوہ کوئی موقع ہی نہیں دے رہا کہ میں بہانہ بنا کر اس پر چڑھائی کردوں‘ صدر نے کہا
’میں نے تم سے کہا تھا نا کہ راک پر حملے کا فیصلہ ہوچکا ہے اگر کوئی بہانہ نہ بنا حملہ تب بھی ہوگا فی الحال تم ایسا کرو کہ راک کے حاکم سے کہو کہ وہ اقتدار چھوڑ دے ورنہ اس پر حملہ کردیا جائے گا‘ پولس بولا
’مگر وہ کس بنیاد پر اقتدار چھوڑے عوام اس کے خلاف نہیںاور اس پر لگایا گیا کوئی الزام بھی درست ثابت نہیں ہوا‘ صدر نے کہا
’ان باتوں کی پروا نہ کرو بس اسے الٹی میٹم دے دو‘ پولس بولا
’ٹھیک ہے میں یہ بھی کردوں گا لیکن اس بار حالات خاصے خراب ہیں ساری دنیا میں اشریکا کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں اقوام متحدہ بھی مجبورا ساتھ دے رہی ہے ورنہ اس کی اکثریت میرے خلاف ہے سب کا خیال ہے کہ اشریکا راک پر بے بنیاد الزٓم لگا رہا ہے اور دراصل وہ راک کے تیل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے‘ صدر نے کہا
’ہوں مجھے بھی امید نہیں تھی کہ غیر مسلم ممالک بھی آنکھیں پھیر لیں گے خیر چار پانچ ملک تو تمہارے ساتھ ہیں باقیوں کو بھی تیل کا لالچ دے کر ساتھ ملالو اور یہ جو مظاہرے ہو رہے ہیں ہونے دو عوام کو بھی تو کوئی ایکٹیوٹی چاہیےانہیں شور شرابا کرنے دو راک پر حملہ ہر حالت میں ہوگا چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے‘ پولس مضبوط لہجے میں بولا
******************* ******************** ********************** **********************
دنیا چیختی رہ گئی لوگ مظاہرے کرتے رہ گئے مگر اشریکا نے کسی کی ایک نہ سنی تنہا سپر پاور ہونے کے زعم نے اس نے دوسرے شکار پر جھپٹا مار دیا اور راک پر حملہ کردیا ایک بار پھر چنگیزیت کی تاریخ دہرائی جانے لگی افغان پور کی طرح راک پر بھی ان بموں کی بارش ہونے لگی جو ایک عرصے سے اشریکا کے اسلحہ خانوں میں بیکار پڑے تھے اس بار بھی عورتوں ٬ بچوں٬ بوڑھوں اور جوانوں میں کوئی تمیز نہ کی گئی کبھی کسی اسکول پر بم برسائے گئے کبھی کسی ہسپتال پر کبھی شادی کی تقریب پر اور کبھی جنازے کے جلوس پر مگر اس بارکی جنگ مختصر رہی کیونکہ راک کا حاکم اپنے ساتھیوں کے ساتھ روپوش ہوگیا اوراس کے بعد راک نے گھٹنے ٹیک دیے
اشریکی فوج فاتح بن کر داخل ہوئی اور مظلوموں پر ظلم کرکے فتح کا جشن منانے لگیاس کے لیے کوئی قانون اور کوئی ضابطہ اخلاق نہ تھا وہ جسے چاہتی گرفتار کرلیتی٬ جسے چاہتی مار ڈالتی کوئی اسے پوچھنے والا نہ تھا
مسلمان دم بخود تھے اور انتظار میں تھے کہ اب کس کی باری آتی ہےآثار نظر آرہے تھے اور اشریکا نے اب ملک سام پر الزام لگانے شروع کردیے تھے
******************* ******************** ********************** **********************





آخری منصوبہ(12 محمد عادل منہاج
’ہمارے منصوبے کا تیسرا حصہ بھی مکمل ہونے کو ہے افغان پور اور راک میں ہماری حکومتیں قائم ہوچکی ہیں اب ملک سام کی باری ہے اب ہمیں تیزی سے کام کرنا ہوگا کیونکہ کچھ غیر مسلم ملکوں کو بھی اب شک ہونے لگا ہے‘ پولس کہ رہا تھا
’ہاں حالات کافی خراب ہوچکے ہیں اشریکا نے راک میں بہت ظلم ڈھائے ہیں اسے ہاتھ ہلکا رکھنا چاہیے تھا بس راک پر قبضہ کرلیتا نہتے لوگوں پر مظالم ڈھانے کی وجہ سے ساری دنیا میں لے دے ہورہی ہے اشریکا کے خلاف رپورٹیں شایع ہورہی ہیں اس ھرح تو ہمارا کام مشکل ہوجائے گا‘ گبرائیل کا صدر بولا
’ہاں اشریکا کے صدر کو سمجھانا ہوگا کہ وہ حد سے نہ بڑھے دراصل اشریکی بھی تو مسلمانوں کے بہت خلاف ہیں ان پر قابو پاتے ہی بے قابو ہو جاتے ہیں مگر واقعی ہمیں اب سنبھل کر چلنا ہوگا اگر عیسائی ممالک ہمارے خلاف ہوگئے تو پھر منصوبے پر آسانی سے عمل نہیں ہوسکے گابس اب سام پر حملہ کردیتے ہیں دو تین ممالک کا ایٹمی پروگرام تو ہم ختم کرواچکے ہیں پھر ان کو قابو کرلیں گے اس کے بعد جن عرب ممالک میں اشریکی فوج ہے وہ وہاں بغاوت کر کے وہاں کے شاہوں کو تخت سے اتار دے گی اور وہاں بھی جمہوریت قائم کردی جائے گی تاکہ ہمارے ہمدرد لوگ برسراقتدار آجائیں پھر ہم پاک کی خبر لیں گے اس نے بہت پریشان کیا ہےکوئی بھی حکومت ہو ایٹمی پروگرام پر سودے بازی نہیں کرتیاب اسے ڈائیرکٹ اشریکا سے ٹکرا دیں گے دو تین اور ممالک بھی اس کا ساتھ دیں گے یوں ان سب کا بیڑہ غرق ہوجائے گا اور اشریکا بھی لاس کی طرح ٹوٹ پھوٹ کر ایک معمولی ملک بن جائے گا پھر ہم تمام اسلامی ممالک سے اسلام کو ختم کردیں گے جس طرح طارق بن زیاد کے علاقے اسفین سے عیسائیوں نے اسلام مٹادیا تھا‘ پولس مغرور لہجے میں بولا
’تو پھر جلد ہی کام شروع کریں ا س سے پہلے کہ عیسائی ہمارے خلاف ہوجائیں‘ گبرائیل کا صدر بے چین ہوکر بولا
’ہاں بس میں اشریکا کو اشارہ کرتا ہوں کہ سام پر حملہ کردے اس کے بعد تو مسلمانوں پر یوں آفتیں ٹوٹیں گی جس طرح ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانے ایک ایک کر کے گرتے ہیں ‘ پولس یہیں تک کہ پایا تھا کہ اس کے لباس میں لگا ہوا ایک ننھا سا بلب جلنے بجھنے لگا
’اوہ! کوئی اہم خبر ہے‘ پولس نے فورا جیب سے ایک وائل لیس نما آلہ نکالا اور کسی سے بات کرنے لگا پھر اس کی آنکھوں میں خوف دوڑ گیا
’ کیا ہوا؟‘ صدر نے حیران ہوکر کہا اس نے پہلی دفعہ پولس کو خوفزدہ دیکھا تھا
’بہت بڑی گڑبڑ ہوگئیہم جو ہل اسٹریٹ کے مکان گرا رہے تھے تاکہ وہاں جاسوسی کا اڈا بنایا جاسکے ان میں ایک مکان ایلن کا بھی تھاوہاں ایک تہ خانے سے بہت سی فائیلیں ملی ہیںجو دراصل ایلن کے بنائے ہوئے منصوبوں کی کاپیاں ہیں‘ پولس پریشان ہوکر بولا
’اوہ!!‘ صدر ہکا بکا رہ گیا
’وہاں یقینا اس کے آخری منصوبے کی کاپی بھی ہوگیاور وہاں سے کوئی شخص نکل کر بھاگا بھی ہےاگر وہ آخری منصوبے کی کاپی لے گیا ہے تو پھر سمجھو کہ ہم تباہ ہوگئےاتنے سالوں کی محنت برباد ہوگئی ساری دنیا خاص طور پر اشریکا ہمارے خلاف ہوجائے گا جس پر ہمارا سب سے ذیادہ دارومدار ہے‘ پولس بے حد فکر مند تھا
’اوہ! اب اب کیا ہوگا‘ صدر بھی گھبراگیا
’وہ شخص ابھی گبرائیل میں ہی کہیں چھپا ہوگافورا پورے ملک کی ناکہ بندی کروادوکوئی جہاز ٬ٹرین ملک سے باہر نہیں جائے گیسرحدوں پر کڑی نگرانی کرواﺅگبرائیل کے ایک ایک گھر کی تلاشی لو میں بھی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس تلاش کرواتا ہوں‘ پولس اچھل کر کھڑا ہوگیا صدر بھی تیزی سے باہر بھاگا
خود کو فرعون سمجھنے والے بھول گئے تھے کہ اﷲ انہی کے گھر موسی کی پرورش کرتا ہے انہیں تباہ کرنے کے لیے اﷲنے موسی کو بھیج دیا تھا
******************* ******************** ********************** **********************
ڈیوڈ رسیوں سے جکڑا ہوا پڑا تھااس کا سارا جسم زخمی تھا
’تمہارے روپوش ہونے پر میں پہلے ہی پریشان تھا مگر میں نے تمہیں اتنی اہمیت نہ دی کیونکہ تم بھی بہر حال ایک یہودی تھے کاش میں اسی وقت تمہیں تلاش کروا کر تمہارا گلا دبادیتا بتاﺅ منصوبے کی فائل کہاں ہے؟‘ پولس نے اس کے سر پر ایک ٹھوکر رسید کی
’اب کچھ نہیں ہوسکتا مسٹر پولس میرے باپ کے قاتل ساری انسانیت کے قاتل تم فرعون بننے چلے تھے ساری دنیا پر قبضے کے خواب دیکھ رہے تھے مگر تم بھول گئے کہ ہر فرعون ایک دن دریا میں غرق ہوجاتا ہےساری کائنات پر اﷲکی حکمرانی ہےاسی نے تمہیں میری طرف سے غفلت میں ڈالے رکھااور میرا سینہ سچائی کے لیے کھول دیا میرے دوست رابرٹ یعنی کامران کی باتوں نے میری آنکھیں کھول دیں میں نے اپنے باپ کی غلطی کا کفارہ ادا کردیا ہے وہ فائل تمہاری ناکہ بندیوں سے پہلے ہی میں ڈاک کے ذریعے ایک خاص جگہ بھجواچکا ہوں اب تک تو پہنچ بھی چکی ہوگی تم ہار گئے پولس تمہارا منصوبہ اب ختم ہوا تم بھی ختم ہوجاﺅ گے ‘ ڈیوڈ دانت بھینچ کر بولا
’میں میں تمہیں دیکھ لوں گا میں سب کو تباہ کردوں گا یہ منصوبہ ناکام نہیں ہوسکتا ‘ پولس غرایا اور اسے ایک ٹھوکر مارتا ہوا باہر نکل گیا
اپنے آفس میں آکر اس نے صدر کے نمبر ملائے اور کہا’ڈیوڈ وہ فائل ڈاک کے ذریعے کہیں بھجواچکا ہے فورا پچھلے دو تین دن کا سارا ریکارڈ چیک کرواﺅ کہ کہاں کہاں پارسل بھیجے گئےجس جس ملک میں پارسل گئے ہیں میں وہاں اپنے جاسوسوں کو خبر دار کردوں گا کہ پارسل منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی قبضے میں کرلیں بس دعا کرو کہ ابھی ڈاک راستے میں ہی ہو‘ پولس بولا
’ میں ابھی سارا ریکارڈ چیک کرواتا ہوں‘ صدر جلدی سے بولا
’ ہاں جلدی کرو میں خاص طور پر پاک میں موجود جاسوسوں کو خبر دار کرتا ہوں میرا خیال ہے کہ پارسل ان ڈائیرکٹ وہیں پہنچے گا‘پولس بولا اور فون بند کردیا
پھر اس نے دوسرے فون سے نمبر ملا کر کہا’ ڈیوڈ کی زبان کھلوانے کی کوشش کرو اور اس سے پتہ کرو کہ اس نے فائل کہاں بھیجی ہے‘
ریسیور پٹخ کر اس نے کرسی کی پشت سے سر لگالیاخوف اس کی آنکھوں سے جھانک رہا تھااسے اپنا انجام نظر آرہا تھا
******************* ******************** ********************** **********************
اختر شاہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیںان کے سامنے میز پر وہ فائل پڑی تھی جس میں ایلن کا آخری منصوبہ درج تھا یہ فائل انہیں آج ہی یورپ کے ایک ملک سے بھیجی گئی تھی ڈیوڈ نے لکھا تھا کہ وہ یہ فائل ایک یورپی ملک میں اپنے دوست کو بھیج رہا ہے جو اسے اختر شاہ کو پوسٹ کردے گااس نے کامران خان کی شہادت اور پولس کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھا تھااور یہ لکھا تھا کہ جلد ہی دنیا کو اس منصوبے سے خبردار کردیا جائے تاکہ مزید تباہی سے بچا جا سکے کوئی بھی اس فائل کو جھٹلا نہیں سکے گا کیوں کہ اس پر ایلن کے دستخط اور انگلیوں کے نشانات ہیں جو ریکارڈ سے چیک کیے جاسکتے ہیں
ایلن کا منصوبہ پڑھ کر اختر شاہ سکتے میں آگئے تھے
’مجھے فورا ہی کاروائی کرنا ہوگی یہی موقع ہے کہ ہم گبرائیل کو سبق سکھا سکتے ہیں‘ اختر شاہ تیزی سے فون کی طرف لپکے
******************* ******************** ********************** **********************
’یہ یہ آپ کیا کہ رہے ہیں ؟‘ صدر پاک حیرت سے بولے
’منصوبہ آپ کے سامنے ہے آپ خود پڑھ سکتے ہیں ساری دنیا میں تباہی پھیلانے والا اور دہشت گردی کرنے والا پولس اور گبرائیل ہے اور الزام سارا مسلمانوں پر لگایا جاتا رہا ہے گبرائیل نے ساری دنیا کو بے وقوف بنا رکھا ہے ہم سب کو مل کر اس کے خلاف کاروائی کرنا ہوگی‘اختر شاہ بولے
’ہوں بقول آپ کے پولس تو اشریکا اور عیسائی ممالک کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے لہذا پھر تو اشریکا سمیت سارے عیسائی ممالک بھی گبرائیل کے خلاف ہوجائیں گے‘صدر نے کہا
’ہاں اسی لیے میں نے اس منصوبے کی ایک ایک کاپی اشریکا٬لاس اور دوسرے یورپی ممالک کو بھی بھیج دی ہے ‘اختر شاہ بولے
’ اوہ ! آپ نے بڑی جلدی کی‘ صدر نے کہا
’ نہیں مجھے خدشہ تھا کہ ہماری حکومت پھر کسی مصلحت کا شکار نہ ہوجائے اس لیے میں نے فورا یہ قدم اٹھایااب آپ اشریکا کے صدر سے بات کریں تاکہ فورا اقوام متحدہ کا اجلاس طلب کیا جائے اور گبرائیل کے خلاف قرار داد منظور کی جائے سب کو مل کر اس پر حملہ کردینا چاہیے‘ اختر شاہ جوش کے عالم میں بولے
’ہوں میں اشریکا کے صدر سے بات کرتا ہوں‘ صدر نے کہا
******************* ******************** ********************** **********************
اشریکا کے دارالحکومت میں ایک اہم میٹنگ تھی سب بے حد پریشان اور فکرمند تھے
’آپ لوگ سارے حالات سے واقف ہوچکے ہیں گبرائیل کا یہ روپ ہمارے لیے بے حد تکلیف دہ ہے ہم نے گبرائیل کی خاطر ساری دنیا کی مخالفت اور دشمنی مول لییہودیوں کو عرب کے درمیان ایک ریاست قائم کر کے دی اور وہ ہمیں ہی مٹانے پر تل گئے ہیں‘ اشریکا کا صدر بولا
’واقعی گبرائیل نے بہت ظلم کیا اگر عوام کو پتہ چل گیا کہ اشریکا میں دہشت گردی کرنے والے یہودی تھے تو اشریکا میں یہودیوں کی شامت آجائے گی اشریکا میں خانہ جنگی ہوجائے گی‘ایک گورنر بولا
’سوال یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے؟ مجھ پر ہر طرف سے دباﺅ پڑ رہا ہے کہ گبرائیل پر حملہ کر کے اسے ختم کردیا جائے‘ صدر نے کہا
’ ظاہر ہے ساری دنیا اس کے خلاف ہوچکی ہےیہ یہودی تو آستین کے سانپ ہیں ہمارا کھاتے ہیں اور ہمیں کو ڈس رہے ہیں‘ ایک سینیٹر بولا
’میرا خیال ہے کہ پہلے گبرائیل کے صدر سے بات کر کے دیکھیں کہ وہ کیا کہتا ہے‘ ایک یہودی نواز سینیٹر نے کہا
’ وہ بھلا کیا کہے گا کیا اب بھی اس کے پاس کہنے کو کچھ بچا ہوگا‘ ایک اور سینیٹر منہ بنا کر بولا
’میرا خیال ہے کہ میں ایک بار اس سے بات کر کے دیکھ لوں پھر جو ساری دنیا کا فیصلہ ہوگا وہ ہمیں ماننا ہی پڑے گا کیوں کہ ہم لاکھ سپر پاور سہی مگر ساری دنیا سے بیک وقت ٹکر نہیں لے سکتے‘ صدر نے کہا
******************* ******************** ********************** **********************
گبرائیل کا صدر بہت پریشان تھا
’اب اب کیا ہوگا؟ ہمارا کیا بنے گا؟ اشریکا کا صدر دھمکی دے رہا ہے کہ وہ گبرائیل پر حملہ کردے گا‘ گبرائیل کا صدر پریشان ہوکر بولا
’اب بلائیں اپنے پولس کو جس کے مشوروں پر آپ اندھا دھند عمل کرتے رہے‘ ایک وزیر غصے میں بولا
’میں خود اسے ڈھونڈ رہا ہوں مگر وہ اپنے دفتر میں نہیں نہ جانے کہاں ہے‘ صدر نے کہا
’اب وہ کہیں نہیں ملے گا وہ غائب ہوچکا ہے اسے پتہ ہے کہ اب اس کی تباہی کا وقت قریب ہے‘ وزیر منہ بنا کر بولا
’پولس کی فکر چھوڑو یہ اس کی وجہ سے نہیں بلکہ ایلن کے منصوبے کے بے نقاب ہونے کی وجہ سے ہوا ورنہ تو ہم آخری فتح کے قریب پہنچ چکے تھے ساری دنیا پر ہمارا قبضہ ہونے ہی والا تھا اب تو یہ سوچو کہ اس صورت حال سے کس طرح نمٹیں اپنے آپ کو کس طرح بچائیں‘ صدر فکرمند ہوکر بولا
’خیر اتنا پریشان ہونے کی بھی ضرورت نہیں گبرائیل پر حملہ اتنا آسان نہیں ہمارے پاس سینکڑوں ایٹم بم ہیں‘ ایک اور وزیر بولا
’بے وقوفی کی باتیں مت کریں ہم کس کس ملک پر ایٹم بم پھینکیں گےہمارا تو چھوٹا سا ملک ہے اس پر تو ایٹم بم کا بچہ بھی کسی نے گرا دیا تو ہم صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے ‘ فوج کا سربراہ بولا
اسی وقت فون کی گھنٹی بجیصدر نے چونک کر ریسیور اٹھایا
’ہیلو یہ میں ہوں پولس‘ دوسری طرف سے آواز آئی
’پولس تم ! تم کہاں سے بول رہے ہو؟‘ صدر نے چونک کر پوچھااور ساتھ ہی فون میں لگا ایک بٹن دبایا تاکہ سب لوگ گفتگو سن سکیں
’میری فکر چھوڑو اور میری بات غور سے سن&#