It seems that you are unregistered. Please register with us by clicking Here, or if you are already registered login here
User Name: Password:
Urdu Poetry/Shayari Forum

Urdu Poetry Forum

Welcome to Urdu Community & Poetry/Shayari Forum

 


*** ذرا سی غفلت ***

This is a discussion on *** ذرا سی غفلت *** within the Urdu Writer's Club forums, part of the Urdu Adab category; *** ذرا سی غفلت *** وسیع سمندر میں لاکھوں سپیاں منہ کھولے آسمان کی جانب تکتی رہتی ہیں۔ کبھی کسی ...


Go Back   Urdu Poetry/Shayari Forum > Urdu Adab > Urdu Writer's Club

Video Photo Books Games Sites Register Groups FAQ Calendar Mark Forums Read Chat

Notices

Rate This Thread - *** ذرا سی غفلت ***.
(0)
Thread Rating: 0 votes, average.

Reply
 
Thread Tools
  #1  
Old 01-09-2007, 08:24 AM
Kartos's Avatar
Star Members
 
Join Date: Mar 2005
Location: Sahafa Street
Posts: 4,256

Country:

Tutorials: 0

Thanks: 6
Thanked 6 Times in 3 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 418
Kartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond repute
Default *** ذرا سی غفلت ***

*** ذرا سی غفلت ***

وسیع سمندر میں لاکھوں سپیاں منہ کھولے آسمان کی جانب تکتی رہتی ہیں۔ کبھی کسی جانب سے کالی گھٹائیں آتی ہیں۔ چھاجوں مینہ برستا ہے۔ میلوں تک پھیلا ہوا سمندر اس ابر رحمت پر اتنی ہی ناشکری کا مظاہرہ کرتا ہے جتنا کوئی دہکتا ہوا ریگزار جون جولائی کی دوپہروں میں سورج کی دھوپ دیکھ کر کرتا ہے۔ سطح سمندر پر تیرتی یہ سپیاں بارش کا قطرہ پڑتے ہی بند ہو جاتی ہیں۔ اور سطح سمندر سے نیچے چلی جاتی ہیں۔ پھر پانی کے یہ قطرے مخصوص درجہ حرارت، مقررہ دباؤ اور خاص تعامل کے نتیجے میں موتی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جس طرح شراب جتنی پرانی ہوتی جاتی ہے اتنی ہی زیادہ خمار انگیز اور قیمتی ہوتی جاتی ہے۔ اسی طرح یہ سپیاں جتنی زیادہ مدت تک سمندر میں رہتی ہیں ان کے موتی اتنے ہی چمکدار اور قیمتی ہوتے چلے جاتے ہیں حتٰی کہ سینکڑوں موتیوں میں سے اک سچا موتی پیدا ہوتا ہے۔ موتی کے تیار ہوتے ہی سیپی کی کثافت میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور یہ برف کی طرح دوبارہ سطح آب پر تیرنے لگتی ہے۔ کوئی موج بلاخیز ان سیپیوں کو ایک ایک کر کے ساحل سمندر پر پھنکنا شروع کر دیتی ہے۔ جہاں سے مچھیرے یہ سیپیاں اکھٹی کر کے جوہریوں کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں۔ اب ایک جوہری کو ہی اصل سچے موتی کی پہچان ہوتی ہے وہ اسے خوب نکھار کر اور پالش کر کے بازار میں موتیوں کے قدرشناس کو بیچنے کے لئے رکھ دیتا ہے۔ اب جو خریدار موتی کی خاصیت جانتا ہے، اس کی اہمیت سمجھتا ہے اور اس کی قدرومنزلت کو پہنچانتا ہے وہ انہوں لاکھوں روپے دے کر بھی خرید لیتا ہے۔ وہ انہیں سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے، وہ انہیں ضائع نہیں کرتا، انہیں کھونے نہیں دیتا اور انہیں پوری احتیاط اور محبت سے رکھتا ہے۔ لیکن جو شخص اس کی قدر سے ناآشنا ہو اس کے لئے لنڈے کے کوٹ پر لگے پتھر کے بٹنوں اور سیپی کی کوکھ میں کندن بننے والے موتیوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس کی نظر میں بجری کی کنکریوں اور موتیوں کی یکساں اہمیت ہوتی ہے۔ اس کے لئے ان موتیوں کی قیمت اتنی ہی ہوتی ہے جتنی بازاروں میں ریڑھیوں پر کلو کے حساب سے بکنے والی مصنوئی جیولری کی ہوتی ہے۔

ہمارے معاشرے کا المیہ بھی یہی ہے کہ اس میں جوہر شناس افراد موجود نہیں ہیں۔ ہم سچے موتیوں کی قدروقیمت نہیں جانتے۔ ہم اصلی ہیروں کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہیں۔ ہم بجری کوٹنے والے وہ مزدور بن چکے ہیں جو ہر پتھر کو بلا امتیاز اپنے ہتھوڑے کی چوٹ سے ریزہ ریزہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اسے بلکل بھی خبر نہیں ہوتی، اسے علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کی کون سی ضرب کے نیچے عام پتھر ہے اور کون سی ضرب تلے ہیرا پڑا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا ہم اہنے موتی اس طرح سڑکوں پر رولتے پھرتے؟ ہماری ‘گودڑیوں‘ سے برآمد ہونے والے لعل کیا اس طرح وقت کی بے رحم نکاس نالیوں میں پڑے رہتے؟

ایک پائلٹ کس طرح بنتا ہے؟

معاشرے سے ذہین ترین نوجوان بے شمار ضمنی امتحانوں سے گزر کر ایک بڑے امتحان کا سامنا کرتا ہے۔ ابتدائی ٹیسٹ ہوتا ہے، ابتدائی میڈیکل ٹیسٹ ہوتا ہے، آئی ایس ایس بی سے گزرتا ہے، فائینل میڈیکل ٹیسٹ کرواتا ہے، نفسیاتی ٹیسٹ پاس کرتا ہے، انٹرویو میں تندوتیز اور چومکھے سوالات کا سامنا کرتا ہے اور پھر آخر میں میرٹ کے پل صراط سے گزر تربیت کے لئے منتخب ہوتا ہے، دوران تربیت وہ ذہنی پریشانیوں سے گزرتا ہے، جسمانی تکالیف برداشت کرتا ہے، دماغی مشقت کرتا ہے، ایک موسم میں دوسرے موسم کے مصائب کا سامنا کرتا ہے، کٹھن اور تھکا دینے والے سفر کے بعد کہیں جا کر اسے منزل کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں۔

اسی طرح آرمی کا سیکنڈ لیفٹنینٹ، نیوی کا افسر، ایک سی ایس پی افسر اور ایک سی ایس ایس بیوروکریٹ دشوارگزار راستوں سے گزر کر ‘نروان‘ حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک نوجوان سرد راتوں کو جاگ کر اور گرم دوپہریں لائبریری میں صرف کرتا ہے، اپنا من مار کر محنت کرتا ہے۔ اپنی خواہشات کو طاقِ نسیاں پر رکھ کر نئی منزلوں کے کھوج میں جتا رہتا ہے، تب کہیں جا کر ایک شخص اپنے نام کے ساتھ ایم بی بی ایس لکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ بلکل اسی طرح جب انجینئرنگ کا ایک طالب علم راتوں کو جاگ جاگ کر لہو کے دیپ جلاتا ہے، وقت کی گرد سے بچ کر اور خارزار جوانی میں اپنا دامن آلائشوں سے پاک رکھ کر بھاری محنت تلے طویل فاصلہ طے کرتا ہے تو تب کہیں جا کر اسے سفر کا آخری سنگ میل دکھائی دیتا ہے۔ یہی حال ہر دوسرے شعبے کا ہے۔ آپ کھلاڑی کو لے لیجیئے۔ جو کھلاڑی پرچی لیکر آتا ہے، وہ چند روز چلتا ہے، پھر نقاد اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہیں، لیکن جو کھلاڑی دن دیکھتا ہے نہ رات، دوپہر کی پرواہ کرتا ہے نہ ڈھلتی ہوئی شام کا خیال رکھتا ہے، آندھی کی پرواہ کرتا ہے نہ کسی طوفان سے ڈرتا ہے، مسلسل میدان میں مشق کرتا رہتا ہے اور اپنے جسم کو سکت محنت کا عادی بنا لیتا ہے وہی کھلاڑی جہانگیر خان، عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، محمد یوسف اور شہباز سینئیر بنتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔ ہم نے آج تک نہیں سوچا کہ ایک عالم، ایک لیڈر، ایک ادیب، ایک شاعر اور ایک فنکار ہمیشہ پیدائشی ہوتا ہے۔ دس عمران خانوں جیسی محنت کر کے بھی کوئی ‘اقبال‘ نہیں بن سکتا۔ درجنوں ائیرمارشل اور جنرلوں جتنی مشقت سے گزر کر بھی کوئی شخص ‘جناح‘ نہیں بن سکتا۔ بیسیوں ڈاکٹر اور انجینیئر ملکر بھی ڈاکٹر حمیداللہ نہیں بن سکتے۔ آج کے سینکڑوں ‘بینڈز‘ اکٹھے ہو کر بھی رفیع جیسا ایک گانا نہیں گا سکتے۔

کیا وجہ ہے کہ ہزار سال گزر گئے امت میں کوئی دوسرا امام احمد بن حنبل، امام شافعی، امام مالک یا امام ابوحنیفہ پیدا نہیں ہو سکا۔ ہزاروں مدرسوں سے سالانہ لاکھوں طلبا فارغ ہوتے ہیں، ان بارہ سو سالوں میں ان مدارس سے کروڑوں طالبان حق فارغ التحصیل ہوئے لیکن دنیا پھر بھی کوئی دوسرا امام نہیں دیکھ سکی اور جو بھی اس راہ پر چلتا ہے ہم راہزنوں کی طرح اسے کسی اندھیری گلی میں گھیر کر گولیوں سے بھون دیتے ہیں۔ قدرت ہمیں جو بھی موتی عطا کرتی ہے ہم اسے صرف رولتے ہی نہیں بلکہ سیدھا ‘روڑی‘ کوٹنے والے کی ہتھوڑی کے آگے رکھ دیتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم امت کے زوال کا رونا روتے ہیں۔ ہم اپنی درماندگی کی اتنی سی وجہ نہیں سمجھ سکے کہ جو قومیں اور معاشرے قدرت کے عنایت کردہ موتیوں کی قدر نہیں کرتے موت ہمیشہ ان کی گھات میں رہتی ہے کسی بیرئیر کے پیچھے چھپی، کسی خودکش دھماکے کی اوٹ میں بیٹھی اور کسی کلاشنکوف کے ٹریگر پر تیار موت معاشروں کی ذرا سی غفلت کی منتظر رہتی ہیں۔
__________________


Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Submit to Yahoo!Submit to Google!Submit to Live!Submit to Facebook!Submit to Ask!Submit to StumbleUpon!Submit to Squidoo Submit to Netscape Submit to SlashDot Submit to Reddit Submit to FarkSubmit to Newsvine
Reply With Quote
  #2  
Old 01-09-2007, 09:27 AM
Haya n's Avatar
Cloz_Book
 
Join Date: Dec 2004
Location: Spain
Posts: 53,023

Country:

Tutorials: 0

My Mood:
Thanks: 745
Thanked 761 Times in 641 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 6823
Haya n has a reputation beyond reputeHaya n has a reputation beyond reputeHaya n has a reputation beyond reputeHaya n has a reputation beyond reputeHaya n has a reputation beyond reputeHaya n has a reputation beyond reputeHaya n has a reputation beyond reputeHaya n has a reputation beyond reputeHaya n has a reputation beyond reputeHaya n has a reputation beyond reputeHaya n has a reputation beyond repute
Awards Showcase
Best Cook Award Writer of the Month Writer of the Month Poet of the Month 
Total Awards: 4
Smile Re: *** ذرا سی غفلت ***

Aap Likhnay Ka Hunar Ba'khoobi Jaantay Hai'n...Jis Khoobi Say Aap Nay Is Tehreer Mai'n Paigham Diya Hay Woh Qaari Kay Dil.O.Dimagh Mai'n Utarnay Ki Poori Tarha Salahiyat Rakhta Hay...Aik Writer Par Jo Farz Aayed Hota Hay Woh Aap Bouhat Ahsan Tareeqay Say Ada Kar Rahay Hai'n...Mujhay Aap Ki Yeh Tehreer Bhi Bouhat Pasand Aai....Jo Tehreer Dil.O.Dimagh Mai'n Utar Jaey Woh Hi Asal Tehreer Hay...Mazeed Umda Tehreero'n Ka Wait Rahay Ga Kay Aap Bouhat Acha Likhtay Hai'n..
__________________



Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Submit to Yahoo!Submit to Google!Submit to Live!Submit to Facebook!Submit to Ask!Submit to StumbleUpon!Submit to Squidoo Submit to Netscape Submit to SlashDot Submit to Reddit Submit to FarkSubmit to Newsvine
Reply With Quote
Reply

Tags
158415851575, 15871740, 1594160116041578
Thread Tools

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is On
Trackbacks are Off
Pingbacks are Off
Refbacks are Off

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
*** غفلت سے بیداری تک *** Kartos Islam & Muslim Ummat 0 11-11-2006 09:25 AM
*** ذرا نم ہو *** Kartos Islam & Muslim Ummat 1 06-29-2006 12:06 PM
پیار کا پاسپورٹ: بی بی سی کا پہلا اردو سوپ T@nHa muS@F!r Discussion Corner 2 03-12-2006 07:29 AM

Urdu Poetry Forum RSS Feed One of the largest message boards on the web ! Photo Gallery RSS Feed

eXTReMe Tracker


All times are GMT +1. The time now is 03:47 PM.


Copyrights: All rights reserved.

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61 62 63 64 65 66 67 68 69 70 71 72 73 74 75 76 77 78 79 80 81 82 83 84 85 86 87 88 89 90 91 92 93 94 95 96 97 98 99 100 101 102 103 104 105 106 107 108 109 110 111 112 113 114 115 116 117 118 119 120 121 122 123 124 125 126 127 128 129 130 131 132 133 134 135 136 137 138 139 140 141 142 143 144 145 146 147 148 149 150 151 152 153 154 155 156 157 158 159 160 161 162 163 164 165 166 167 168 169 170 171 172 173 174 175 176 177 178 179 180 181 182 183 184 185 186 187 188 189 190 191 192 193 194 195 196 197 198 199 200 201 202 203 204 205 206 207 208 209 210 211 212 213 214 215 216 217 218 219 220 221 222 223 224 225 226 227 228 229 230 231 232 233 234 235 236 237 238 239 240 241 242 243 244 245 246 247 248 249 250 251 252 253 254 255 256 257 258 259 260 261 262 263 264 265 266 267 268 269 270 271 272 273 274 275 276 277 278 279 280 281 282 283 284 285 286 287 288 289 290 291 292 293 294 295 296 297 298 299 300 301 302 303 304 305 306 307 308 309 310 311 312 313 314 315 316 317 318 319 320 321 322 323 324 325 326 327 328 329 330 331 332 333 334 335 336 337 338 339 340 341 342 343 344 345 346 347 348 349 350 351 352 353 354 355 356 357 358 359 360 361 362 363 364 365 366 367 368 369 370 371 372 373 374 375 376 377 378 379 380 381 382 383 384 385 386 387 388 389 390 391 392 393 394 395 396 397 398 399 400 401 402 403 404 405 406 407 408 409 410 411 412 413 414 415 416 417 418 419 420 421 422 423 424 425 426 427 428 429 430 431 432 433 434 435 436 437 438 439 440 441 442 443 444 445 446