It seems that you are unregistered. Please register with us by clicking Here, or if you are already registered login here
Welcome to Urdu Community & Poetry/Shayari Forum
This is a discussion on آخری منصوبہ9,10 within the Urdu Writer's Club forums, part of the Urdu Adab category; آخری منصوبہ(۹) محمد عادل منہاج اسلام آباد راڈ کے موبائل کی گھنٹی بجی ’ہیلو راڈ سپیکنگ‘ وہ بولا ’پولس کا ...
| |||||||
| Poetry | Video | Photo | Books | Games | Sites | Register | Groups | FAQ | Calendar | Mark Forums Read | Chat [5] |
|
#1
| |||||
| |||||
| آخری منصوبہ(۹) محمد عادل منہاج اسلام آباد راڈ کے موبائل کی گھنٹی بجی ’ہیلو راڈ سپیکنگ‘ وہ بولا ’پولس کا حکم ہے کہ آپ اپنی ایک ٹیم فورا ٹون بلڈنگ کے پاس بھیج دیں جو بلڈنگ کی مووی بناتی رہے اور وہاں کی کوریج کرے‘ دوسری طرف کی آواز سن کر راڈ چونک اٹھاوہ پولس کے خاص آدمی کی آواز تھی ’مگر کس چیز کی کوریج؟ وہاں کیا ہو رہا ہے؟‘ راڈ الجھن کے عالم میں بولا ’یہ وہاں جاکر پتہ چل جائے گا‘آواز آئی اور فون بند ہوگیا راڈ کے پلے کچھ بھی نہ پڑا کہ معاملہ کیا ہے مگر وہ پولس کے حکم سے مجبور تھااس نے فورا ایک ٹیم بلڈنگ کی طرف روانہ کردیٹیم نے اس بلڈنگ کے سامنے والی ایک عمارت کی چھت پر چڑھ کر جائزہ لینا شروع کردیاایک شخص بلڈنگ کی مووی بنا رہا تھاپھر اچانک وہ چونک اٹھاایک جہاز تیزی سے بلڈنگ کی طرف بڑھ رہا تھااور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جہاز بلڈنگ سے جا ٹکرایاآس پاس سے گذرنے والے لوگوں نے بھی یہ حیرت انگیز منظر دیکھا اور پھر وہاں ایک ہڑبونگ مچ گئیڈی این این کا نمائندہ چابک دستی سے مووی بنا رہا تھابلڈنگ سے دھواں اٹھ رہا تھاجلد ہی پولیں کی گاڑیوں اور ایمبولینسوں کے سائرن بجناشروع ہوگئےمگر چند منٹ ہی گذرے ہوں گے کہ ایک اور جہاز بلڈنگ کی طرف آتا دکھائی دیالوگوں کی چیخیں نکل گئیںاس بار جہاز بلڈنگ کے دوسرے حصے سے ٹکرایاپھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری کی پوری بلڈنگ ایک زور دار دھماکے کے ساتھ زمین بوس ہوگئیہر طرف آگ کے شعلے اور دھواں تھا ’حیرت ہے بلڈنگ اتنی جلدی پوری کی پوری تباہ ہوگئیجہاز تو اوپر والے حصے سے ٹکرائے تھے!‘ڈی این این کا نمائندہ بڑبڑایا ******************* ******************** ******************** ** ******************** ** اشریکا کا صدر اس وقت ایک میٹنگ میں تھا جب اس نے یہ خبر سنی تو اسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا ’اشریکا پر بھی کوئی حملہ کرسکتا ہے!‘ وہ حیرت سے بولا پھر وہ افراتفری کے عالم میں دارالحکومت کی طرف بھاگا اشریکا میں ہنگامی حالت کا نفاذ کردیا گیا تھاصدر نے فوری طور پر ایک ٹیم تشکیل دی جو جائے حادثہ کا جائزہ لےاس نے فورا قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ابھی میں کچھ نہیں کہ سکتا کہ یہ کام کس کا ہےیہ حادثہ ہے یا دہشت گردیہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جلد ہی قوم کو حقائق سے آگاہ کریں گے‘ ******************* ******************** ******************** ** ******************** ** کیپٹن برنٹ کی نگرانی میں ایک ٹیم تباہ شدہ عمارت کے ملبے پر پہنچی ان سے ساتھ آئے ہوئے ماہرین نے وہاں سے ملبے کے نمونے اٹھائے جب کہ کیپٹن برنٹ ارد گرد کا جائزہ لیتارہا اور وہاں موجود لوگوں سے حادثے کی تفصیلات پوچھتا رہا اس نے ماہرین سے کہا کہ وہ فورا رپورٹ اس تک پہنچائیں اگلی دوپہر وہ اپنے آفس میں موجود تھا ماہرین کی رپورٹیں اسے مل چکی تھیں ’چند باتیں بہت حیرت انگیز ہیں ایک تو یہ کہ دونوں جہاز پرواز سے پہلے چیک کیے گئے تھے ان میں کوئی خرابی نہیں تھی جہاز کے تمام مسافروں کی لسٹ بھی میرے پاس ہے اس میں بھی کوئی مشکوک شخص نظر نہیں آتاپھر یہ کہ دونوں جہاز بلڈنگ کے اوپر والے حصے سے ٹکرائے اس صورت میں اوپر کا حصہ تو تباہ ہونا ہی تھا مگر یہاں تو پوری بلڈنگ چند منٹوں میں زمین بوس ہوگئی اور اس کا نام و نشان ہی مٹ گیا ‘ کیپٹن برنٹ نے کہا ’آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے‘اس کے ماتحت نے پوچھا ’ ماہرین کی رپورٹ اس بات کا جواب دے رہی ہے ملبے کا جائزہ لینے سے پتہ چلا ہے کہ اس میں دھماکہ خیز مادے کے اثرات ہیں یہنی بلڈنگ میں کئی جگہ بم فٹ کیے گئے تھے اگر جہاز نہ بھی ٹکراتے تو وہ بم پھٹ جاتے اور بلڈنگ پھر بھی تباہ ہوجاتی مگر وار دو طرح سے کیا گیا ایک تو جہاز ٹکرائے گئے او رعین اسی لمحے بم پھٹ گئے یوں بلڈنگ پوری کی پوری تباہ ہوگئی‘ کیپٹن برنٹ نے بتایا ’یعنی تمام کام خاصے جدید اور سائینٹیفک طریقے سے کیا گیایہ کام تو کوئی بہت ہی ماہر شخص کر سکتا ہے جس نے اتنی زبردست منصوبہ بندی کی‘ ماتحت بولا ’ہاں مگر یہ بات پھر بھی سمجھ سے باہر ہے کہ جہاز بلڈنگ سے کس طرح ٹکرائے ظاہر ہے پائلٹ نے جان بوجھ کر تو ایسا نہیں کیا ہوگا‘ کیپٹن برنٹ نے کہا ’ سر ایک اور بھی عجیب بات ہے‘ ایک اور ماتحت بول اٹھا ’وہ کیا البرٹ؟‘ برنٹ نے پوچھا ’سر ٹی این این اس سارے واقعے کی جو وڈیو دکھا رہا ہے ا سسے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ وہاں پہلے سے ہی موجود تھا اس نے پہلے جہاز کے ٹکرانے کی مکمل وڈیو بنائی ہےآخر اسے کس طرح پتہ چلا کہ وہاں کچھ ہونے والا ہے‘ البرٹ نے سوال اٹھایا ’اوہ! پھر تو ٹی این این سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے‘ کیپٹن برنٹ بڑبڑایا اسی وقت فون کی گھنٹی بجی برنٹ نے ریسیور اٹھایا اور دوسری طرف کی بات سن کر وہ حیران رہ گیا ’کیا ہوا سر؟‘ البرٹ نے پوچھا ’حیرت انگیز خبریں ہیں ایک تو یہ کہ عمارت کا ملبہ اٹھوایا جا رہا ہے حالانکہ ابھی تحقیقات پوری نہیں ہوئیں دوسرے یہ کہ صدر نے مجھے مزید انکوائری سے روک دیا ہے وہ آج شام قوم سے خطاب بھی کرنے والے ہیں‘ کیپٹن برنٹ نے بتایا ’حیرت ہے ! دونوں باتیں ہی سمجھ سے باہر ہیں‘ ماتحت بڑبڑایا برنٹ کی پیشانی پر بھی شکنیں پڑیں ہوئی تھیں وہ گہری سوچ میں گم تھا ******************* ******************** ******************** ** ******************** ** ’ہیلو تم فورا حادثے سے متعلق ہونے والی تحقیقات روک دو‘ پولس کی بات سن کر اشریکا کا صدر حیران رہ گیا ’مگر وہ کیوں؟ اشریکا کی تاریخ کا اتنا بڑا حادثہ ہوگیا اور اس کی تحقیق بھی نہ کی جائے‘اشریکا کا صدر حیران ہوکر بولا ’میں جو کہ رہا ہوں وہ کروتم فورا ٹی وی پر اعلان کرو کہ اس حادثے کا ذمہ دار عامر بن ہشام ہے‘ پولس نے کہا ’عامر بن ہشام!‘ صدر کے منہ سے حیرت سے نکلا’ وہ بھلا یہ کام کیسے کر سکتا ہے! اگرچہ ہم اس کے خلاف بہت پروپیگنڈہ کر رہے ہیں مگر میں تو حقیقت سے واقف ہوں عامر محض ایک چھوٹا سا جنگجو ہے اور اس کی تنظیم البرکہ بھی چند لوگوں پر مشتمل ایک معمولی سی تنظیم ہے وہ لوگ اتنا منظم اور سائینٹیفک طریقے سے کیا گیا حملہ نہیں کرسکتے نہ ان کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے نہ صلاحیت‘ صدر بولا ’تمہیں یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ کون کیا کر سکتا ہے کیا نہیں بس تم فورا عامربن ہشام کے خلاف بیان دو اور اسے دھمکی دو کہ وہ خود کو اشریکا کے حوالے کردے بس اور کچھ کرنے کی ضرورت نہیں‘ پولس نے قطیعت سے کہا اور اشریکا کا صدر دانت پیس کر رہ گیا ا سکا بس چلتا تو وہ اس بوڑھے کا گلا دبا دیتا مگر وہ مجبور تھا کہ پورا اشریکا یہودیوں کے قبضے میں تھا دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور مٹھی بھر یہودیوں کے آگے بے بس تھی ******************* ******************** ******************** ** ******************** ** ’سر میں پوچھ سکتا ہوں کہ مجھے انکوائری سے کیوں ہٹایا گیا ہے‘ کیپٹن برنٹ خشک لہجے میں بولا ’اب انکوائری کی ضرورت نہیں رہی ہم پتہ چلا چکے ہیں کہ یہ کام عامر بن ہشام کا ہے‘ اشریکا کے صدر نے کہا ’میں ٹی وی پر آپ کا بیان سن چکا ہوںمگر مجھے حیرت ہے کہ کس بنیاد پر عامر پر الزام عاید کیا گیا ہےوہ تو کسی بھی طرح اس معاملے میں ملوث ہی نہیں جہاں تک میں نے تحقیق کی ہے یہ کام کسی بہت منظم کروپ کا ہے جن کے پاس جدید ترین سائنسی آلات ہیں بھلا عامر بن ہشام کے پاس کیا ہے محض چند بندوقیں٬رائفلیں یا ذیادہ سے ذیادہ چند بم‘ کیپٹن برنٹ بولا ’تم ان باتوں کو نہیں سمجھو گے بس تم اس معاملے کو ختم سمجھواب تو کسی بھی طرح عامر بن ہشام کو پکڑنا ہے‘ صدر نے کہا ’اس طرح کرکے آپ چند بہت برے مجرموں کی پشت پناہی کریں گے میرے ماتحتوں نے تحقیق کر کے پتہ چلایا ہے کہ حادثے کے روز بلڈنگ میں کوئی بھی یہودی حاضر نہیں تھا حالانکہ وہاں سینکڑوں یہودی کام کرتے ہیں انہیں کیسے پتہ چلا کہ حادثہ ہونے والا ہےاگر ان سب کو پکڑ کر پوچھ گچھ کی جائے تو اصل مجرم تک پہنچا جا سکتا ہے‘ کیپٹن برنٹ بولا ’خبردار ایسا کرنے کے بارے میں سوچنا بھی مت کیا تم نہیں جانتے کہ اشریکا میں ہر اہم عہدے پر یہودی موجود ہیں سارا ابلاغ٬ ساری معیشت ان کے قبضے میں ہے ہم ان کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے‘ صدر نے اسے تنبیہ کی ’یہی تو ہماری کمزوری ہےساری دنیا ہمیں سپر پاور سمجھتی ہے اور ہم گبرائیل کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں مجھے پورا یقین ہے کہ یہ کام گبرائیل کا ہے اس نے ہمارے ہزاروں شہری ہلاک کردیے اور ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے‘ کیپٹن برنٹ نفرت سے بولا ’بس اپنی زبان بند رکھو اور چلے جاﺅ اس معاملے میں آگے بڑھے تو انجام اچھا نہیں ہوگا‘ صدر نے اسے دھمکی دی کیپٹن برنٹ اپنے ہونٹ کاٹتا ہوا ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا اور وہاں سے نکل گیا ******************* ******************** ******************** ** ******************** ** پولس آج کل اشریکا کے صدر سے کچھ ذیادہ ہی ملاقاتیں کر رہا تھااس وقت بھی وہ اشریکا کے صدر کے ساتھ تھا ’تم فورا افغان پور پر حملے کی تیاری کرو‘ پولس بولا ’تیاریوں کی تو کوئی ایسی خاص ضرورت نہیں افغان پور میں رکھا ہی کیا ہے مگر ابھی تو ہمیں عامر بن ہشام کے جواب کا انتظار کرنا ہوگااگر اس نے افغان پور چھوڑ دیا تو پھر وہاں حملے کا کیاجواز رہ جائے گا‘ صدر نے کہا ’عامر وہاں رہے یا نہ رہے افغان پور پر اب حملہ کرنا ہی ہےویسے تم فکر نہ کرو عامر اب طالم علموں کی پناہ میں ہے اور وہ اپنی پناہ میں آئے ہوئے شخص کو کبھی افغان پور سے جانے کو نہیں کہیں گے‘ پولس بولا ’پھر بھی ہمیں حملے کے لیے دنیا کو راضی کرنا ہوگا اقوام متحدہ سے اجازت لینا ہوگی‘ صدر نے کہا ’میں نے کہا نا افغان پور پر حملے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور یہ فیصلہ آج نہیں بلکہ کئی سال پہلے ہی ہوچکا ہے اتنے سال تو حالات سازگار کیے گئے ہیں لہذا کوئی ساتھ دے یا نہ دے اور دنیا کتنا ہی شور کیوں نہ مچائے حملہ ضرور ہوگا ویسے تو دنیا اس بار بھی تمہارا ساتھ دے گی کیوں کہ ٹون بلڈنگ کے حادثے میں ساری دنیا کے لوگ مارے گئے ہیں سب افغان پور کے خلاف ہیں یہاں تک کہ اسلامی ممالک بھی اس کے خلاف ہوچکے ہیں سب نے اس سے تعلقات توڑ لیے ہیں صرف عرب اور پاک رہ گیا ہےان پر بھی دباﺅ ڈالو کہ وہ بھی افغان پور سے تعلقات منقطع کرلیں پھر طالب علم ساری دنیا میں تنہا رہ جائیں گے‘ پولس بولا ’ٹھیک ہے مجھے تو آپ جب کہیں گے افغان پور پر حملہ کردوں گا‘ صدر نے کہا ******************* ******************** ******************** ** ******************** ** آخری منصوبہ(۰۱) محمد عادل منہاج اسلام آباد پاک کے صدر بہت فکرمند تھے اختر شاہ ان کے سامنے خاموش بیٹھے تھے ’رات اشریکا کے صدر کا فون آیا تھا اس نے دھمکی دی ہے کہ افغان پور پر حملے میں ہم اشریکا کا ساتھ دیں ورنہ وہ افغان پور کے ساتھ ساتھ پاک کو بھی تباہ کردے گا‘ صدر بولے ’پھر آپ نے اسے کیا جواب دیا؟‘ اختر شاہ نے پوچھا ’جواب کیا دینا تھا بھلا ہم اشریکا کا مقابلہ کرسکتے ہیں میں نے کہ دیا کہ ہم اس کے ساتھ ہیں‘ صدر بولے ’آپ نے بڑی جلدی کی آپ کو اس سے کچھ مہلت مانگ لینی چاہیے تھیافغان پور کی حکومت ہماری دوست ہےاس کی وجہ سے ہماری افغان پور والی سرحدیں محفوظ ہیں‘ اختر شاہ نے کہا ’ہاں مگر اب ہمیں ان سے دوستی ختم کرنا ہوگیہم نے پہلے اپنے ملک کو بچانا ہےافغان پور کے چکر میں ہم خود کو تباہ کیوں کریں‘ صدر بولے ’جناب پاک پر حملہ کرنا اتنا آسان نہیںاشریکا بھی جانتا ہے کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ملک شین ہمارے ساتھ ہےاور پھر پاک پر حملے کا اس کے پاس کوئی جواز نہیںاس نے یونہی دھمکی دی ہے‘ اختر شاہ نے کہا ’اشریکا کہیں حملہ کرنے کے لیے کبھی جواز نہیں ڈھونڈتا اور ملک شین بھی افغان پور کی موجودہ حکومت سے خوش نہیں اس معاملے میں وہ بھی اشریکا کا ساتھ دے گا‘ صدر بولے ’بہرحال آپ کو اتنی جلدی جواب نہیں دینا چاہیے تھا اگر اشریکا کا ساتھ دینا ہی تھا تو اس سے اپنی کچھ شرائط منوالیتے اپنا قرضہ ہی معاف کروالیتےاشریکا یہ جنگ ہماری مدد کے بغیر نہیں لڑ سکتا اس وقت ہم اس سے اپنی باتیں منواسکتے تھے‘ اختر شاہ نے کہا ’ا سنے کہا ہے کہ وہ جنگ کے بعد کاشیر کا مسئلہ حل کروادے گا‘ صدر بولے ’ہنہیہ محض ہمیں ٹرخانے والی بات ہےاشریکا نے آج تک کاشیر کے معاملے میں ہمارا ساتھ نہیں دیا اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ کام نکلنے کے بعد اشریکا ہمیشہ آنکھیں پھیر لیتا ہے‘ اختر شاہ نے کہا ’بہر حال اب تو میں اس سے کہ چکا ہوں ہمیں اس معاملے میں اشریکا کا ساتھ دینا ہی ہوگامیں نے تو آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ آپ کے افغان پور کے طالب علموں کے ساتھ تعلقات ہیں آپ انہیں سمجھائیں کہ وہ عامر بن ہشام کو اشریکا کے حوالے کردیںتاکہ اشریکا افغان پور پر حملہ نہ کرے اور ہم بھی اس مشکل میں نہ پڑیں‘ صدر بولے ’سر اشریکا نے افغان پور پر حملہ کرنا ہی کرنا ہے اگر وہ عامر بن ہشام کو اشریکا کے حوالے کر بھی دیں تو وہ کوئی اور بہانہ ڈھونڈ لے گااور اول تو طالب علم عامر کو اشریکا کے حوالے کریں گے ہی نہیں وہ لوگ جس کو پناہ دے دیں پھر اس کی مرتے دم تک حفاظت کرتے ہیں‘ اختر شاہ نے کہا ’پھر بھی آپ ان سے بات کریں انہیں سمجھا کردیکھیں کیا پتہ کوئی بہتر حل نکل آئے‘ صدر بولے ’آپ کہتے ہیں تو میں ان سے بات کر کے دیکھ لیتا ہوں‘ اختر شاہ نے کندھے اچکائے ******************* ******************** ******************** ** ******************** ** ڈی این این کے لیے پھر حق نمک ادا کرنے کا وقت آگیا تھا کیونکہ توقعات کے مطابق اشریکا نے افغان پور پر حملہ کردیا تھا افغان پور کے طالب علم جواں مردی سے لڑ رہے تھے مگر ان کے پاس اشریکا کے ہوائی حملوں کا کوئی جواب نہ تھا کیونکہ وہ فضائیہ کی قوت سے محروم تھےپھر بھی وہ اپنی سی کوشش کر رہے تھےپوری دنیا میں کوئی بھی ان کا ساتھ دینے والا نہیں تھا سب مسلمان ملکوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی تھیں بلی نے پہلے کبوتر پر حملہ کردیا تھا اور باقی سمجھ رہے تھے کہ وہ اسی سے پیٹ بھر کر چلی جائے گی مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ اس بلی کا پیٹ ایک گہرے کنویں کی طرح ہے جو سارے مسلمان ملکوں کو ہڑپ کر کے ہی بھرے گا افغان پور پر حملے کے ساتھ ساتھ اشریکا طالب علموں کے باغی اتحادیوں کی بھی مدد کر رہا تھا تاکہ وہ بھی ان پر حملے کریں یوں طالب علم دو طرف سے مشکل میں تھے اس کے علاوہ اشریکا افغان پور کے عوام کے دل جیتنے کے لیے جہازوں کے ذریعے خوراک کے پیکٹ بھی پھینک رہا تھا مگر وہ پیکٹ چاروں طرف سے بموں میں گھرے ہوئے ہوتے تھے تباہ حال افغان پور مزید تباہ ہورہا تھا ******************* ******************** ******************** ** ******************** ** ’ماںبھوک لگی ہے‘ وہ چھوٹی سی بچی بولی ’فکر نہ کر بیٹی تیرے ابا کھانا لے کر آتے ہی ںہوں گے‘ اس کی ماں آہ بھر کر بولیاسے پتہ تھا کہ بچی کا باپ اب کبھی نہیں آئے گا ’ماں کیا آج بھی جہاز اوپر سے کھانا پھینکیں گے؟‘ بچی نے پوچھا ’ہاں شاید ‘ ماں کھوئے کھوئے انداز میں بولی اسی وقت فضا میں طیاروں کی گھن گرج گونجی ’ماںماں جہاز کھانا لے کر آگئے میں لے کر آتی ہوں‘ بچی بولی اور تیزی سے باہر بھاگی ’ٹھہر جاٹھہر جا‘ ماں چلائی مگر بچی باہر جا چکی تھی اس نے دیکھا کہ جہازوں نے کئی لمبوتری سی چیزیں نیچے پھینکی تھیں ’کھانا آرہا ہے‘ اس نے خوشی سے تالی بجائی اور پیکٹ پکڑنے کے لیے دونوں ہاتھ اوپر کردیے پھر وہ لمبوترا سا پیکٹ اس کے ہاتھوں پر آگرا اور ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا اور بچی کو خوش ہونے کا موقع بھی نہ ملا کھانے کا پیکٹ مانگنے والی کو اشریکا نے موت کا پیکٹ دے دیا تھا ہسپتال میں مریض تڑپ رہے تھے نہ ان کو دینے کو دوا تھی نہ کھانا ڈاکٹر موت کی سی سنجیدگی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف تھے اور زخموں پر پٹیاں باندھ رہے تھے زخمیوں میں چھوٹے بچے اور عورتیں بھی تھیں یہ وہ لوگ تھے جن کی بستیوں پر اشریکا نے بم برسائے تھے وہ ہر ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑاتا ہوا پورے افغان پور کو تباہ کرنے پر تلا تھاڈاکٹر اپنے کام میں مصروف تھے کہ فضا میں پھر گھن گرج سنائی دی ان کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے ایک ڈاکٹر تیزی سے باہر نکلا اور پھر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں طیاروں نے ہسپتال کو بھی نہ چھوڑا اور اس پر بھی بم باری کردیاب ان زخمی عورتوں اور بچوں کو کسی دوا کی ضرورت نہ رہی تھی اشریکا نے ان کی مدد کردی تھی انہیں موت کی وادی میں پہنچا دیا تھا تاکہ انہیں ان تکلیفوں سے نجات مل جائے ڈی این این اور دوسرے نشریاتی ادارے جنگ کی رپورٹنگ کر رہے تھے مگر انہیں صرف زخمی اشریکی نظر آرہے تھے چیتھڑوں میں اڑتے ہوئے افغان پور کی عورتیں ٬بچے اور بوڑھے نظر نہیں آرہے تھےان کے کیمرے صرف افغان حملہ آوروں کو دکھاتے یا اشریکیوں کے تابوت اور وہ جنہیں تابوت تو کیا دو گز زمین بھی نہ مل سکی وہ ان کیمروں کی زد میں آنے سے بچ جاتےایک اشریکی مارا جاتا تو پورا اشریکا انتقام انتقام چلا اٹھتا کئی ہزار افغان بچے مارے جاتے تو کوئی آواز بلند نہ ہوتی ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا ظالم کی رسی کھینچے جانے میں ابھی وقت تھا ******************* ******************** ******************** ** ******************** ** عامر بن ہشام اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک غار میں چھپے تھے ان کے چہرے پر ندامت تھی ’یہ سب میری وجہ سے ہوا اگر میں افغان پور سے چلا جاتا تو یہ تباہی نہ ہوتی‘ انہوں نے کہا ’نہیں جناب یہ تو ہونا ہی تھا آپ کا تو محض بہانہ بنایا گیا ورنہ اشریکا نہ افغان پور پر حملہ کرنا ہی تھا اس نے اپنے ملک میں خود دہشت گردی کروائی اور الزام آپ پر دھر دیا یہ سارا سوچا سمجھا منصوبہ تھا‘ ایک ساتھی بولا ’میرا خیال ہے کہ اب ہمیں اس جگہ کو بھی چھوڑ دینا چاہیے یہ اب غیر محفوظ ہوچکی ہے‘ ایک اور ساتھی نے کہا ’ہاں تمہارا خیال ٹھیک ہے آﺅ کہیں اور چلتے ہیں ‘ عامر بن ہشام بولے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ غار سے نکلےوہ پہاڑوں میں آگے ہی آگے جارہے تھے کہ انہیں دور سے چند طیارے ادھر آتے نظر آئے ’جلدی چلو طیاروں کا رخ اسی طرف ہے‘ عامر چلائے سب جھکے جھکے تیزی سے آگے بڑھے ادھر طیاروں نے پہاڑوں پر شدید ترین بم باری شروع کر دی ******************* ******************** ******************** ** ******************** ** ’مبارک ہو جنابافغان پور پر ہمارا قبضہ بھی ہوگیا اور وہاں ہماری مرضی کی حکومت بھی بن گئی‘ اشریکا کا صدر بولا ’ہاں یہ ہماری پہلی کامیابی ہےاب تم راک پر حملے کی تیاری کرو‘ پولس نے کہا ’راک پر حملہ! مگر وہ کیوں؟‘ اشریکا کا صدر چونک اٹھا ’تم یہ مت پوچھا کرو کہ کیوں بے وقوف افغان پور تو شروعات ہے اب ایک ایک کر کے تمام اسلامی ملکوں پر قبضہ کرنا ہے‘ پولس نے کہا ’لیکن راک پر حملے کی کوئی وجہ تو ہوپچھلی بار تو اس نے پڑوسی ریاست پر قبضہ کیا تھا تو اس وجہ سے اس پر حملہ کیا گیااور افغان پور پر عامر بن ہشام کے بہانے قبضہ کیا گیا‘ صدر بولا ’اس بار بھی کوئی بہانہ بنا لیں گے فی ا لحال تم یہ پروپیگنڈہ تیز کردو کہ راک خطرناک کیمیائی اور ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہےاور یہ بھی کہ عامر بن ہشام کی تنظیم البرکہ کے دہشت گردوں نے راک میں پناہ لے لی ہے‘ پولس نے کہا ’وہ تو ٹھیک ہے مگر میرا خیال ہے کہ اس بار ہمیں مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا افغان پور کے معاملے میں بھی کئی ممالک اب اشریکا کے خلاف بول رہے ہیںکہ ہم نے وہاں نہتے لوگوں٬بچوں اور عورتوں کو مارا اور اب بھی ان پر ظلم ڈھا رہے ہیں‘ صدر بولا ’جو کہتا ہے کہنے دو اسلامی ممالک کی تو ہمیں پروا نہیں بس یورپ والوں کو سمجھانا ہوگا اور یہ کام میں کرلوں گا ہر ملک میں ہمارے ایجنٹ موجود ہیں تم بس راک پر حملہ کی تیاری کرو جلد ہی حملہ ہوگا‘ پولس نے کہا ******************* ******************** ******************** ** ******************** ** ’اتنا عرصہ ہوگیا ہے مجھے تنظیم میں شامل ہوئے مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی‘ رابرٹ افسردگی سے بولا ’ہاں میں بھی اتنے عرصے سے روپوشی کی زندگی گذار رہا ہوںلگتا ہے قسمت پولس کے ساتھ ہے‘ ڈیوڈ نے کہا ’اس کا آخری منصوبہ تو اب آہستہ آہستہ سامنے آرہا ہےیہ ساری دنیا پر قبضے کا منصوبہ ہے پہلے اشریکا میں دہشت گردی پھر اس کا الزام عامر بن ہشام پراور پھر اس بہانے افغان پور پر قبضہ یہ سب سوچی سمجھی سازش ہے‘ رابرٹ بولا ’ہاں اور اب شاید راک کی باری ہے کیوں کہ اس کے خلاف پروپیگنڈہ تیز ہوگیا ہے‘ ڈیوڈ نے کہا ’سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں دنیا کو یہ کس طرح سمجھائیں کہ یہ پولس کی سازش ہے‘ رابرٹ بولا ’اس کا تو ایک ہی طریقہ ہےکہ کسی طرح اس آخری منصوبے کی کاپی مل جائے‘ڈیوڈ نے کہا ’وہ تو آج تک نہیں مل سکی نہ جانے تمہارے والد نے کہاں چھپا کر رکھی ہے‘رابرٹ بولا ’میں خود حیران ہوں اچھا سنو تم آج رات میرے گھر جاﺅ اور میں نے تمہیں اپنے کمرے میں جو تہ خانے کا راستہ بتایا ہےوہاں سے جاکر میرے کاغذات نکال لاﺅ‘ ڈیوڈ نے کہا ’وہ کیوں؟‘ رابرٹ نے پوچھا ’میں نے سنا ہے کہ وہاں کے سارے مکانات مسمار کیے جارہے ہیںنہ جانے کیا وجہ ہے وہاں کے سب لوگوں سے مکانات خرید لیے گئے ہیں میرا مکان چونکہ عرصے سے بند پڑا ہےاس لیے اسے وہ ویسے ہی گرا دیں گے اس لیے وہاں سے میری چیزیں نکال لاﺅ‘ ڈیوڈ نے کہا ’ٹھیک ہے میں آج رات خاموشی سے جاکر نکال لاﺅں گا‘ رابرٹ بولا ******************* ******************** ******************** ** ******************** **
__________________ اردو ناول |