View Single Post
  #1  
Old 04-22-2008, 05:55 PM
Kartos's Avatar
Kartos Kartos is offline
Star Members
 
Join Date: Mar 2005
Location: Sahafa Street
Posts: 4,255
Thanks: 6
Thanked 6 Times in 3 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 410
Kartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond repute
Default Aap Ke Leyain...(Pagham)...

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد! ۔

عزیز دوستوں!۔
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مسلمان کیا کریں؟؟؟۔۔۔ مگر حقیقی واقعات کے اعتبار سے زیادہ درست سوال یہ ہے کہ دو سو سالہ عمل کے باوجود موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی کوششیں بے نتیجہ کیوں ہوگئیں ہیں؟؟؟۔۔۔

اس سوال کا جواب صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں احیاء کے نام سے تحریکیں اُٹھیں وہ سب کی سب ردعمل کی تحریکیں تھیں نہ کہ مثبت عمل کی تحریکیں۔۔۔ ردعمل کے طور پر جو کام کیا جائے اُس کے بارے میں قدرت کا قانون یہ ہے کہ اُس کا کوئی نیتجہ نہ نکلے۔۔۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی کوششوں کا بے نتیجہ ہوجانا خود قدرت کے قانون کی بناء پر ہے نہ کہ کسی کی سازش یا ظلم کی بناء پر۔۔۔

ردعمل کیا ہے اور مثبت عمل کیا ہے ؟؟؟۔۔۔ رد عمل یہ ہے کہ اپنے مسئلے کا ذمدار دوسروں کو بتا کر اُن کے خلاف لڑائی چھیڑدی جائے اور مثبت عمل یہ ہے کہ مسئلے کو خود اپنی کوتاہیوں کا سبب سمجھا جائے اور اپنے داخلی سبب کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔۔۔

موجودہ دنیا مقابلے اور مسابقت کی دنیا ہے۔۔۔ اس لئے یہ بات بالکل فطری ہے کہ اس دنیا میں ایک کو دوسرے سے زک یانقصان پہنچے آدمی کو چاہئے کہ وہ اس نقصان کو چیلنج کے طور پر لے وہ سمجھے کہ یہ جو کچھ پیش آیا ہے وہ دوسرے کی تیاری اور میری تیاری نہ کرنے کا نتیجہ ہے اور پھر اپنی اس کمی کو دور کرکے اس کا حل نکالے، نہ کہ دوسرے کے خلاف شکایت اور احتجاج کا ہنگامہ کھڑا کردے۔۔۔

موجودہ حالات میں مسلمانوں کو سب سے پہلے یہ کام کرنا ہے کہ وہ اپنی پوری نسل کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کریں تعلیم عورت اور مرد کو باشعور بناتی ہے اور باشعور لوگ ہی معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے ہیں اور اُس کے حل کی واقعی تدبیر اختیار کرکے کامیاب ہوتے ہیں۔۔۔اس سلسلے میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ عمل کو منصوبہ بند انداز میں کیا جائے منصوبہ بند عمل حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے۔۔۔

منصوبہ بند عمل حقائق کی بنیاد پرکیا جاتا ہے اور غیر منصوبہ بند عمل آرزوؤں اور تمناؤن کی بنیاد پر منصوبہ بند عمل نیجہ رخی عمل کہلاتا ہے اور غیر منصوبہ بند عمل خواہش رُخی عمل۔۔۔

دوستوں!۔
منصوبہ بند عمل وہ ہے جس میں داخلی خواہش اور خارجی خواہش حالات دونوں کی مکمل رعایت شامل ہو اور غیر منصوبہ بند عمل وہ ہے جس میں صرف داخلی خواہش کا اظہار ہو اور حقائق کارجی سے اُس کا کوئی تعلق نہ ہو۔۔۔

والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔
__________________


Reply With Quote
The Following 2 Users Say Thank You to Kartos For This Useful Post:
hardstone (04-24-2008), olive (05-08-2008)