Re: کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختار | | بہت شکریہ
----------------------------------------------------- جدھر دیکھتا ہوں تبہ کاریاں ہیں
دغابازیاںہیں، ستم گاریاںہیں
وفاچُھپ گئ جاکے کتِم عدم میں
جِدھرآنکھ اُٹھاؤجفا کاریاں،دل آزایاں ہیں
جہاں سےنکالامِلامخلص ی کو
غرض ہی غرض کی طلبگاریاں ہیں
گرفتارہراک ہے، درہّم دِرہمّ
ملےگرنہ درہم توبےزاریاں ہیں
کہیں تہمتیں ہیں،کہیں غیبتیں ہیں
کہیں جُھوٹ ہےاوردِلآزاریاں ہیں
زر و زور اور عِلم سے عّزتیں ہیں
اگریہ نہیں ہیں توپھرخوایاں ہیں
نہ صنعت نہ حرفت نہ محنت نہ جدت
تو افلاس ہے اورناداراں ہیں
زروسیم سے شاد یاں ہورہی ہیں
قرابت شرافت سے بیزاریاں ہیں
سلکشن ہے نوشاہ کا سینما میں
ہوئ دُور شادی کی دشواریاں ہیں
نا شوفر سے پردہ، نا بٹلرسے پردہ
تو آیاکی بھی نازبرداریاں ہیں
کٹی چوٹیاں سب کی فیشن کے ہاتھوں
بس اب ناک کٹنے کی تیاریاں ہیں
زبان سے توسب تھینکیو بولتے
دلوں میں مگر سب کے مکاریاں ہیں
مسلمان خواب گراں پڑے ہیں
جو مسلم نہیں ان میں بیداریاں ہیں
خدا کوتمہاری غرض کیا پڑی ہے
جوتم کوخُداہی سے بیزایاں ہیں
ڈبویارسوم و تکلّف نے ہم کو
کہ جن کانتیجہ قرضداریاں ہیں
کیا خانہ بربادان شادیوں نے
یہ کیاذلتیں ہیں یہ کیاخواریاں ہیں
سُوّم اورچہلم کی اورعرس کی بھی
عبث قرض سودی سے تیاریا ں ہیں
یہ چلّہ، یہ چھٹی، یہ بسم اللّہ خوانی
سب اسراف ہے جبکہ ناداریاہیں
نہ دولت ہماری نہ دولت تمہاری
اسی طرح اقوام کی باریاں ہیں
یہ آئینئہ دَورِحاضرہے حسرت
کہ جسمیں سراپازیاں ہیں |