Quote:
Originally Posted by Farukh بہت ہی آعلیٰ، اور کیا روانی سے ذھن میں نازل ہوتے الفاظ کی ترتیب دی ہے۔ بہت ہی خوب۔ کنول جی، آپ یقین کریں، کہ شروع سے پڑھتے ہی میرے زھن میں یہ شعر آگیا تھا تُو بچا بچا کہ نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں اور اگلی لائینوں میں آپ نے اسکی بھی تشریح کر ڈالی۔ میں اگلا شعر بھی لکھتا ہوں کیونکہ ایک تو یہ میرے ذھن میں مچل رہا ہے دوسرے آپ کی اس شاندار تحریر کے آخری حصے کا خلاصہ لگتا ہے نہ جہاں میں کہیں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی؟ میرے جُرمِ خانہ خراب کو تیرے عفوِ بندہ نواز میں اور انسان کی حقیقت پر ایک اقبالی چوٹ۔۔۔۔۔۔۔ جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں؟ ہمیشہ کی طرح میرے پاس الفاظ جمع نہیں ہو رہےکہ تعریف کا حق ادا کروں۔ ماشااللہ، آپ کی تحریر بہت اچھی ہے اور اللہ تعالی کی تعریف کرنے کا یہ انداز بےشک مختلف ہے۔ جزاک اللہِ خیرا و کثیرا۔ ہمیشہ اللہ کی رحمتوں میں رہیں۔ آمین۔ |
iqabal ki yeh ghazal to meri fav hey, aur iss tehreer k bohat hasb e haal bhi lag rahi hey...
aur farrukh Allah ki tareef mujh jesa insan to khair kia hi karey ga , bas uskey nawazney ka andaz nirala hey....
bohat shukriya tehreer parhney ka , khush rahyeh @};-