View Single Post
  #1  
Old 07-19-2007, 08:32 AM
AdilMinhaj's Avatar
AdilMinhaj AdilMinhaj is offline
Member
 
Join Date: Jul 2006
Location: Islamabad
Posts: 110

Country:

Tutorials: 0

Thanks: 0
Thanked 0 Times in 0 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 91
AdilMinhaj is on a distinguished road
Default چار گھنٹےFour Hours

چار گھنٹے

ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے کمرے کے باہر اس وقت کامران خان ان کی بیوی اور والدہ موجود تھے کامران خان پریشانی کے عالم میں ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے جبکہ بیگم کامران اور والدہ بنچ پر بیٹھی ہوئی دعائیں مانگ رہی تھیں دونوں کی آنکھیں نم تھیں اسی وقت دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر نکلا اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے کامران خان کا دل اس کا چہرہ دیکھ کع ہولنے لگا
’خخ خیر تو ہے نا ڈاکٹرکیسی ہے میری بچی؟‘وہ لرزتی آواز میں بولے
’مسٹر کامران بچی کی حالت نازک ہےفوری آپریشن کی ضرورت ہےمگر‘ ڈاکٹر کہتے کہتے رک گیا
’مگر کیا ڈاکٹر؟‘کامران خان نے بے چینی سے پوچھادونوں خواتین کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں
’دراصل کیس بے حد پیچیدہ ہے اور سرجن رسک لینے کے لیے تیار نہیںاس کا کہنا ہے کہ وہ اتنا نازک آپریشن نہیں کر سکتا‘
’پھرپھراب کیا ہوگا؟کیا کوئی اور سرجن نہیں‘کامران خان کا رنگ اڑ گیا تھا
’نہیں ان سے ذیادہ ماہر کوئی نہیںہاں آپ کے بھائی بھی تو سرجن ہیںنا‘ڈاکٹر بولا
’جی ہاںمگر وہ تو باہر ہوتے ہیں‘
’آپ انہیں فورا بلوالیں کیونکہ انہوں نے اس شعبے میں سپیشیلائیزیشن کی ہوئی ہے اور وہ کئی پیچیدہ آپریشن بھی کر چکے ہیں میرا خیال ہے کہ وہ یہ آپریشن کر سکیں گے‘ڈاکٹر بولا
’مممیں ابھی انہیں فون کرتا ہوں‘
’ان سے کہیں جیسے بھی ہو فورا پہنچیںسرجن کے خیال میں چار گھنٹے کے اندر اندر آپریشن ہوجانا چاہیے‘
’چار گھنٹے‘ان کے منہ سے نکلا اور گھڑی کی طرف دیکھا دن کے دس بج رہے تھے

دیوار پر لگی گھڑی دس بج کر بیس منٹ دکھا رہی تھی سیکنڈ کی سوئی آہستہ آہستہ آگے سرک رہی تھی
’اب اب کیا ہوگا؟‘بیگم کامران روتے ہوئے بولیں
’ہم کر ہی کیا سکتے ہیںوہاں سے فلائٹ تین گھنٹے بعد روانہ ہوگی اور دو گھنٹے بعد یہاں پہنچے گی‘کامران خان بولے
’یعنی بھائی صاحب کو یہاں پہنچنے میں پانچ گھنٹے لگ جائیں گےمممگر ڈاکٹر نے تو کہا تھا کہ چار گھنٹے کے اندر اندر آپریشن ہوجانا چاہیے‘وہ پریشان ہوکر بولیں
’ہاںمگر ہمارے بس میں ہے ہی کیا؟جو کر سکتے تھے کر چکے اباب تو اور کوئی راستہ نہیں‘وہ مایوسانہ انداز میں بولے
’راستہ کیوں نہیں کامران بیٹےہم اﷲسے دعا کر سکتے ہیں اس کے آگے گڑگڑاکر التجا کر سکتے ہیںوہ ضرور کوئی راستہ نکالے گا اس کے لیے تو کچھ بھی ناممکن نہیں‘ان کی والدہ بولیں
’کیا دعا کرنے سے بھائی جان پانچ کی بجائے چار گھنٹے میں یہاں پہنچ جائیں گے؟‘کامران خان بولے
’ہاںاﷲکرنا چاہے تو یہ بھی کرسکتا ہےوہ کوئی بھی سبیل بنا سکتا ہےجب سارے راستے بند ہوجائیں ساری تدبیریں ناکام ہوجائیں تو اﷲغیب سے ایسی جگہ سے مدد بھیجتا ہے جدھر انسان کا ذہن جا بھی نہیں سکتا‘ان کی والدہ نے کہا
’آپ ہمیشہ ایسی ہی باتیں کرتی ہیں مگر میں نے کبھی ایسی انہونی ہوتے نہیں دیکھی‘
’یہ آپ کس بحث میں پڑ گئے ہیںکیا یہ وقت ان باتوں کا ہےامی جان ٹھیک کہتی ہیں ہمیں بس صرف اﷲسے دعا کرنی چاہیے ناممکن کو ممکن وہی کر سکتا ہے ہم اور آپ کچھ نہیں کر سکتے‘ بیگم کامران بولیں
دراصل کامران خان بھی ان لوگوں میں سے تھے جو مسلمان صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ مسلمان کے گھر پیدا ہوئےورنہ ان کا دین اور مذہب سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتاکامران خان کا خیال تھا کہ دنیا میں انسان کو جو کچھ ملتا ہے وہ صرف اس کے زور بازو سے ملتا ہےیہ اس کی اپنی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ ترقی کرتا ہے جبکہ اس کی والدہ اسے ہمیشہ یہی سمجھاتیں کہ انسان کو جو بھی نعمت ملتی ہے وہ اﷲکی طرف سے ہوتی ہے اور یہ ٹھیک ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لیے وہ کوشش اور جدوجہد کرتا ہے مگر اس میں بھی اﷲکی رضا شامل ہوتی ہے اس لیے ہمیں جو بھی ملے اس پر اﷲکا شکر ادا کرنا چاہیے
انسان میں جب تک طاقت ہوتی ہے جب تک اس پر خوشحالی کا دور رہتا ہے وہ اپنے حال پر مست رہتا ہے بھول کر بھی اﷲکو یاد نہیں کرتا ہر ترقی کو اپنی ذہانت کا نتیجہ سمجھتا ہے اور جب کسی مشکل میں پڑتا ہے تو مادی ذرایع سے اس کا حل تلاش کرتا ہے اگر حل مل جائے تو اس کے غرور میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے وہ اکڑتا ہے کہ وہ ہر مشکل سے اپنی طاقت اور ذہانت کے بل پر نکل سکتا ہے مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سارے مادی ذرایع دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں دولت طاقت ذہانت ہر چیز فیل ہوجاتی ہے ایسی افتاد پڑتی ہے جس کا کوئی حل نہیں ملتا تو انسان چونکتا ہے پھر اسے اﷲکی یاد آتی ہے ہر طرف سے مایوس ہوکر وہ اﷲکو پکارتا ہے اور اﷲبھی کتنا رحیم مہربان اور مشفق ہے کہ جب بھی کوئی اسے پکارتا ہے وہ اسے مایوس نہیں کرتا خواہ وہ کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو
کامران خان کی بھی اس وقت یہی حالت تھی اپنی ہر تدبیر وہ آزماچکے تھےاب نہ ان کی دولت اور نہ ذہانت ان کی بچی کو بچا سکتے تھی دور دور تک کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا اس کا بھائی پانچ گھنٹے سے پہلے نہیں پہنچ سکتا تھا اور ڈاکٹروں کے مطابق چار گھنٹے بعد بچی کی زندگی کو شدید خطرہ تھا کامران خان کا دماغ سوچ سوچ کر خراب ہوچکا تھا آخر جب گھڑی نے گیارہ بجائے توان کے حواس جواب دے گئے اور وہ سجدے میں گر پڑے
’اے اﷲ‘ وہ روتے ہوئے کہ رہے تھے’اب تو ہی ہے جو میری بچی کو بچا سکتا ہے یا اﷲمجھے معاف کردے کہ میں آج تک تجھے بھولا ہوا تھا اپنی طاقت کے نشے میں مست تھایا اﷲ اب کوئی صورت نظر نہیں آتیکوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا بس تو ہی ہے جو کچھ کرسکتا ہے تو چاہے تو سورج کو مغرب سے نکال دے تو کسی بھی طرح میری بچی کو بچالے یا اﷲ کرم کر کہ میری بچی پانچ گھنٹوں تک ٹھیک رہے تاکہ اس کا آپریشن ہو سکے یایا پھر کسی طرح میرے بھائی کو چار گھنٹے کے اندر اندر یہاں بھیج دےتو تو ہر چیز پر قادر ہے‘ان کی آنکھیں آنسوﺅں سے تر تھیںاسی وقت کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی کامران خان نے سجدے سے سر اٹھا کر دیکھا تو دھک سے رہ گئے انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا
’بھائی جان آپمگر آپ کو تو تین بجے کے قریب پہنچنا تھا‘وہ حیرت زدہ لہجے میں بولے
’ہاںبس ایک عجیب و غریب قسم کا واقعہ ہواخیر تم یہ بتاﺅ کہ سرجن کہاں ہے؟‘ان کے بھائی جبران خان نے پوچھا
’اوہ ہاںآئیے‘دونوں تیزی سے کمرے سے باہر نکلے ڈاکٹر بھی انہیں دیکھ کر حیران رہ گئے ٹھیک ساڑھے گیارہ بجے آپریشن شروع ہو چکا تھا

دروازہ کھلا اور جبران خان باہر نکلے
’مبارک ہوآپریشن کامیاب ہوا ہے‘وہ تھکی تھکی مسکراہٹ کے ساتھ بولے
’اﷲکا شکر ہے وہ واقعی اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے‘ان کی والدہ بولیں
بیگم کامران بھی اﷲکا شکر ادا کرنے میں مصروف تھیںکامران خان حیرت سے اپنی گھڑی دیکھ رہے تھے جس پق پورے دو بج رہے تھے چار گھنٹے گزر چکے تھے اور اس دوران آپریشن بھی ہو چکا تھا
’آپ ٹھیک کہتی ہیں امیواقعی اﷲایسی جگہ سے مدد بھیجتا ہے جو انسان کی سوچ سے باہر ہوتی ہے مگر اب تو بتا دیں بھائی جان کہ آپ پانچ کے بجائے محض ایک گھنٹے میں یہاں کیسے پہنچ گئے؟‘ کامران خان نے بے چینی سے پوچھا
’جب کامران کا فون ملا تو میں بے حد پریشان ہوا فورا ائر لائن سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ آج صرف ایک فلائٹ ایک بجے جائے گیخوش قسمتی سے ٹکٹ مل گیا مگر اب مجھے یہاں پہنچنے میں پانچ گھنٹے لگتے میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ اڑ کر پہنچ جاﺅں مگر کیا کر سکتا تھا خیر یہ تین گھنٹے میں نے اﷲسے دعائیں کرتے گزار دیے کہ میرے پہنچنے تک میری بھتیجی کو کچھ نہ ہوپھر میں اپنے وقت پر ائرپورٹ پہنچا اور ایک بجے فلائٹ روانہ ہوئی‘
’ایک بجے! مممگر آپ تو‘کامران خان نے کہنا چاہا مگر جبران نے ان کی بات کاٹ دی
’ہاںہاںتم سنو توایک گھنٹے کا سفر خیریت سے گزرا پھر اچانک جہاز کو ایک جھٹکا سا لگا سب مسافر پریشان ہوگئے میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو حیرت کا ایک جھٹکا لگا جہاز اس وقت سمندر کے اوپر سے گزر رہا تھا مگر نیچے سمندر نظر نہیں آرہا تھا
’جییہ کیا کہا آپ نے؟!‘کامران خان بوکھلا کر بولے ان کی بیوی اور والدہ بھی حیران رہ گئیں
’میں ٹھیک کہ رہا ہوں سب مسافر خوفزدہ ہو گئے تھے اور توبہ استغفار کر رہے تھے ہمیں کھڑکی سے نیچے صرف دھند ہی دھند دکھائی دے رہی تھی جیسے ہر طرف برف ہی برف ہو یا کسی نے فرش پر چونا پھیر دیا ہو پھر پائلٹ نے گھبرائی ہوئی آواز میں بتایا کہ جہاز کے انجنوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے جہاز خود بخود اڑ رہا تھا کنٹرول ٹاور سے رابطہ بھی نہیں ہو رہا تھاپائلٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ جہاز غلطی سے سمندر کے اس حصے پر پہنچ گیا ہے جو برمودہ ٹرائی اینگل کہلاتا ہے‘
’برمودہ‘ کامران خان کے منہ سے نکلا
’ہاںتم جانتے ہو کہ سمندر کا ایک پراسرار حصہ برمودہ ٹرائی اینگل کہلاتا ہے اس علاقے میں جانے والے اکثر ہوائی جہاز اور بحری جہاز غائب ہو جاتے ہیں جن کا کچھ پتہ نہیں چلتالہذا اب اس حصے پر سے کوئی نہیں گزرتا نہ جانے پائلٹ سے یہ غلطی کس طرح ہوئی کہ وہ جہاز کو اس حصے پر لے گیا پائلٹ کے منہ سے یہ سب کچھ سن کر ہم خوفزدہ ہوگئے کہ شاید اب ہم بھی غائب ہو جائیں سب کا رنگ اڑ گیا تھا ہم سوچ رہے تھے کہ نہ جانے اب ہمارے ساتھ کیا ہوہم دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوکر نہ جانے کہاں پہنچ جائیںمگر پھر چند منٹ بعد وہ پراسرار دھند غائب ہوگئی اور نیچے سمندر نظر آنے لگا پائلٹ نے بتایا کہ انجنوں نے کام کرنا شروع کر دیا ہے اور اب سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہےفکر کی کوئی بات نہیںپھر ہمارا باقی سفر آرام سے گزراالبتہ سب حیران اور پریشان تھے کہ یہ سب ہوا کیا تھا جب جہاز نے لینڈ کیا تو ہماری گھڑیوں میں تین بج رہے تھے مگر نیچے اتر کر ہم حیران رہ گئے ائر پورٹ کی گھڑی میں گیارہ بج رہے تھے‘
’کیا مطلب!‘ وہ سب حیران رہ گئے
’ہاںائر پورٹ پر افسران پائلٹ سے پوچھ رہے تھے کہ وہ چار گھنٹہ پہلے کس طرح پہنچ گیا؟یہ جہاز تو یہاں تین بجے پہنچنا تھا پائلٹ کا کہنا تھا کہ وہ تو اپنے وقت پر یعنی تین بجے ہی پہنچا ہے اور واقعی وہ ٹھیک کہ رہا تھا ہم سب ایک بجے روانہ ہوئے تھے اور تین بجے پہنچے تھے مگر یہاں اس وقت گیارہ بج رہے تھے آخر یہ چار گھنٹے کہاں گئے؟پائلٹ کا خیال تھا کہ یہ سب برمودا کے اوپر سے گزرنے کی وجہ سے ہوا ہے وہاں پہلے بھی اس قسم کے واقعات ہو چکے ہیں کہ وہاں سے گزرنے والے جہاز یا تو غائب ہوجاتے ہیں یا پھر ان کا وقت آگے پیچھے ہوجاتا ہے مگر اس علاقے پر سے گزرنا منع ہے اس لیے پائلٹ سے پوچھ گچھ ہو رہی تھی اور وہ کہتا تھا کہ اسے قطعا نہیں معلوم کہ روٹ میں یہ ذرا سی تبدیلی کس طرح ہوئی اور جہاز برمودا پر کس طرح پہنچ گیا وہاں یہ بحث جاری تھی مگر مجھے آپریشن کی فکر تھی اس لیے میں انہیں ساری صورت حال بتا کر ادھر دوڑا آیا‘ جبران خان یہاں تک کہ کر خاموش ہوگئے
’بڑی عجیب داستان سنائی تم نے‘ان کی والدہ بولیں
’نہ جانے وہ کون سی طاقت تھی جس نے ہم سب کو چار گھنٹہ پیچھے کر دیا‘جبران خان بولے
’وہ طاقت اﷲہے یہ سب اﷲکے کام ہیں بیٹاوہ ہمیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے مگر ہم سمجھتے نہیں بھئی جب اﷲرات کے ایک قلیل سے حصے میں نبی کریم صلی اﷲعلیہ وآلہ وسلم کو زمین سے آسمانوں تک بلا سکتا ہے اور سارے آسمانوں کی سیر کرواسکتا ہے وہ سفر جس میں صدیاں درکار ہوں جب مکمل کر کے حضرت محمد صلی اﷲعلیہ وآلہ وسلم واپس آئیں تو بس صرف چند منٹ ہی گزرے ہوں تو وہی اﷲبرمودہ میں بھی وقت کو آگے پیچھے کر سکتا ہے ‘ان کی والدہ نے کہا
’آپ ٹھیک کہتی ہیں امیبرمودہ کا تو در اصل بہانہ بن گیا دراصل اﷲنے ہماری بیٹی کو بچانے کا بندو بست کرنا تھا سو وہ اس طرح کردیا‘بیگم کامران بولیں
’واقعی یا اﷲتو جو چاہے کر سکتا ہے جب سارے راستے بند ہوجاتے ہیں تو تو ایسی جگہ سے راستہ بنا دیتا ہے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا ہم کتنے نا شکرے اور تو کتنا مہربان ہے‘کامران خان کی آنکھوں سے ندامت کے آنسو بہ رہے تھے

__________________
اردو ناول
Reply With Quote