View Single Post
  #1  
Old 06-01-2007, 06:39 AM
AdilMinhaj's Avatar
AdilMinhaj AdilMinhaj is offline
Member
 
Join Date: Jul 2006
Location: Islamabad
Posts: 110

Country:

Tutorials: 0

Thanks: 0
Thanked 0 Times in 0 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 85
AdilMinhaj is on a distinguished road
Default ہم ایک ہیں Hum Aik Hain

ہم ایک ہیں

تھا تو وہ چپراسی ہی مگر اس وقت اپنی اہمیت سے خوب آگاہ تھاصاحب کے کمرے کا دروازہ بند تھا اور باہر ملاقاتیوں کا رش صاحب اور ملاقاتیوں کے درمیان وہ ہی حائل تھاجس کو چاہتا اندر جانے دیتا اور جس کو چاہتا روک دیتاکبھی کبھی تو اس کی اہمیت ہوتی تھی ورنہ تو سب اسے دھتکارتے ہی تھےاس لیے اس وقت وہ گردن اکڑائے کھڑا تھااسی وقت ایک نوجوان ٹہلتے ہوئے اس کی طرف بڑھا
’لگتا ہے میٹنگ کچھ ذیادہ ہی لمبی ہے‘نوجوان بولا
’ہوسکتا ہے ‘اس نے شان بے نیازی سے کندھے اچکائے
’مجھے ذرا جلدی تھی اگر‘نوجوان کا ہاتھ جیب میں گیا اور سو کا نوٹ اس نے چپراسی کی طرف بڑھا دیا
’میں میں بھلا کیا کرسکتا ہوں‘وہ بولااس کی نظریں نوٹ پر جمی تھیں
’بس ذرا اندر جا کر سفارش کر دو‘نوجوان نے چپراسی کا ہاتھ پکڑا اور نوٹ ادھر سے ادھر منتقل ہو گیا
’اچھااچھا میں دیکھتا ہوں‘چپراسی بولا اور کمرے کی طرف بڑھا
’یہیہ تم کیا کر رہے ہو یہ تو اچھی بات نہیں‘اچانک ہی ضمیر بول اٹھا
’اونہہ کوئی میں ہی تو نہیں کر رہاسب یہی کرتے ہیںمیرے نہ کرنے سے کونسا معاشرہ سدھر جائے گا‘چپراسی نے سختی سے ضمیر کو جواب دیاپھر اسے اپنے بیٹے کا خیال آیا جو ایک ہفتے سے نئے جوتوں کے لیے ضد کر رہا تھااس نے سوچا کہ اگر وہ اسی طرح دو چار لوگوں کی اور ملاقات کروادے تو یہاں سے رش بھی کم ہو اور بیٹے کے جوتے بھی آجائیںیہ سوچ کر وہ صاحب کے کمرے کی طرف بڑھا

----------------------------------------------------

کلرک کئی دنوں سے پریشان تھااس کی بیوی مسلسل ضد کر رہی تھی کہ اب وہ موٹر سائیکل خرید لےاب اس سے روز روز بسوں ویگنوں میں سفر نہیں ہوتاہر دوسرے دن کہیں نہ کہیں جانا ہوتا ہےپہلے تو کھڑے کھڑے بسوں ویگنوں کا انتظار کروپھر اس میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھنس کر جاﺅمگر کلرک بھی کیا کرتابچت تو نام کو نہ تھی ساری تنخواہ مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی پھر بھلا وہ موٹر سائیکل کہاں سے خریدتااس وقت بھی وہ کرسی پر بیٹھا یہی سوچ رہا تھاسامنے میز پر بہت سی فائیلیں بے ترتیبی سے بکھری پڑی تھیںوہ اس وقت چونکا جب سامنے والی کرسی پر کوئی آکر بیٹھ گیااس نے نظر اٹھا کر دیکھا
’آپ آپ پھر آگئےآپ کو کہا تو تھا کہ آپ کا کام ہو جائے گا‘کلرک منہ بنا کر بولا
’جناب پورے مہینے سے تو چکر لگا رہا ہوںآج اگر آپ مہربانی کر کے فائل نکال دیں تو‘سامنے بیٹھا شخص بے چارگی سے بولا
’اچھا اچھا ابھی مجھے اور کام بھی ہیںآپ جائیں آپ کا کام اس ہفتے میں ہو جائے گا‘کلرک نے بار بار کا کہا ہوا جملہ پھر دہرایا
’بس سر آج تو مہربانی کر ہی دیں‘وہ شخص بولا اور ایک لفافہ اس کی طرف بڑھایا
’یہ یہ کیا ہے ؟‘کلرک ہکلایا
’بس جی معمولی سا نذرانہ ہے قبول کر لیں‘وہ بولا
’اوہو اس کی کوئی ضرورت نہیں تمہارا کام ہو جائے گا‘کلرک بولا
’بس سر آج ہی کر دیں‘وہ بولا
’اچھا اچھا دیکھتا ہوں‘کلرک نے لفافہ اٹھایا اور کھول کر دیکھاتو اس میں ہزار ہزار کے تین نوٹ تھےاس نے سوچا کہ اگر اسی طرح کے چند لفافے اور مل جائیں تو فائلوں کا ڈھیر بھی کم ہو اور موٹر سائیکل بھی آجائے
’یہ یہ تم کیا کر رہے ہو یہ تو اچھی بات نہیں‘اچانک ہی ضمیر بول اٹھا
’اونہہ کوئی میں ہی تو نہیں کر رہاسب یہی کرتے ہیںمیرے نہ کرنے سے کونسا معاشرہ سدھر جائے گا‘کلرک نے سختی سے ضمیر کو جواب دیااور لفافہ دراز میں رکھ کر اس شخص کی فائل ڈھونڈنے لگا


-----------------------------------------------------


انسپکٹر ٹانگ پر ٹانگ رکھے اطمینان سے بیٹھا تھابرابر والے کمرے سے چیخوں کی آوازیں آرہی تھیں شاید کسی کی لترول ہو رہی تھی مگر انسپکٹر تو کچھ اور ہی سوچ رہا تھابڑے عرصے سے اس کی آرزو تھی کہ اس کا اپنا گھر ہوپلاٹ تو اس نے کافی عرصہ پہلے کا لیا ہوا تھااب گذشتہ مہینے سے تعمیر بھی شروع کرا دی تھی مگر تخمینہ کچھ غلط ثابت ہوا تھامزید پیسوں کی ضرورت تھی مہنگائی بھی تو روز بڑھتی جا رہی تھی سیمنٹ سریا ہر چیز کی قیمت آسمانوں سے باتیں کر رہی تھی اور پھر اس کے گھر والوں کی فرمائش تھی کہ گھر بہت شاندار بننا چاہیےامریکن کچن ٹائلڈ باتھ روم کارپیٹڈ کمرےاب اتنا پیسہ وہ کہاں سے لائےجو کچھ تھا وہ تیزی سے ختم ہو رہا تھااسی وقت سپاہی ایک ادھیڑ عمر شخص کو لیے اندر داخل ہوا
’سریہ صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں‘سپاہی بولا
’ایں ہاں بولو کیا بات ہے؟‘انسپکٹر چونک کر بولا
’سر وہ کل آپ نے چھاپہ مار کر کچھ لڑکوں کو پکڑا ہے‘ادھیڑ عمر شخص بولااور انسپکٹر کو یاد آیا کہ کل اس نے کچھ لڑکوں کو جوا کھیلتے ہوئے پکڑا تھا
’ہاںتو پھر؟‘اس نے پوچھا
’جی وہ بات دراصل یہ ہے کہ اس میں میرا بیٹا بھی شامل ہے‘وہ شخص ہچکچا کر بولا
’اوہ تو یہ بات ہے‘انسپکٹر نے گھورا
’بس جی پتہ نہیں ان چکروں میں کیسے پڑ گیاویسے تو بہت شریف لڑکا ہےاس کے دوستوں نے اسے بری عادتیں ڈال دی ہیں‘وہ شحص بولا
’تو پھر اب بھگتے گا تم یہاں کیا لینے آئے ہو‘انسپکٹر منہ بنا کر بولا
’سر اگر آپ مہر بانی کریں تو میں اس کی ضمانت دینے کو تیار ہوںآیندہ وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کرے گااس شخص نے کہا
’نہیں بابا نہیں اب تو پرچہ کٹ چکا اب کچھ نہیں ہو سکتا‘انسپکٹر بولا
’سر آپ چاہیں تو سب کچھ ہو سکتا ہےآپ تو بادشاہ آدمی ہیں‘وہ شخص بولا
’کہا نااب کچھ نہیں ہو سکتاجاﺅاب تو اسے سزا بھگتنا ہوگی‘انسپکٹر بولا
’وہ جی اس وقت بس اتنا ہی بندوبست کر سکا ہوں‘اس نے چند کرارے نوٹ انسپکٹر کی طرف بڑھائے
’یہیہ کیا ہے ؟‘انسپکٹر نے اسے گھورا
’بس سر رکھ لیںاور مہربانی کر کے میرے بیٹے کو چھوڑ دیں‘اس نے کہااور انسپکٹر نے ان ہزار ہزار کے دس نوٹوں کی طرف دیکھااس نے سوچا کہ ابھی تو پانچ لڑکے اور بھی ہیںاگر سب کو چھوڑ دیا جائے تو ایک تو ان کے گھر والوں کی دعائیں ملیں گی اور دوسرے امریکن کچن بھی بن جائے گا
’اچھا تم شریف آدمی لگتے ہواس لیے چھوڑ رہا ہوںآیندہ احتیاط کرنا‘انسپکٹر نے نوٹ جیب میں ٹھونستے ہوئے کہا
’یہ یہ تم کیا کر رہے ہو یہ تو اچھی بات نہیں‘اچانک ہی ضمیر بول اٹھا
’اونہہ کوئی میں ہی تو نہیں کر رہاسب یہی کرتے ہیںمیرے نہ کرنے سے کونسا معاشرہ سدھر جائے گا انسپکٹر نے سختی سے ضمیر کو جواب دیااور لڑکے کو نکالنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا

---------------------------------------------------------

وہ صرف قومی اسمبلی کا ممبر ہی نہیں تھا بلکہ اب تو وزیر بھی تھااس کی مسلسل چاپلوسیوں کے نتیجے میں وزیر اعظم نے اسے صنعتوں کی وزارت سونپی تھی اور اس کے ایک ہفتے بعد ہی اس نے شوگر مل لگانے کا فیصلہ کر لیا جب کہ اس کا پہلے ہی جوتوں کا ایک کارخانہ بھی تھااسلام آبادکراچی اور لاہور میں اس کی بڑی بڑی کوٹھیاں تھیںاب اس نے مری میں ایک کوٹھی بنوانا تھی مگر کوٹھی اور شوگر مل کے لیے پیسہ چاہیے تھاکچھ اس کے پاس تھا کچھ بینک سے قرضہ لینا تھا اور کچھ کی مزید ضرورت تھی اب پیسہ کہاں سے آئے ایم این اے کی تنخواہ ہی کتنی ہوتی ہے اور خرچے بے شمار
آج وہ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپس آیا تو اس کا موڈ خاصا خراب تھااسمبلی میں اپوزیشن سے اچھی خاصی جھڑپ ہوئی تھی وہ آرام کے لیے لیٹا ہوا تھا کہ ملازم نے کسی کے آنے کی خبر دی وہ تیار ہو کر ڈرائینگ روم میں پہنچا تو چونکاملک کا بہت بڑا صنعتکار اس کے ڈرائینگ روم میںبیٹھا تھا
’خیریت تو ہے جناب؟‘وزیر بولا
’بس جی خیریت کہاں ایک نئی انڈسٹری لگا رہا ہوںاین او سی ہی نہیں ملتاپچھلے وزیر نے جان بوجھ کر معاملہ لٹکایا ہوا تھااب خبر ملی کہ وزارت آپ کو مل گئی ہے تو یقین کریں بہت خوشی ہوئی یقین مانیں آپ ہی اس عہدے کے لائق ہیں‘صنعتکار بولا
’بس آپ کی ذرہ نوازی ہے‘وزیر نے کہا
’اب تو امید ہے ہمارا کام بھی ہو جائے گا‘صنعتکار بولا
’دیکھتے ہیں ابھی تو مجھے سارا کیس دیکھنا ہوگاکچھ پتہ ہی نہیں‘وزیر بولا
’سارا کیس میں اپنے ساتھ لایا ہوںیہ دیکھیں‘صنعتکار نے ایک بریف کیس وزیر کے سامنے رکھ کر کھول دیااوپر ہی ایک فائل پڑی تھی اس نے فائل اٹھائی تو چونکافائل کے نیچے نوٹوں کی گڈیاں رکھی تھیں
’یہ یہ سب کیا ہے؟‘وزیر نے پوچھا
’بس جی آپ کو وزارت ملنے کی خوشی میں چھوٹا سا نذرانہ ہےاگرچہ آپ کے لیول کا تو نہیں مگر کیا کریں جی حالات ہی بڑے خراب جا رہے ہیں‘صنعتکار بولا
اور وزیر نوٹوں کی ان گڈیوں کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کہ اگر اور صنعتکار بھی اسی طرح کے بریف کیس لے کر آئیں تو ایک تو ملک میں صنعتوں کا جال بچھے گادوسرے مری میں کوٹھی بن جائے گی ملک کا بھی فائدہ اور اپنا بھی
’کہاں سائن کرنے ہیں ؟‘اس نے فائل کھول کر پوچھا
’یہ یہ تم کیا کر رہے ہو یہ تو اچھی بات نہیں‘اچانک ہی ضمیر بول اٹھا
’اونہہ کوئی میں ہی تو نہیں کر رہاسب یہی کرتے ہیںمیرے نہ کرنے سے کونسا معاشرہ سدھر جائے گا وزیر نے سختی سے ضمیر کو جواب دیا
’بس ادھر سائن کردیں‘صنعتکار بولا اور وزیر نے سائن کر دیے

ختم شد


__________________
اردو ناول
Reply With Quote