View Single Post
  #1  
Old 05-24-2007, 11:35 AM
Kartos's Avatar
Kartos Kartos is offline
Star Members
 
Join Date: Mar 2005
Location: Sahafa Street
Posts: 4,256

Country:

Tutorials: 0

Thanks: 6
Thanked 6 Times in 3 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 418
Kartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond repute
Default ** وہ پہلا شخص کون بنے گا **

سہیل کا غصہ قابل دید تھا۔ بھائی صاحب یہ گاڑی ہٹائیں یہاں سے۔ گلی کے سامنے آپ نے گاڑی کھڑی کر دی ہے میری گاڑی کیسے گزرےگی۔ کتنے بے حس انسان ہیں آپ۔

شکور : اوہ معذرت خواہ ہوں لیکن جن کی گاڑی ہے وہ سامان لا نے گیا ہے ابھی آتا ہے۔ بس چند لمحے۔

جمالا : اوئے بابو اے گڈی اتھوں ہٹا۔ میری بھینس کیسے گزریگی۔ جانتے ہیں گلی تنگ ہے گزرنے کی جگہ کم ہے پھر بھی گاڑی کو گلی میں گھسا لیا۔ نکالو گاڑی۔ پتا نہیں کہاں سے آ جاتے ہیں راستہ روکنے

سہیل: بھائی معزرت خواہ ہوں یہ گاری جیسے نکلتی ہے آپ کو راستہ مل جائیگا بس چند منٹ کی بات ہے۔

ماسڑ فرید : یہ گلی کیا بھینسوں کا طبیلہ ہے ۔ جسے دیکھو بھینس شہری علاقہ میں پال رہا ہے۔ کم از کم بھینسوں کے لئے شہری آبادی سے دور جگہ دیکھیں۔ اور یہ گلی کیا انسانوں کے لئے ہے یا بھینسوں نے روز گزرنا ہے۔
راستہ چھوڑو جلدی سے۔

جمالا: معاف کرنا ماسٹر صاحب کیا کریں برسوں سے رہ رہے ہیں ۔ آپ کی بات ٹھیک ہے بھینسوں کو شہری آبادی میں نہیں پالنا چاہئے-غریب لوگ ہیں کیا کریں۔ ابھی وہ گاڑی ہٹ جائیگی تو یہ گاڑی ہٹ جائیگی اور پھر میں بھینس نکال لونگا۔

ماسٹر فرید ۔ غریب ہو تو کیا کسی کا احساس نہیں کروگے دوسروں کو تکلیف دیتے شرم نہیں آتی۔

کھڑکی کھول کر خالہ پروین چلا کر کہتی ہے۔ ماسٹر صاحب آپ کو گلی میں شور مچاتے شرم نہیں آتی- گھر میں بیمار دادا جی ہیں وہ سو رہے ہیں- دوسروں کی تکلیف کا احساس ہے آپ کو- پتا نہیں بچے آپ سے کیا سیکھتے ہونگے۔

ماسٹر فرید۔ میں معزرت خواہ ہوں ۔ مجھے معلوم نہیں تھا ۔

آخر کون کریگا دوسرے کا احساس ۔ کوئی دوسرے کا احساس بھی نہ کرے اور امید رکھے کہ اس کا احساس کیا جائیگا۔ اگر ہر شخص صحیح کام کرنے لگے تو سب ٹھیک ہو جائے۔ کیا خیال ہے۔

وہ پہلا شخص میں بنونگا جو دوسرے کا احساس کریگا اور ایسی بات سے دور رہیگا جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچے۔

احساس سے عاری ہو تو انسان بھی ہے پتھر
ہیرہ چمک اٹھنے سے شرارہ نہیں بنتا
__________________


Reply With Quote