آخری منصوبہ7,8 | | آخری منصوبہ(۷) محمد عادل منہاج اسلام آباد
پولس کے چہرے پر سختی کے آثار تھےاس کے سامنے بیٹھے لوگ دم بخود اسے دیکھ رہے تھے
’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ افغان پور میں یہ طالب علم کہاں سے نکل آئے جنہوں نے افغان پور پر قبضہ کرنا شروع کردیا ہے یہ پہلی بار ہے کہ کوئی بات میرے منصوبے کے خلاف ہوئی ہے‘پولس بولا
’سر اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ہم ان طالب علموں کو کچل کر رکھ دیں گے‘نمبر پانچ بولا
’نہیں ہم کوئی کام ڈائرکٹ نہیں کرسکتےتم نے دیکھا نہیں کہ عرب ریاستوں پر قبضے کے لیے کتنا لمبا منصوبہ بنایا گیاپہلے راک سے پڑوسی ریاست پر قبضہ کروایا پھر دنیا کو اس کے خلاف کیاعرب ریاستوں کو راک کا خوف دلا کر اشریکا کی فوج وہاں داخل کیاگر ہم ڈائرکٹ عرب ممالک میں اڈے قائم کرنا چاہتے تو وہ کبھی اس کی اجازت نہ دیتے بلکہ الٹا ہمارے خلاف ہوجاتے اب اگر ان طالب علموں کے خلاف کاروائی کی گئی تو دنیا ہمارے خلاف ہوجائے گی کہ ہم افغان پور میں مداخلت کر رہے ہیں‘ پولس بولا
’تو پھر کیا کیا جائے؟‘ نمبر آٹھ نے پوچھا
’ایلن کے منصوبے میں افغان پور پر قبضے کا طریقہ تو بیان کیا گیا ہے مگر اس میں وقت لگے گا خیر فی الحال سیاسی طور پر کوششیں کی جائیں کہ عالمی فضا ان طالب علموں کے خلاف ہوجائےملک پاک کو دھمکایا جائے کہ وہ ان کی مدد نہ کرے‘ پولس نے کہا
’ہم نے پاک کے وزیر اعظم سے بات کی تھی مگر وہ کہتا ہے کہ ہم ان کی مدد نہیں کر رہے‘ اشریکا کا نمائندہ بولا
’وہ غلط کہتا ہے پاک کی انٹیلی جنس ان کی مدد کر رہی ہےخیر اسے دوبارہ سختی سے کہو ورنہ اس کی امداد بند کردو دوسرے راک میں بھی اب تک حاکم برسراقتدار ہے اتنی پابندیاں بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں مسٹر راڈ ‘ پولس نے کہا تو ڈی این این کا ڈائرکٹر کھڑا ہوگیا
’حکم جناب‘ وہ بولا
’تم ڈی این این پر مسلسل راک کے حاکم کے خلاف خبریں لگاﺅ کہ وہ کیمیائی ہتھیار بنا رہا ہے اور اپنے ملک کی اقلیتوں پر ظلم ڈھا رہا ہے‘ پولس نے کہا
’ٹھیک ہے سر ایسا ہی ہوگا‘ راڈ بولا
’اور ہاں تمہیں یاد ہے کچھ عرصہ قبل افغان پور کی جنگ کے دوران تم نے عامر بن ہشام کی بھی خوب تعریفیں کی تھیں اسے ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا تھا‘ پولس نے کہا
’جی ہاں وہ آپ کا ہی حکم تھا‘راڈ بولا
’ہاںمگر اب سنو جیسا کہ تم جانتے ہو کہ عامر بن ہشام کی ایک چھوٹی سی تنظیم ہے البرکہ اب تم عامر اور اس کی تنظیم کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردو کہ یہ دہشت گردوں کی تنظیم ہے جہاں بھی کوئی گڑبڑ ہو البرکہ کا نام لگادو یہ پروپیگنڈہ بھی کرو کہ عامر بن ہشام افغان پور کے طالب علموں کی مدد کر رہا ہےانہیں اسلحہ دے رہا ہےان طالب علموں کے ظلم کے قصے بیان کرو کہ وہ افغان پور میں اپنے مخالفین پر ظلم و ستم کر رہے ہیں عورتوں کے حقوق کی پامالی کر رہے ہیںساری این جی اوز کو ان کے خلاف بھڑ کادو‘ پولس نے کہا
’ٹھیک ہے سر میں ابھی جا کر ہدایات دے دیتا ہوں‘ راڈ بولا
******************* ******************** ******************** ** ******************** **
’مبارک ہو سر‘ فون پر حسن علی کی آواز سن کر اختر شاہ چونک اٹھے
’حسن تم! تم کہاں سے بات کر رہے ہو؟‘انہوں نے چونک کر پوچھا
’سر میں ابھی ابھی افغان پور سے لوٹا ہوں‘وہ بولا
’ اوہ اچھاتم مبارک باد کس چیز کی دے رہے تھے؟‘ انہوں نے پوچھا
’سر طالب علموں نے افغان پور فتح کر لیا ہےانہوں نے دادرالحکومت پر قبضہ کرلیا ہے اور کمیونسٹ لیڈر کو پھانسی دے دی ہے‘ حسن نے بتایا
’اوہ ! یہ تو واقعی خوشی کی خبر ہےشاید اب وہاں امن قائم ہوجائے‘ اختر شاہ بولے
’ایسا ہی ہوگا سر میں نے ان طالب علموں کے ساتھ خاصا وقت گذارا ہےوہ پکے مسلمان ہیں اور افغان پور میں امن قائم کرنے کے خواہاں ہیںسر ہماری حکومت کو انہیں تسلیم کرلینا چاہیے‘ حسن علی بولا
’میرا خیال ہے کہ خکومت انہیں تسلیم کرلے گی کیونکہ حکومت میں ان کے لیے نرم گوشہ پایا جاتا ہے‘اختر شاہ نے کہا
’اشریکا اس صورت حال پر برہم ہےاشریکا کے اخبارات اور ڈی این این مسلسل ان کے خلاف بول رہے ہیں کہ وہ افغان پور میں ظلم کر رہے ہیں‘ حسن علی بولا
’ظاہر ہے اشریکا بھلا کسی بھی ملک میں سچی اسلامی حکومت کیسے برداشت کر سکتا ہےافغان پور کے حالات اشریکا ہی نے تو بگاڑے تھےوہ چاہتا تو لاس کے نکلنے کے بعد وہاں ایک متفقہ حکومت بنواسکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا وہ تو چاہتا ہی یہ ہے کہ ہر اسلامی ملک میں افراتفری پھیلی رہے عدم استحکام رہےخیر اسے تڑپنے دو وہ فی الحال ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘ اختر شاہ نے کہا
’یس سر ویسے بھی وہ طالب علم اشریکا کو خاطر میں نہیں لاتےوہ ہمارے لیڈروں کی طرح بزدل اور دوغلے نہیں‘حسن علی بولا
’تم ایسا کرو کہ شام میں دفتر آجاﺅ شاید اس وقت تک طالب علموں کی حکومت کا سرکاری اعلان بھی ہوجائے‘ اختر شاہ نے کہا
’ٹھیک ہے سر میں شام میں آپ سے ملتا ہوں‘حسن علی بولا
******************* ******************** ******************** ** ******************** **
’بالآخر ان طالب علموں نے افغان پور پر قبضہ کرلیاکچھ ممالک نے انہیں تسلیم بھی کرلیا اور تم منہ دیکھتے رہے‘پولس بولا
’جناب ہم بھلا دوسرے ملکوں کو انہیں تسلیم کرنے سے کیسے روک سکتے ہیںتاہم میں نے اقوام متحدہ کو ہدایت کر دی ہے کہ ان کی حکومت کو تسلیم نہ کیا جائےانہیں کم از کم اقوام متحدہ میں تو سیٹ نہیں ملے گی‘ اشریکا کا صدر بولا
’ہوں ٹھیک ہے اس کے علاوہ تم افغان پور کے دوسرے لیڈروں کی امداد جاری رکھو تاکہ وہ ان کے خلاف کاروائیاں کرتے رہیںاخبار ٹی وی ہر جگہ سے ان کے خلاف پروپیگنڈہ جاری رکھو کہ یہ لوگ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں عورتوں پر ظلم کر رہے ہیںانہیں گھروں میں قید کر رہے ہیںلوگوں کو زبردستی داڑھی رکھوارہے ہیںدنیا میں ان کا امیج خراب کرو‘پولس نے کہا
’یہ سب تو میں کر ہی رہا ہوں مجھے خود یہ لوگ پسند نہیں‘ اشریکا کا صدر بولا
’ہوں اور گبرائیل فلسان امن منصوبے کا کیا ہوا؟‘ پولس نے پوچھا
’آپ جانتے ہیں ہیں کہ سب مسلمان گبرائیل کو غاصب کہتے ہیں جس نے مسلمانوں کے مقدس ملک فلسان پر قبضہ کر رکھا ہےفلسان کے نہتے لوگ کب سے گبرائیل کے خلاف لڑ رہے ہیںپھر بھی آپ کے کہنے پر میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ فلسان کے لیڈر گبرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرلیںمگر اس کے لیے ہمیں فلسان کو کچھ علاقے پر حکومت دینا ہوگی‘ اشریکا کا صدر بولا
’ٹھیک ہے ان کا منہ بند کرنے کے لیے کچھ علاقہ انہیں دے دوتاکہ یہ لڑنا چھوڑیںمیں ان کے خود کش حملوں سے تنگ آگیا ہوںاس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں‘پولس نے کہا
’میں کوشش کرتا ہوں کہ اسی مہینے میں فلسان اور گبرائیل میں امن معاہدہ ہوجائےفلسان کا اصل لیڈر تو ہمارے ساتھ ہےبس ایک عسکری تنظیم مزاحمت کر رہی ہے خیر اس کا علاج بھی کر لیں گے‘صدر بولا
******************* ******************** ******************** ** ******************** **
’جناب آپ نے یہ خبر پڑھی‘ایک نوجوان نے اخبار عامر بن ہشام کی طرف بڑھایا
’ہاں میں دیکھ رہا ہوں کہ کچھ عرصے سے ہماری پرامن تنظیم البرکہ کو دہشت گرد مشہور کیا جا رہا ہے اب یہ جو بم دھماکہ ہوا ہے ا س میں بھی البرکہ کو ملوث کر دیا گیا ہےحالانکہ ہمارے فرشتوں کو بھی نہیں معلوم کہ یہ کام کس کا ہے‘ عامر بن ہشام نے کہا
’آپ کو فورا تردیدی بیان دینا چاہیے‘ نوجوان بولا
’وہ تو میں دوں گا ہی مگر اسے کسی اخبار میں جگہ نہیں ملے گیہر جگہ یہودی اور ان کے ایجنٹ چھائے ہوئے ہیںہر ملک کے بڑے بڑے نشریاتی اداروں میں ان کے ہمدرد موجود ہیں اب میری سمجھ میں آرہا ہے کہ افغان پور میں اشریکا نے میری مدد کیوں کی تھی وہ پہلے مجھے مسلمانوں کے لیڈر کے طور پر مشہور کرانا چاہتا تھا اور اب مجھے دہشت گرد ثابت کرنا چاہ رہا ہے تاکہ یہ ثابت ہو کہ ساری دہشت گردی مسلمان کر رہے ہیں کاش اس وقت یہ سازش میری سمجھ میں آجاتی‘ عامر بن ہشام افسوس سے بولے
’میرا تو خیال ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے ہمیں واقعی اشریکا اور گبرائیل کے خلاف کاروائیاں کرنی چاہیئیں تاکہ انہیں عقل آئے‘ نوجوان غصے میں بولا
’نہیں اس طرح توان کی بات سچ ثابت ہوجائے گیانہیں بکنے دو جو بکتے ہیں ہمیں خلوص کے ساتھ اپنا کام کرتے رہنا چاہیے نتیجہ اﷲپر چھوڑ دوفی الحال تو ہم ریاست سان جائیں گے جہاں لاس مسلمانوں پر ظلم ڈھارہا ہےوہاں کے لوگوں کو ہماری ضرورت ہے ‘ عامر بن ہشام نے کہا
******************* ******************** ******************** ** ******************** **
’آپ تو جانتے ہیں کہ جبرستان دو ہفتے قبل ایٹمی دھماکے کر چکا ہے اب سیاسی جماعتوں اور عوام کی طرف سے مجھ پر مسلسل دباﺅ پڑ رہا ہے کہ ہمیں بھی ایٹمی دھماکہ کر دینا چاہیے آج کی یہ میٹنگ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے‘ پاک کے وزیر اعظم نے کہا
’سر یہ تو ساری دنیا جانتی ہے کہ پاک بھی ایٹمی طاقت ہے اس لیے دھماکے کرنے نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ اگر ہم دھماکے نہ کریں تو جبرستان پر دباﺅ بڑھ جائے گاساری دنیا اسے برا کہے گی‘ ایک وزیر نے کہا
’میں اس سے متفق نہیں ہم ایک عرصے سے دیکھتے آرہے ہیں کہ دنیا کا رویہ جبرستان کے ساتھ اور ہے اور پاک کے ساتھ اور اشریکا ٬لاس اور دوسرے بہت سے ممالک جبرستان کو اہمیت دیتے ہیں اسی لیے جبرستان ہر وقت ہمیں دھمکاتا رہتا ہے اور اب خود کو ایٹمی طاقت منوانے کے بعد تو وہ اور بھی شیر ہوجائے گا اگر ہم نے دھماکے نہ کیے تو اسے ہماری بزدلی سمجھا جائے گا‘ ایک ایم این اے زور دار انداز میں بولا
’مگر میں آپ کو یہ بتادوں کہ مجھے اشریکا کا صدر مسلسل فون کر رہا ہے اور دھمکیاں دے رہا ہے کہ ہم دھماکے نہ کریںاگر ہم نے ایسا کیا تو وہ ہم پر پابندیاں لگا دے گا‘ وزیراعظم نے کہا
’پابندیاں تو ہم پر پہلے سے بھی لگی ہوئی ہیںپہلے اشریکا نے کب ہمارا ساتھ دیا ہے وہ ہر معاملے میں جبرستان کو سپورٹ کرتا ہےکاشیر کے مسئلے پر اس نے آج تک ہماری حمایت میں ایک بیان نہیں دیالہذا اس کی دھمکیوں کی پروا نہ کی جائے‘ اختر شاہ بولے
’مگر ہم اشریکا کا مقابلہ نہیں کرسکتےدھماکوں کے بعد وہ کھلم کھلا دشمنی پر اتر آئے گا‘ دوسرا وزیر بولا
’لیکن اگر دھماکے نہ کریں تو عوام ہمارے خلاف ہوجائے گیاپوزیشن ہمارے خلاف تحریک شروع کردے گیہمیں حکومت بچانا مشکل ہوجائے گا‘ ایک وزیر نے خدشہ ظاہر کیا
’دیکھیں میرا بھی یہی خیال ہے کہ ہمیں دھماکے کرنا ہی پڑیں گے ورنہ حالات ہمارے خلاف ہوجائیں گےاشریکا تو دھمکیاں دے رہا ہے مگر کچھ دوست ممالک ہمارے ساتھ بھی ہیں پڑوسی دوست ملک شین بھی چاہتا ہے کہ ہم دھماکے کردیں کیونکہ جبرستان ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد اب شین کے مقابلے پر آنا چاہتا ہے‘ وزیراعظم نے کہا
’بس تو پھر دیر کس بات کی ہے آپ اپنے سائنسدانوں کو اشارہ کردیں‘ اختر شاہ بولے آخری منصوبہ(۸) محمد عادل منہاج اسلام آباد
’پاک نے ایٹمی دھماکے کرڈالے اور تم منہ دیکھتے رہے‘ پولس غصے میں بولا
’میں نے پاک کے وزیراعظم کو کئی بار فون کیا٬دھمکیاں بھی دیں مگر اس معاملے پر اس نے میری ایک نہ سنیاور پھر شین بھی اس کا ساتھ دے رہا ہےاب بھلا اور میں کیا کرسکتا ہوں‘ اشریکا کا صدر منہ بنا کر بولا
’اس پاک کو بھی سبق سکھانا ہوگا بس افغان پور٬راک اور اس کے پڑوسی ملکوں کے بعد پاک ہی کی باری آئے گیپاک پر قبضہ ہوتے ہی ساری اسلامی دنیا ہمارے زیرنگیں ہوجائے گیاب وہ وقت دور نہیں فی الحال تو تم پاک پر سخت پابندیاں لگوادو اس کی ہر طرح کی امداد بند کردو‘پولس نے کہا
’مگر ہمیں ساتھ ہی جبرستان پر بھی پابندیاں لگانا پڑیں گی کیونکہ اس نے بھی دھماکے کیے ہیں ورنہ دنیا اعتراض کرے گی‘ صدر بولا
’ٹھیک ہے دکھاوے کے لیے جبرستان پر بھی پابندیاں لگا دوبعد میں اٹھالینا یوں بھی جبرستان کی معیشت اتنی مضبوط ہے کہ پابندیوں سے اسے کوئی فرق نہیں پڑے گاالبتہ خفیہ طور پر اس کی امداد کرتے رہنا‘ پولس نے کہا
’وہ تو میں کرتا ہی رہتا ہوںجبرستان آخر ہمارا دوست ہے‘ صدر بولا
’ہوں اب پاک کے وزیراعظم کا بھی بندوبست کرنا ہوگا اس کے خلاف تحریک چلواﺅ تاکہ یہ کرسی سے اترے‘ پولس نے کہا
’اس وقت یہ مشکل ہے دھماکے کرکے وہ ہیرو بن چکا ہے اس کے خلاف تحریک نہیں چلے گی پھر اسمبلی کی اکثریت اس کے ساتھ ہے‘ صدر بولا
’پھر مجھے ہی کوئی منصوبہ بنانا پڑے گامیرا خیال ہے کہ اس کے فوج کے ساتھ تعلقات خراب کروائے جائیں دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکایا جائے تو ہمارا کام بن سکتا ہے‘ پولس نے کہا
’ یہ اب آپ کا مسئلہ ہے جیسے چاہیں ا س معاملے کو ہینڈل کریں‘ صدر بولا
’میں اپنے کسی منصوبہ ساز کی ڈیوٹی لگاتا ہوں بس چند مہینوں کی بات ہے ایسے حالات پیدا ہوجائیں گے کہ اسے کرسی تو کیا ملک بھی چھوڑنا ہوگا‘پولس نے کہا
’افغان پور پر طالب علموں کی حکومت خاصی مستحکم ہوچکی ہے ان کا بھی کوئی بندوبست کرنا ہی ہوگا‘ صدر بولا
افغان پور کی فکر نہ کرو طالب علموں کو کچھ عرصہ حکومت کرلینے دو بس انہیں بدنام کرنے کی مہم جاری رکھو اور عامر بن ہشام پر بھی دہشت گردی کے الزامات لگاتے رہواب بس کچھ عرصے کی بات ہے پھر منصوبے کا تیسرا حصہ شروع ہوگا اور ایک ایک کرکے تمام اسلامی ممالک پر ہمارا قبضہ ہوجائے گا‘ پولس نے فخریہ لہجے میں کہا اور اشریکا کا صدر سر ہلانے لگا پولس نے مسکرا کر اسے دیکھا اور دل ہی دل میں سوچا کہ اسلامی ممالک پر قبضے کے بعد عیسائیوں کی باری آئے گی پھر پوری دنیا پر یہودیت راج کرے گی مگر اشریکا کا صدر اس بات سے بے خبر خوش ہورہا تھا
******************* ******************** ******************** ** ******************** **
اگلے چند سالوں میں عالمی حالات و واقعات خاصے بدل چکے تھےاشریکا کی فوجیں عرب ملکوں میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھیں اور عملا عرب ممالک ان کے قبضے میں تھے بہت سے اسلامی ملکوں میں اسلامی حکومتوں کے تختے الٹے گئے جہاں کوئی اسلامی حکومت برسراقتدار آنے لگتی اس کے خلاف بغاوت کروادی جاتیبہت سے ملکوں پر دباﺅ ڈال کر گبرائیل کو تسلیم کروالیا گیا اور فلسان کو ایک چھوٹا سا علاقہ دے کر ٹرخادیا گیا مگر فلسان کے لوگوں نے خودکش حملے شروع کردیے جس سے گبرائیل خاصا پریشان تھا کئی ملکوں کے ایٹمی پروگرام بند کروادیے گئے پاک پر بھی مسلسل دباﺅ پڑ رہا تھا مگر حیرت انگیز طور پر وہ ابھی تک بچا ہوا تھا
جگہ جگہ مسلمانوں پر ظلم ہورہے تھا مگر مسلمان آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے کسی کو کسی کی پروا نہ تھیایک ملک پر ظلم ہوتا تو باقی سارے چپ رہتےاسی لیے ظالموں کے حوصلے بڑھ رہے تھے ہر مسلم حکومت کو بس اپنی فکر تھی کہ اپنے آپ کو بچاﺅ باقی دنیا جائے بھاڑ میں اور مسلمانوں کی اس نااتفاقی سے کافر فائدہ اٹھا رہے تھے یہی وہ حالات تھے جن میں گبرائیل کی خفیہ تنظیم کے سربراہ پولس نے گبرائیل کے صدر کے ساتھ ایک میٹنگ کی اس میٹنگ میں اور کوئی شریک نہیں تھا پولس جو اب کافی بوڑھا ہوچکا تھا گبرائیل کے صدر کے ساتھ ایک خفیہ مقام پر موجود تھا
’اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم اس عظیم منصوبے کے تیسرے اور سب سے اہم حصے پر عمل شروع کریں آج میں آپ کو مختصرا بتادوں کہ ایلن کا منصوبہ دنیا پر یہودیت کے قبضے کے لیے ہے پہلے حصے میں مسلمان ملکوں پر قبضے کا منصوبہ ہے اور دوسرے میں عیسائیوں اور دیگر ممالک پر پہلے حصے کے پھر تین حصے ہیں جس میں سے پہلے حصے میں ہم نے افغان پور پر کام کیا اور لاس کو وہاں سے نکالا ورنہ وہ ایک بڑی طاقت بن کر ایشیا پر قبضہ کر لیتا اب لاس ایک معمولی سا ملک بن کر رہ گیا ہے دوسرے حصے میں راک پر کام کیا گیا اور اس سے پڑوسی ریاست پر قبضہ کرواکے ہم نے تمام عرب ممالک می ںاشریکا کی فوجیں بٹھادیں اب تیسرا حصہ شروع ہوگا اور ایک ایسا بھیانک کھیل شروع ہوگا جس میں ساری دنیا ملوث ہوجائے گی مگر کسی کو پتہ نہیں چلے گا کہ ہو کیا رہا ہے اب ہر اسلامی ملک پر ہمارا قبضہ ہونے والا ہے بظاہر سارا کام اشریکا کرے گا مگر اس کے پیچھے ہمارا ہاتھ ہوگا آج کی میٹنگ میں اشریکا کے صدر کو اسی لیے نہیں بلایا کہ اگر اسے پتہ چل گیا کہ ہم کیا کرنے والے ہیں تو وہ ہمارے خلاف ہوجائے گا‘ پولس نے کہا
’آخر آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟‘ گبرائیل کا صدر بے چین ہوگیا
’سنیے ‘ پولس نے اسے منصوبے کی تفصیلات بتائیں
’یہ یہ تو بہت خطرناک کام ہوگا ہزاروں لوگ مارے جائیں گےخود بہت سے یہودی بھی ہلاک ہوجائیں گے جب کہ ہم تعداد میں پہلے ہی تھوڑے ہیں‘ گبرائیل کا صدر پریشان ہوکر بولا
’نہیں ہم یہودیوں کو بچالیں گےانہیں پہلے ہی خبردار کردیا جائے گابس اب آپ دیکھتے جائیں کہ کیا ہوگا‘ پولس سفاکانہ لہجے میں بولا
******************* ******************** ******************** ** ******************** **
وہ اپنی کار سے اترا سامنے ایک عظیم الشان بلڈنگ تھی جس کی سب سے اونچی منزل کو دیکھنے کے لیے اگر سر اوپر اٹھایا جائے تو شاید آدمی پیچھے گر پڑے مگر ا س شخص کو بلڈنگ کی اونچائی سے کوئی سروکار نہ تھا وہ تو تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا آٹومیٹک دروازے سے اندر داخل ہوگیا لفٹ میں داخل ہوکر اس نے ۵۶ ویں منزل کا بٹن دبایا اور سبک رفتار لفٹ تیزی سے اوپر چڑھنے لگی۵۶ ویں منزل پر اتر کر وہ راہداری میں آگے بڑھتا گیا اور کمرہ نمبر۵۱۱ کے دروازے پر رکا ا سنے اپنی جیب سے کارڈ نکال کر کارڈ مشین میں لگایا تو دروازہ کھل گیایہ اس کا شاندار آفس تھاآفس میں بیٹھ کر اس نے چند فون کیے اور پھر دراز کھول کر کچھ دیکھنے لگا مگر وقت دروازے کی گھنٹی بجی اس نے میز پر لگا بٹن دبا کر دروازہ کھول دیا ایک لمبے قد کا آدمی اندر داخل ہوا
’ہیلو میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں؟‘ اس نے پوچھا
لمبے آدمی نے جواب میں جیب سے ایک کارڈ نکال کر اسے دکھایا تو وہ چونک اٹھا
’آپ ‘ اس کے منہ سے نکلتے نکلتے رہ گیا
’کل آپ آفس نہیں آئیں گے‘ لمبا آدمی بولا
’مگر کیوں؟‘ اس نے چونک کر پوچھا
’کوئی سوال کرنے کی اجازت نہیں بس کل آپ آفس نہیں آئیں گے اور اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کریں گے‘ یہ کہ کر لمبا آدمی باہر نکل گیا اور یہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا
جلد ہی لمبا آدمی ایک اور آفس میں داخل ہوا وہاں بھی اس نے کارڈ دکھایا اور بولا’ کل آپ آفس نہیں آئیں گے‘
’وہ کیوں ؟‘ آفس والا چونک اٹھا
’دس از آرڈر اور اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کرنا‘ لمبا آدمی بولا اور نکل گیا
وہ بلڈنگ کی مختلف منزلوں میں چکر لگاتا رہا اور کئی آفسوں میں جا کر اسی طرح ہدایات دیتا رہا جو بھی اس کی بات سنتا شش و پنج میں مبتلا ہوجاتانہ جانے کل آنے میں کیا قباحت تھی؟
******************* ******************** ******************** ** ******************** **
جہاز میں موجود سب لوگ اپنے آپ میں مگن تھے اندر باتوں کا ملا جلا سا شور تھا ائر ہوسٹس لوگوں کو کافی پیش کر رہی تھی کاک پٹ میں بیٹھے پائلٹ بھی خوش گپیوں میں مصروف تھے مگر پھر اچانک پائلٹ کی آنکھوں میں الجھن نظر آئی
’کیا ہوا؟‘ کوپائلٹ نے پوچھا
’عجیب سی بات ہے جہاز کا رخ خود بخود دائیں طرف ہوگیا ہے‘ پائلٹ نے کہا
’یہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘ کوپائلٹ حیرت سے بولا پھر اس نے سامنے نقشے پر نظر ڈالی تو وہ بھی گھبرا گیا
’اوہ واقعی! فورا اس کا رخ بدلو یہ تو روٹ سے ہٹ گیا ہے‘ کو پائلٹ گھبرا کر بولا
پائلٹ نے جہاز کا رخ بدلنے کی کوشش کی مگر پھر اس کی آنکھوں میں خوف دوڑ گیا
’یہ یہ کیا ! آلات نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے‘ وہ پریشان ہوکر بولا
’یہ آخر ہوکیا رہا ہے؟‘ کو پائلٹ بولا اور پھر جلدی جلدی دونوں آلات کا جائزہ لینے لگے
’ یہ یہ سب کیا ہے! پورا سسٹم جام ہوچکا ہے کنٹرول ٹاور سے رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہےاور جہاز خود ہی ایک نئی سمت میں اڑا جا رہا ہے‘ کو پائلٹ خوفزدہ انداز میں بولا
’جہاز کے کمپیوٹرائزڈ پروگرام میں گڑبڑ کی گئی ہے اور اس میں ایک نیا روٹ آٹو فیڈ کردیا گیا ہےجہاز اس وقت اسی روٹ پر جا رہا ہےاس کے علاوہ تمام آلات جام ہوگئے ہیں‘ پائلٹ نے کہا
’مم مگر یہ ہوا کیسے؟ جہاز کو تو پرواز سے پہلے چیک کیا جاتا ہے‘ کو پائلٹ حیرانگی سے بولا
’ہاں اس کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ یہ گڑبڑ چیک کرنے والوں نے ہی کی ہے‘ پائلٹ نے کہا
’اب اب کیا ہوگا ؟ جہاز تو نہ جانے کس طرف جا رہا ہے‘ کوپائلٹ بولا
’ہم اس کے علاوہ اور کیا کرسکتے ہیں کہ ایک بار پھر آلات کا جائزہ لیںشاید ہم اسے ٹھیک کرسکیں‘ پائلٹ نے کہا
دونوں پھر آلات کھ طرف متوجہ ہوگئے مگر پھر ان کی نگاہوں میں خوف دوڑ گیاجہاز کی ونڈ اسکین سے انہیں ایک بہت بلند عمارت نظر آرہی تھیاور جہاز ٹھیک اس عمارت کی طرف بڑھ رہا تھا
’یہ یہ جہاز تو اس عمارت سے ٹکرا جائے گا اسے روکو روکو‘ کوپائلٹ گھبرا کر بولا
’ہم ہم بھلا اسے کس طرح روکیں؟بس ہماری موت کا وقت قریب آچکا ہے‘ پائلٹ نے ڈھیلی ڈھالی آواز میں کہا اس کے جسم سے جان نکل چکی تھی
اب مسافروں کو بھی صورت حال کا اندازہ ہوچکا تھاوہ سب چیخ چلا رہے تھےکچھ لوگ دھڑا دھڑ کاک پٹ کے دروازے کو پیٹ رہے تھےمگر اندر موجود پائلٹوں کو تو جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھاوہ تو پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے دیکھ رہے تھےجہاز تیزی سے عمارت کے قریب ہوتا جا رہا تھا اور پھر وہ ایک زور دار دھماکے کے ساتھ عمارت سے جا ٹکرایا
******************* ******************** ******************** ** ******************** ** |