HallaGulla: Urdu Poetry/Shayari & Literature Community & Forum.
Urdu Poetry/Shayari Forum


Download Urdu Books
Watch Movies
Urdu Poetry/Shayari Forum
Go Back   Urdu Poetry/Shayari Forum > Urdu Adab > Urdu Writer's Club

Notices

Urdu Writer's Club A place for new & famous Urdu Writers. If you write Urdu Columns, Urdu Article, Urdu Short Stories, Urdu Afsanay, Urdu Darama, Tanz o Mazah, Khakay, Inshaiye, Urdu Makalmay/Mukalmay, or just Khudkalami, share it here or read of others.


Reply
 
LinkBack Thread Tools
  #1  
Old 05-08-2008, 03:11 PM
imkan's Avatar
Member
 
Join Date: Nov 2007
Posts: 2
Thanks: 0
Thanked 0 Times in 0 Posts
Rep Power: 0
imkan is on a distinguished road
Default کیا متوسط آدمی بھی فاقوں پر مجبور ہے؟

کیا متوسط آدمی بھی فاقوں پر مجبور ہے؟
زبیر احمد ظہیر email4zubair@yahoo.com
غر بت میں کمی کیسے ہوگی؟ اس سوال سے ہماری قومی ترقی جڑی ہوئی ہے۔ قوموں کے خوش حال مستقبل کا بچت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔پیٹ کاٹ کر یہ دولت جوڑی جاتی ہے اور پھر آڑے وقتوں کا م لائی جاتی ہے،مکان خریدا جاتاہے یا بچوں کی شادیاں کرائی جاتی ہیں ،یہ دونوں کام ایسے ہیں جن کا کرنا ضروری ہے اور ان پر خرچہ بھی زیادہ آتا ہے۔
یہ زیادہ پرانے وقتوں کی بات نہیں ،آج بھی پیدائش سے ہی بچوں کے نام سے پس انداز کرنے والے ایسے دور اندیشوں کی کمی نہیں جو بچائی ہوئی رقم ان بچوں کی پڑھائی ،گھر بنانے اور شادی بیا ہ پر خرچ کر تے ہیں ۔ پس انداز کرنے کا یہ سلسلہ اس وقت بآسانی انجام پاتا ہے جب آمدنی خاطر خواہ ہو ۔آج ہمیں کمر توڑ مہنگائی کا سامنا ہے یہ آج سے تیس سال پہلے شروع ہوئی جس کے بعدمجموعی طور پر بچت میں کمی آنا شروع ہوگئی تیس سال پہلے کا وہ دن اور آج کا دن ہماری غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا چلاگیا اوربچت کے رواج میں کمی آتی گئی اب اسکی شرح میں کئی سو فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ گرانی اب یہ نوبت لے آئی کہ اخراجات زیادہ ہوگئے ہیں اور آمدن کم ہے لہذا کمانے والی جان قرضوں میں جکڑ گئی ہے دوہری ملازمتوں کے باوجودبھی بجٹ چلانامشکل ہوگیا ہے ،اس صورت حال میں بچت کر نا ناممکن ساہوکر رہ گیا ہے اب دووقت کی روٹی پوری ہوجائے توشکر بجالایا جاتا ہے۔

آج ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی بن گیا ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے ہماری آبادی کی غالب اکثریت متوسط طبقے پر مشتمل ہے اس درمیانے طبقے کو مہنگائی نے سب سے زیادہ متاثر کردیاہے درمیانے درجے کا یہ سفید پوش مسائل سے بھاگ کر کسی فٹ پاتھ بیٹھ سکتا اور نہ ہی یہ راتوں رات امیر بن سکتاہے اس نے بیک وقت اپنی غربت کو بھی چھپانا ہے اور سفید پوشی کے لیے امیروں کی نقالی بھی کر نی ہے یہ فٹ پاتھ پر بے سدھ پڑا کوئی فقیر ہے نہ ہی کوئی ارب پتی ،غربت اورمال داری کی ان دومثالوں کے برعکس متوسط آدمی نے اپنی تنگ دستی کو بھی دبانا ہے ، خاندان اورمعاشرے میں اپنی ناک کٹنے سے بھی بچانی ہے لہذا مہنگائی اس متوسط آدمی کے بوجھل کندھوں پر مزید بوجھ بن گئی ہے متوسط طبقہ ہماری مجموعی آبادی کی غالب اکثریت ہے ملکی ترقی میں اس کی اہمیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے۔

دووقت کی روٹی کی فکر میں مبتلاءشخص سے ملکی ترقی کی امید نہیں باندھی جاسکتی ،ساہوکارانہ ذہنیت کے سرمایہ دارگنتی کے ہونگے یہ مٹھی بھر سرمایہ دار ،جاگیردار ملکی ترقی سے زیادہ اپنی دولت دوگنی کرنے کی دھن میں مگن رہتے ہیں لہذاملکی ترقی آبادی کی اس متوسط اکثریت کی مرہوں منت ہوتی ہے غربت ،سرمایہ داری ہویا جاگیرداری ان میں سے کسی ایک کو بھی مکمل ختم نہیں کیا جاسکتا ان زمینی حقائق میں ملکی ترقی کی امید متوسط طبقے کے اجتماعی کا م سے پوری ہوتی ہے آج اس غالب آبادی کو مہنگائی نے بری طرح متاثر کردیا ہے جس کی وجہ سے متوسط آدمی تیزی سے غریبی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

ہمارا ملک آج مہنگائی کے جس دور سے گزر رہا ہے اس سے متاثر نہ ہونے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے 16کروڑ آبادی کے اس ملک میں 40 ارب پتی خاندانوںسے وابستہ اہل ثروت کی تعدادکروڑوں میں نہیں لاکھوں میں ہے ان کی تعداد مجموعی آبادی میں 3فیصد سے زیادہ نہیں۔پیٹرول گیس اوربجلی سے لیکر خوردنی اشیاءتک کوئی شے ایسی نہیں جس کی قیمتوںمیں مسلسل اضافہ نہ ہوا ہو یہ اشیاءہر شہری کی بنیادی ضرورت ہیںلہذا مہنگائی پوری قوم کامشترکہ مسئلہ ہے متوسط آدمی جسے عام آدمی بھی کہا جاتا ہے اس مہنگائی کی مسلسل زد میں ہے آٹے کی قلت اور بحران نے اس جلتی پر تیل چھڑکا،آٹے کے منہ مانگے دام لگے یوں مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی۔ مہنگائی فاقوں تک نوبت پہنچائے یہ ضروری نہیں لیکن آٹے کا بحران ضرور فاقے کرواتا ہے۔ ایک انتہائی غریب آدمی کو اپنی غربت چھپانے کی فکر ہوتی ہے نہ امیر کو مال داری جتلانے کی مجبوری ہوتی ہے مگر متوسط آدمی کو اپنے محدود وسائل سے ڈھیروں مسائل کا حل نکالنا ہوتا ہے اس لیے اسے اپنے وسائل کی کمی کو چھپانا ہوتا ہے اورمعاشرے کے سارے رواجوں پر بھی چلنا ہوتا ہے اس کمر توڑگرانی نے آج متوسط آدمی کو انہی معاشرتی روایات کا ساتھ دیتے دیتے غریب بنانا شروع کردیا ہے۔
آج کی تیزرفتار نقالی نے آرائشی فضول خرچی کوضرورت بنا دیا ہے ہر متوسط گھر کی اس ضرورت نے قسطوںکے کاروبار کو رواج دیا جس نے متوسط خاندانوں کو مقروض بنادیاہے۔کریڈٹ کارڈ سے بنکوں کی مہنگی گاڑیوںکی لیز تک ،ہاوسنگ اسکیموں سے ہاوس بلڈنگ کی نسل در نسل در قسطوں تک عام آدمی قرضوں میں ڈوبتا چلا گیاہے متوسط آدمی کوبہتر مستقبل کی خاطر اپنے بچوںکو معیاری تعلیم دلانی ہوتی ہے معیار کی اس تقسیم نے تعلیم کو مہنگی مجبوری بنادیاہے متوسط آدمی کو اپنے بہن بھائیوںکی ضرورتوںکا بھی خیال رکھنا ہوتاہے مشترکہ خاندانی نظام اوروسیع قریبی رشتہ داروں کی روایات میں ان ضرورتوں کی امید معقول روزگار رکھنے والے سے لگائی جاتی ہے اس امید پر متوسط آدمی کو پورا اترنا پڑتا ہے اس متوسط آدمی پر اپنے بچوںکی شادیوں کی ذمے داری بھی ہے اسے بچیوں کے مناسب رشتوں کا مسئلہ بھی در پیش ہے مناسب رشتوں کامعاملہ تنہا ہماراہی نہیں پورے عالم اسلام کا مسئلہ بن گیا ہے۔ہمارے ہاں بچیوں کے مناسب رشتوں کا مسئلہ اتناسنگین نہیں جتنا مسئلہ وسائل کی کمی کا ہے۔ وسائل کی اس کمی نے منظر نامہ اتنا تبدیل کردیا ہے کہ یوں محسوس ہوتاہے جیسے بچیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیاہے ۔اتنا ضرور ہے کہ پہلے کئی خاندانوں میں خواتین کا قحط ہوا کرتا تھا اب وہ نہیں رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ بے روزگاری اور مالی وسائل کی کمی نے بچوں کے والدین کی ہمت ہی توڑ دی ہے جس سے مناسب رشتوں کا فقدان محسوس ہونے لگا ہے ملک کی غالب اکثریت کی آمدنی 7 ہزار روپے سے کم ہے اور نت نئی بیماریوں، بڑھتے ہوئے ٹریفک یادیگر حادثات کی صورت میںآنے والے بے حساب اخراجات کی اچانک افتاد ایسی ہے جسکا کوئی وقت مقرر نہیں۔ان مصائب اور کئی خاندانوںکی کفالت کرنے والوں کے لیے50 ہزار سے ایک لاکھ تک کی خاطرخواہ ماہانہ آمد ن بھی ناکافی ہوکر رہ گئی ہے ان حالات نے متوسط طبقے کی خوشی تہس نہس کردی ہے۔

ہمارے ہاں غربت میں جو اضا فہ ہورہا یہ غربت پل بھر میں جنم نہیں لیتی یہ آج کی مہنگائی میں متوسط آدمی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے ادھر غربت میں اضافہ ہوتا ادھر ایک متوسط آدمی کی کمی ہوجاتی اس صورت حال نے متوسط آدمی کو بتدریج غریب بنانا شروع کر دیا ہے ان حالات میں اچھے حال ،بہتر مستقبل کی جستجو میں مگن ایک عام متوسط آدمی جس کا گھریلوبجٹ کنٹرول سے باہر ہوگیا ہے اس کے لیے زمین کی خریداری ، مکان کی تعمیراوربچوں کی شادیوںکے لیے رقم پس انداز کرنا ناممکن ساہوکر رہ گیا ہے بچوںکا بہتر مستقبل والدین کی ایک ایسی مجبوری ہے جس کی آغوش سے جرائم کی درجنوں اقسام جنم لیتی ہیں جرائم کا کہیں نہ کہیں تعلق مجرم کے پیٹ ،زیر کفالت چھوٹے بہن بھائیوں،والدین اوربچوںکے پیٹ سے ہوتا ہے اولاد کی محبت سے ایک متوسط آدمی کوقطعی طور پر الگ نہیںکیا جاسکتا لہذا بچوںکے بہتر مستقبل اور شادی بیا ہ کے لیے اس مہنگائی میںپس اندازکرنے کے لیے ایک وقت پیٹ کاٹنا آج مجبوری بن گیا ہے اور یوں بچت کرنے والے متوسط آدمی کیلے نوبت اب فاقوںتک پہنچ گئی ہے ہم متوسط آدمی کواس پریشانی سے نکالے بغیرغربت کے خاتمہ تو رہا ایک طرف اس میںکمی کا بھی دعوی نہیں کرسکتے اورمتوسط آدمی کو غربت کی قبرکے کنارے سے واپس لائے بغیر اس سے ملکی ترقی میںفعال کردار کی امید نہیں لگاسکتے کسی ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورت حال تشویشناک ہے۔ملک ترقی یافتہ ہویا ترقی پذیر اس کا دارومدار متوسط آدمی پر ہی ہوتا ہے۔
Attached Images
File Type: jpg 01.jpg (76.4 KB, 2 views)
File Type: jpg 02.jpg (59.3 KB, 2 views)
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Spurl this Post!Reddit! Wong this Post!
Reply With Quote
Sponsored Links
Reply
Tags:



Thread Tools

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is On
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are On

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
tahir ul qadri tayyib qadri Discussion Corner 13 03-27-2008 08:21 PM
Divaan e Mirza Asad Ullah Khan Ghalib - Unicode WebMaster Urdu Books 0 01-20-2008 06:07 PM
Film: Khuda kay Liye (In The Name Of God) handsome Discussion Corner 77 08-08-2007 08:24 AM
آخری منصوبہ(Last Episode) AdilMinhaj Urdu Writer's Club 7 05-28-2007 11:24 AM
آخری منصوبہ7,8 AdilMinhaj Urdu Writer's Club 5 05-22-2007 08:56 AM


All times are GMT +1. The time now is 08:57 AM.


x

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61 62 63 64 65 66 67 68 69 70 71 72 73 74 75 76 77 78 79 80 81 82 83 84 85 86 87 88 89 90 91 92 93 94 95 96 97 98 99 100 101 102 103 104 105 106 107 108 109 110 111 112 113 114 115 116 117 118 119 120 121 122 123 124 125 126 127 128 129 130 131 132 133 134 135 136 137 138 139 140 141 142 143 144 145 146 147 148 149 150 151 152 153 154 155 156 157 158 159 160 161 162 163 164 165 166 167 168 169 170 171 172 173 174 175 176 177 178 179 180 181 182 183 184 185 186 187 188 189 190 191 192 193 194 195 196 197 198 199 200 201 202 203 204 205 206 207 208 209 210 211 212 213 214 215 216 217 218 219 220 221 222 223 224 225 226 227 228 229 230 231 232 233 234 235 236 237 238 239 240 241 242 243 244 245 246 247 248 249 250 251 252 253 254 255 256 257 258 259 260 261 262 263 264 265 266 267 268 269 270 271 272 273 274 275 276 277 278 279 280 281 282 283 284 285 286 287 288 289 290 291 292 293 294 295 296 297 298 299 300 301 302 303 304 305 306 307 308 309 310 311 312 313 314 315 316 317 318 319 320 321 322 323 324 325 326 327 328 329 330 331 332 333 334 335 336 337 338 339 340 341 342 343 344 345 346 347 348 349 350 351 352 353 354 355 356 357 358 359 360 361 362 363 364 365 366 367 368 369 370 371 372 373 374 375 376 377 378 379 380 381 382 383 384 385 386 387 388 389 390 391 392 393 394 395 396 397 398 399 400 401