HallaGulla: Urdu Poetry/Shayari & Literature Community & Forum.
Urdu Poetry/Shayari Forum


Download Urdu Books
Watch Movies
Urdu Poetry/Shayari Forum
Go Back   Urdu Poetry/Shayari Forum > Urdu Adab > Urdu Writer's Club

Notices

Urdu Writer's Club A place for new & famous Urdu Writers. If you write Urdu Columns, Urdu Article, Urdu Short Stories, Urdu Afsanay, Urdu Darama, Tanz o Mazah, Khakay, Inshaiye, Urdu Makalmay/Mukalmay, or just Khudkalami, share it here or read of others.


Reply
 
LinkBack Thread Tools
  #1  
Old 03-19-2008, 12:48 AM
faheemkhan's Avatar
Member
 
Join Date: Nov 2007
Posts: 11
Thanks: 0
Thanked 1 Time in 1 Post
Rep Power: 18
faheemkhan is on a distinguished road
Post Diary - مسلمان حکمران نہیں بدلے

بنو امیہ کی حکومت چار سو ہجری کے شروع میں کس طرح ختم ہوئی یہ مندرجہ ذیل اقتباسات سے اندازہ لگایے اور سوچیے کیا موجودہ دور کے مسلمان حکمران اب بھی ویسے کے ویسے ہی ہیں یا پھر ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل چکے ہیں۔ کیا اب بھی مسلمان حکمران غیروں کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بنے ہوئے؟ کیا اب بھی دشمان اسلام مسلمانوں کی ریشہ دوانیوں سے فائدہ اٹھا کر ان کے تیل کے ذخائر پر قابض نہیں ہوچکے؟ کیا اب بھی مسلمان غیروں کی مدد سے لیس ہوکر ایک دوسرے کا گلا نہیں کاٹ رہے؟ کیا تب سے ہم مختلف ملکوں میں بٹ کر اپنی اپنی حکمرانی کی خواہشات پوری نہیں کررہے؟
“سلیمان مستعین نے جب دیکھا کہ اس شہر کا فتح ہونا دشوار ہے اور فوج کے لیے سامان حسب ضرورت فراہم نہیں کرسکتا تو اس نے ابن اوفونش یعنی عیسائی بادشاہ کے پاس سفیر بھیج کر درخواست کی کہ تم ہماری مدد کرو اور حسب ضرورت سامان رسد اور فوج بھیجو تاکہ ہم قرطبہ پر حملہ آور ہو کر تخت خلافت حاصل کرلیں۔ اس پیام سلام کی خبر قرطبہ میں مہدی کے پاس پہنچی تو اس نے بھی عیسائی بادشاہ کے پاس پیغام بھیجا اور اپنی طرف مائل کرنے کے لیے وعدہ کیا کہ ہم تمام سرحدی قلعے اور شہر تمہارے سپرد کریں گے۔ دونوں کے پیغامات سن کر عیسائی بادشاہ نے مستعین کی امداد کرنی مناسب سمجھی اور ایک ہزار بیل، پندرہ بکرے اور ضروری سامان مستعین کے پاس بھیج دیا۔ اس کے بعد فوج بھی امداد کے لیے روانہ کی۔ سخت خون ریزی کے بعد مہدی کو شکست ہوئی بیس ہزار اہل قرطبہ میدان سراوق میں مقتول ہوئے۔ یہ فتح چونکہ عیسائیوں کی مدد سے مستعین کو حاصل ہوئی تھی لہذا عیسائیوں کی خوب خاطر مدارات ہوئی اور قرطبہ کے علما فضلا کا بہت بڑا حصہ ان عیسائی وحشیوں کے ہاتھوں شہید ہوا۔ خلیفہ مہدی نے طلیطلہ میں پہنچ کر عیسائی بادشاہ اوفونش سے پھر خط و کتابت کی اور اس کو اپنی مدد پر آمادہ کیا۔ عیسائی بادشاہ اس موقع کی اہمیت کو خوب پہچانتا تھا اور وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس وقت مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر کمزور کردینے کا نہایت ہی اچھا موقع حاصل ہے۔ چنانچہ اس نے مہدی سے فوراٌ عہدنامہ لکھا کر جس قدر فوج اس کی مدد کو بھیج سکتا تھا بھیج دی اور اس بات کی مطلق پرواہ نہیں کی کہ جو فوج مستعین کے ہمراہ گئ تھی وہ ابھی تک واپس نہیں آئی ہے۔
مہدی عیسائیوں کی امداد لے کر قرطبہ پر حملہ آور ہوا۔ مقام عقبۃالبقر میں نہایت خون ریزجنگ کے بعد مستعین کو شکست حاصل ہوئی اور مہدی دوبارہ فاتحانہ قرطبہ میں داخل ہو کر تخت خلافت پر متمکن ہوا۔ عیسائیوں کی وہ فوج جو مستعین کے ساتھ تھی مہدی کے لشکر میں شامل ہوگئی اور اس لڑائی میں بھی زیادہ تر مسلمان اور اہل قرطبہ ہی مارے گئے۔ مہدی قرطبہ میں داخل ہوتے ہی عیش و عشرت میں مصروف ہوگیا، اس طرح تمام ملک اندلس جو امن و امان کا گہوارہ تھا بدامنی کا گھر بن گیا اور ہر ایک وضیع و شریف کو اپنی جان و مال کا بچانا دشوار ہوگیا۔
واضح عامری مہدی کے ساتھ تھا اس نےجب ملک کو اس طرح تباہ اور حکومت اسلامیہ کوبربار ہوتے دیکھا تو شہر قرطبہ کے بااثر لوگوں سے مشورہ کر کے مہدی کے معزول اور خلیفہ ہشام ثانی کے دوبارہ تخت نشین کرنے کی تیاری کی۔ چنانچہ چار سو ہجری کو ہشام دوبارہ قیدخانہ سے نکال کر تخت خلافت پر بٹھایاگیا اور مہدی کو سردربار ہشام کے روبرو غیرنامی غلام نے قتل کیا۔
واضح نے مہدی کا سر مستعین کے پاس بھیج کر اسے خلیفہ ہشام کی اطاعت کا حکم دیا۔ چونکہ مستعین کیساتھ اس غارت گری میں ابن اوفونش عیسائی بادشاہ بھی شریک ہو گیا تھا لہٰذا واضح عامری کے اس پیغام کو حقارت سے ٹھکرا دیا گیا اور ابن اوفونش اور مستعین نے مل کر قرطبہ کے ارد گرد کا تمام علاقہ برباد کرکے قرطبہ کا محاصرہ کرلیا۔
آخر طویل محاصرے سے تنگ آکر عیسائی بادشاہ کو مستعین کی ہمراہی سے جدا کرنے کیلیے ہشام کی طرف سے سلام و پیام کا سلسلہ جاری ہوا اور عیسائی بادشاہ کی خواہش کے موافق ہشام نے دوسوقلعے مع چند بڑے بڑے شہروں کے جو شمال کی جانب اب اوفونش کی ریاست کے متصل تھے اس کو دیدیے اور اس طرح ابوفونش نے مستعین کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مستعین اور اس کے ہمراہی بربری مصروف محاصرہ رہے مگر چونکہ محاصرہ کمزور ہوگیا تھا لہٰذا اب مقابلہ اور معرکہ کی یہ صورت ہوگئی کہ کبھی شہر والے بربریوں کو مارتے ہوئی دور تک پیچھے ہٹا دیتے اور کبھی بربری شہروالوںکو شکست دے کر شہر کے اندر گھس جاتے۔ یہ حالت بہت دنوں تک جاری رہی۔ اس عرصہ میں کئی عیسائی حکمرانوں نے اپنی بغاوت اور مستعین کی مدد کرنے کا دباؤ ڈال کر دربار قرطبہ سے ابن اوفونش کی طرح سرحدی صوبوں کی سندیں حاصل کیں اور بہت سا ملک عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا۔
آخر تین شوال چار سو تین ہجری میں مستعین نے بزور تیغ قرطبہ پر قبضہ حاصل کیا، ہشام ثانی یا تو اس ہنگامہ میں قتل ہوگیا یا کہیں اس طرح غائب ہوا کہ پھر اس کا پتہ نہ چلا۔ واضح عامری اس سے چند روز پہلے قتل ہوچکا تھا مستعین نے قرطبہ میں داخل ہوکر تخت خلافت پر جلوس کیا۔
سلیمان بن حکم مستعین باللہ اب مستقل طور پر قرطبہ کا خلیفہ بن گیا مگر جابجا صوبوں کے حاکم خود مختار بادشاہ بن بیٹھے۔ ابن عباد نے اشبیلہ میں، ابن اقطس نے بطلیوس میں، اب ابی عامر نے بلنسیہ و مرسیہ میں، ابن ہود نے سرقسطہ میں اور مجاہد عامری نے رانیہ اور جزائر میں خود مختارانہ حکومتیں شروع کردیں۔ شمالی عیسائی سلاطین نے اس مناسب موقع اور موزوں وقت سے فائدہ اٹھانے میں کمی نہیں کی اور ہرعیسائی ریاست نے اپنی حددود کو وسیع کرکےاپنے قریبی علاقوں کو اپنی حکومت میں شامل کرلیا۔ غرض اندلس میں طوائف الملوکی کا زمانہ شروع ہوگیا اور حکومت اسلامیہ پارہ پارہ ہوکر بے حد کمزور وناتواں ہوگئی۔
محرم چار سو سات ہجری تک مستعین نے قرطبہ اور اس کے مضافات پر حکومت کی اور تین سال چند ماہ برائے نام خلافت کے بعد اشبیلیہ کے متصل مقام طالقہ کےمیدان میں علی بن حمود سے شکست کھا کر گرفتارومقتول ہوا اور اس طرح بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔”

Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Spurl this Post!Reddit! Wong this Post!
Reply With Quote
Sponsored Links
Reply
Tags: , , ,



Thread Tools

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is On
Trackbacks are On
Pingbacks are On
Refbacks are On

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
tahir ul qadri tayyib qadri Discussion Corner 13 03-27-2008 08:21 PM
قاتل کون تھا؟ tafseer Urdu Writer's Club 1 11-28-2007 11:19 AM
Request to post a afsanaa -- Thande Lab tafseer Urdu Writer's Club 29 11-01-2007 06:23 PM
Film: Khuda kay Liye (In The Name Of God) handsome Discussion Corner 77 08-08-2007 08:24 AM


All times are GMT +1. The time now is 05:39 AM.


x

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61 62 63 64 65 66 67 68 69 70 71 72 73 74 75 76 77 78 79 80 81 82 83 84 85 86 87 88 89 90 91 92 93 94 95 96 97 98 99 100 101 102 103 104 105 106 107 108 109 110 111 112 113 114 115 116 117 118 119 120 121 122 123 124 125 126 127 128 129 130 131 132 133 134 135 136 137 138 139 140 141 142 143 144 145 146 147 148 149 150 151 152 153 154 155 156 157 158 159 160 161 162 163 164 165 166 167 168 169 170 171 172 173 174 175 176 177 178 179 180 181 182 183 184 185 186 187 188 189 190 191 192 193 194 195 196 197 198 199 200 201 202 203 204 205 206 207 208 209 210 211 212 213 214 215 216 217 218 219 220 221 222 223 224 225 226 227 228 229 230 231 232 233 234 235 236 237 238 239 240 241 242 243 244 245 246 247 248 249 250 251 252 253 254 255 256 257 258 259 260 261 262 263 264 265 266 267 268 269 270 271 272 273 274 275 276 277 278 279 280 281 282 283 284 285 286 287 288 289 290 291 292 293 294 295 296 297 298 299 300 301 302 303 304 305 306 307 308 309 310 311 312 313 314 315 316 317 318 319 320 321 322 323 324 325 326 327 328 329 330 331 332 333 334 335 336 337 338 339 340 341 342 343 344 345 346 347 348 349 350 351 352 353 354 355 356 357 358 359 360 361 362 363 364 365 366 367 368 369 370 371 372 373 374 375 376 377 378 379 380 381 382 383 384 385 386 387 388 389 390 391 392 393 394 395 396 397 398 399 400 401