It seems that you are unregistered. Please register with us by clicking Here, or if you are already registered login here
Welcome to Urdu Community & Poetry/Shayari Forum
This is a discussion on حفاظت within the Urdu Writer's Club forums, part of the Urdu Adab category; حفاظت محمد عادل منہاج اچانک ناصر کی نظر ٹرے کے نیچے دبے ہوئے چیک پر پڑی چیک پر ایک لاکھ ...
| |||||||
| Poetry | Video | Photo | Books | Games | Sites | Register | Groups | FAQ | Calendar | Mark Forums Read | Chat |
|
#1
| |||||
| |||||
| حفاظت محمد عادل منہاج اچانک ناصر کی نظر ٹرے کے نیچے دبے ہوئے چیک پر پڑی چیک پر ایک لاکھ کی رقم درج تھی اور اس پر اس کے باس محمود احمد کے دستخط بھی موجود تھے محمود احمد اس وقت دوسری طرف منہ کیے تجوری سے کوئی فائل تلاش کر رہے تھے ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں اس پر شیطان غالب آگیا اور اس نے آہستہ سے چیک کھسکایا اور اپنی جیب میں منتقل کردیا اسی وقت محمود احمد نے فائل تجوری سے نکالی اور تجوری بند کر کے اس کی طرف مڑے ’یہ لیں ناصر صاحب اس فائل پر آج ہی کام ہو جانا چاہیے‘ انہوں نے فائل اس کی طرف بڑھائی ’جی جی سر‘ناصر نے کانپتے ہاتھوں سے فائل لی اور کمرے سے نکل گیا اپنی میز پر بیٹھا کام کرتا ہوا وہ اندیشوں میں گھرا ہوا تھا کہ ابھی اس کے باس اسے بلائیں گے اور چیک کی بابت پوچھیں گے یوں اس کی دس سالہ ایماندارانہ سروس کا خاتمہ ہو جائے گا باس کو اس پر کتنا اعتماد تھا دفتر کے تمام لوگ بھی اس کی شرافت کے گن گاتے تھے ’افیہ میں نے کیا کیا میں نے باس کے اعتماد کو دھوکہ دیا کیا میں چیک واپس کردوں؟‘ اس نے سوچا مگر پھر اسے یاد آیا کہ چند ماہ بعد اس کی بیٹی کی شادی ہونے والی ہے اور لڑکے والوں نے جہیز کی جو لسٹ دے رکھی ہے یہ چیک اس لسٹ کو پورا کرسکتا ہے پھر چھٹی کا وقت ہوگیا اور کچھ نہ ہوا وہ حیران تھا کہ باس کو چیک کی گمشدگی کا پتہ نہیں چلا آج گھر جاتے ہوئے اس کے انداز میں بے چینی تھی ایک طرف برسوں کی ایمانداری تھی دوسری طرف بیٹی کی شادی اور جہیز کی لسٹ انہی سوچوں میں گم وہ گھر پہنچ گیا اور سر درد کا بہانہ بنا کر کمرے میں لیٹ گیا ’تم نے کچھ سنا ناصر صاحب نے ایک لاکھ روپے اڑالیے‘ ’کیا وہ تو بہت ایماندار آدمی تھے!‘ ’ہنہ یہ شرافت ایمانداری تو سب ایک ڈھونگ تھاپتہ نہیں شرافت کے پردے میں کیا کچھ کرتے رہے‘ ’ناصر صاحب‘ یہ اس کے باس کی آواز تھی ’ میں تو آپ کو اپنا بزرگ سمجھتا تھاپوری کمپنی میں آپ پر اعتبار کرتا تھا مجھے کیا پتہ تھا کہ ایمانداری کے پردے میں بے ایمانی اور اس پرنور چہرے کے پیچھے ایک شیطانی چہرہ ہے‘ ’گرفتار کر لو اس چور کواور اس سے پرانی وارداتیں بھی اگلواﺅ‘ ’ناصر صاحب ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم اپنے بیٹے کا رشتہ ایک چور اور ڈاکو کح بیٹی سے کر رہے ہیںیہ رشتہ ختم سمجھیں‘ ’نہیںنہیں‘ناصر چلا اٹھااس نے بڑا بھیانک خواب دیکھا تھا ’نہیںیہ نہیں ہو سکتامیں ساری زندگی کی کمائی کو ایک لغزش سے تباہ نہیں کرسکتامیں صبح سب کچھ محمود صاحب کو بتا دوں گا‘یہ فیصلہ کرکے وہ مطمئن ہوگیا اگلے دن وہ محمود صاحب کے کمرے میں تھا آئیے ناصر صاحب میں آپ کا ہی انتظار کر رہا تھا‘وہ بولے ’میرا انتظار!‘ ناصر کا دل دھڑک اٹھا ’ تو باس کو پتہ چل ہی گیا‘اس نے سوچا ’ہاںمجھے معلوم ہے آپ کی بیٹی کی شادی ہونے والی ہے آپ نے ساری عمر کمپنی کی خدمت کی ہے آخر کمپنی کا بھی کچھ فرض بنتا ہے یہ میری طرف سے چھوٹا سا تحفہ پیشگی قبول کریں‘ محمود صاحب نے ایک چیک اس کی طرف بڑھا دیا چیک دیکھ کر اس کی آنکھیں پتھرا کر رہ گئیں یہ ایک لاکھ کا چیک تھا ’سرمیں اس قابل نہیں کہ مجھے یہ چیک دیا جائے‘ وہ سسک اٹھا ’یہ آپ کیا کہ رہے ہیں ناصر صاحب کیا آپ مجھے اپنا بیٹا نہیں سمجھتے‘ ’بس کریں سرمجھے مزید ذلیل نہ کریںمیں پہلے ہی اپنی نگاہوں میں گر چکا ہوںمیںمیں آپ کا مجرم ہوں سر‘وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا ’کیا مطلب !‘ محمود صاحب حیران ہوکر بولے ناصر نے چیک نکالنے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو دھک سے رہ گیااس کی جیب سے بٹوہ غائب تھا بس میں کسی نے اس کی جیب کاٹ لی تھی ’واہ بھئی واہ آج تک تو بٹووں سے رقم ہی نکلا کرتی تھی آج چیک نکل آیاوہ بھی پورے ایک لاکھ کا‘رشید خوشی سے چلایا ’واقعی یار تیری تو لاٹری نکل آئی مگر یہ بتا میرا حصہ کتنا ہوگا‘اس کا دوست کریم بولا ’یہ تو نے کیسی بات کی دوست بچپن سے آج تک ہم دونوں ہر چیز کے برابر کے حصے دار ہیںاب بھی ففٹی ففٹی ہوگا پچاس تیرے پچاس میرے‘وہ بولا ’واقعی تو نے یاری نبھانے والی بات کی ہے‘کریم چیک کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہوا بولا ’کیوں شرمندہ کرتا ہے یارتیری وجہ سے تو آج میں زندہ ہوں ‘ ’خیر باتیں چھوڑ اور چیک کیش کرانے کی فکر کرکہیں چیک والا بنک کو خبردار نہ کردے‘ ’اسی لیے تو میں نے وقت ضایع نہیں کیاصبح صبح بٹوے پر ہاتھ مارا اور جب چیک نظر آیا تو سیدھا تجھے بتانے دوڑا ابھی تو نو بھی نہیں بجے میرا خیال ہے فورا چل پڑیںجیسے ہی بنک کھلے فورا چیک کیش کرا لیں گے‘ ’ہاں دعا کر اس دوران چیک والے کو گمشدگی کا پتہ نہ چلے‘ ’تو پھر چلیں‘رشید کھڑا ہوگیا ’ایسے نہیں کم از کم حلیہ تو درست کرشریفوں والا لباس پہن اس بدمعاش ٹائپ حلیے میں جائیں گے تو شک پڑ سکتا ہے‘ ’یہ تو تو نے پتے کی بات کی‘ ’تو فورا کپڑے بدل پھر میں بدلتا ہوں‘کریم نے کہا اور رشید غسل خانے میںگھس گیا رشید کے والدین کا جب انتقال ہوا تو چچا نے اس نے اچھا سلوک نہ کیااور وہ بچپن میں گھر سے بھاگ کھڑا ہوا آوارہ گردی کے دوران کریم سے اس کی ملاقات ہوئی جو بدمعاش ٹائپ لڑکا تھا اور اپنے استاد کے ساتھ رہتا تھا اس کا بھی آگے پیچھے کوئی نہ تھا استاد نے دونوں کو چوری جوا جیب کترنا اور دوسرے دھندے سکھا دیے تھےپھر استاد کا بھی انتقال ہوگیا اور وہ دونوں اس کے گھر میں رہنے لگےدونوں میں بڑی دوستی تھی وہ جو کچھ بھی حاصل کرتے آدھا آدھا کر لیتےمگر ایک لاکھ جتنی رقم آج تک انہوں نے نہیں اڑائی تھی اس لیے کریم کی نیت خراب ہو رہی تھی وہ سوچ رہا تھا کہ اگر اسے پورے ایک لاکھ روپے مل جائیں تو وہ کچھ اور رقم ملا کر کوئی کاروبار شروع کر لے اور معزز بن کر بقیہ زندگی گزارے اور معزز پن کی آڑ میں بڑے بڑے دھندے کرے وہ ایسے کئی لوگوں کو جانتا تھا جو بظاہر کاروباری اور شریف لوگ تھے مگر کاروبار کی آڑ میں ناجائز کام کرتے رشید کو غسل خانے میں بھیج کر وہ اندرونی کمرے میں گیا اور جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں تیز دھار کا خنجر تھا وہ خنجر کی دھار پر انگلی پھیرتا ہوا مستقبل کے منصوبے بنا رہا تھا ’لو بھئی میں نے تو شریفانہ حلیہ بنا لیا اب تم بھی‘رشید غسل خانے سے نکلتا ہوا بولا مگر پھر چونک اٹھا’یہ خنجر کیوں نکال لیا ہم کوئی لڑنے جا رہے ہیں‘ ’چیک کہاں ہے؟‘ کریم نے پوچھا ’چیک میری جیب میں کیوں کیا ہوا؟‘اس نے حیران ہو کر پوچھا ’چیک میرے حوالے کردو رشید‘وہ سرد لہجے میں بولا ’کیا مطلب!‘رشید چونک اٹھا’یہ تم کیا کہ رہے ہو؟‘ ’میں ٹھیک کہ رہا ہوں پورے ایک لاکھ میرے ہوں گے‘ ’کریم ہم بچپن کے دوست ہیں‘رشید دکھ بھرے لہجے میں بولا ’لعنت بھیجو دوستی پر مجھے زندگی بدلنے کا موقع مل رہا ہے میں اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دوں گا میں تنگ آگیا ہوں اس زندگی سے ہر کوئی ہمیں ذلیل سمجھتا ہےجب میں اس پیسے سے کوئی کاروبار کروں گا اور کاروبار کی آڑ میں کالے دھندے کروں گا تو کوئی مجھ پر انگلی نہیں اٹھائے گا سب ظاہری حلیہ دیکھتے ہیں خیر دفع کرو ان باتوں کو اور فورا چیک میرے حوالے کردو ورنہ میں کوئی لحاظ نہیں کروں گا‘ ’چیک تمہیں نہیں ملے گا اگر ایک لاکھ روپے نے برسوں کی دوستی بھلا دی ہے تو پھر میں بھی تم پر لعنت بھیجتا ہوں اور یہاں سے جا رہا ہوں‘رشید نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے ’خبردار ہلنے کی کوشش مت کرنا‘کریم چلایا اور اس کی طرف دوڑا رشید نے دروازے کی طرف چھلانگ لگائی تو کریم نے خنجر کھینچ مارا خنجر رشید کی کمر میں لگا اور وہ گر پڑا خون اس کی کمر سے ابل رہا تھا مگر کریم نے اس کی پروا کیے بغیر اس کی جیب سے چیک نکالا اور گھر سے نکل گیا رشید فرش پر پڑا سسک رہا تھا کریم تیز تیز قدم اٹھاتا جارہا تھا وہ رشید کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا تھا مگر دولت نے اسے اندھا کردیا تھا اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا اور وہ بار بار پسینہ پونچھ رہا تھا اس نے چیک اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا جیب میں رکھتے ہوئے بھی اسے خطرہ محسوس ہو رہا تھا وہ بار بار ادھر ادھر دیکھتا ہوا چل بلکہ بھاگ رہا تھا اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ہر شخص اسے گھور رہا ہے بار بار اس کی نگاہوں کے سامنے رشید کا چہرہ آجاتا مگر وہ سر جھٹک دیتا سڑک پار کرتے ہوئے اس نے ادھر ادھر دیکھا مگر اچانک اس کا پاﺅں پھسلا اور ساتھ ہی ایک کار کے بریک چرچرائے وہ کار کا دھکا کھا کر گر پڑا اور اس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا ساری بات سن کر محمود صاحب غمگین انداز میں مسکرائے اور بولے’بیٹھ جائیں ناصر صاحب‘ ’نن نہیں مجھے مزید شرمندہ نہ کریں میں نے ساری بات آپ کو بتا دی ہے اب جو چاہے سزا دے لیں‘ ’بیٹھ جائیں ناصر صاحب‘ محمود صاحب نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں بٹھادیا ’جب کل آپ نے چیک اٹھا کر جیب میں ڈالا تھا مجھے اسی وقت پتہ چل گیا تھا‘ اس انکشاف پر ناصر کے ہوش اڑگئے ’تت تو آپ خاموش کیوں رہے؟‘ ناصر نے حیرانگی سے پوچھا ’میں چاہتا تو اسی وقت بنک مینیجر کو فون کر کے اسے خبر دار کردیتا مگر میں نے ایسا نہ کیا‘ ’وہ کیوں؟‘ناصر کو اپنی آواز بہت دور سے آتی محسوس ہوئی ’وہ اس لیے کہ مجھے یقین تھا کہ آپ چیک کو کبھی کیش نہ کرا سکیں گے ایماندار سے ایماندار آدمی پر بھی کبطی ایک لمحہ ایسا آجاتا ہے جب شیطان وار کرجاتا ہے آخر آدمی معصوم تو نہیں ہوتا معصوم تو صرف نبی یا پیغمبر ہوتے ہیںآدمی کبھی نہ کبھی لڑکھڑاجاتا ہے مگر ایک سچے انسان کی پہچان یہی ہے کہ وہ فورا سنبھل جاتا ہےا سکا ضمیر زندہ ہوتا ہے وہ ضمیر کی لعن طعن سہ نہیں سکتا‘ ’شکریہ سرآپ نے مجھ پر اتنا اعتبار کیا آپ بہت بڑے ہیں سر اور میں بہت چھوٹا‘ ’بھول جائیں اس بات کواور آپ نے دیکھا ناصر صاحب کہ آدمی کا رزق ا سکو مل کر رہتا ہے جو اﷲنے قسمت میں لکھ دیا ہے وہ اسے ضرور ملے گا بس انسان صبر کرے جلد بازی نہ کرے اب کل والا چیک میں نے آپ کو دینے کے لیے ہی رکھا تھا وہ ایک لمحے بعد آپ کے پاس ہی پہنچنا تھا بس اسی لمحے میں شیطان نے آپ کو بہکادیااورآپ کو ایک بات اور بتاﺅں مجھے یقین کیوں تھا کہ میرا چیک مجھے واپس مل جائے گا‘ ’کیوں سر؟‘ ’اس لیے کہ میں ہر سال اپنے مال پر زکوہ ادا کرتا ہوںاور جس مال کی زکوہ نکالی جاتی ہے اﷲاس مال کو نقصان نہیں پہنچنے دیتایہ میرا ایمان ہے اور دیکھ لیں میرا چیک مجھ تک واپس پہنچ گیا یہ وہی چیک ہے جو کل آپ نے اٹھایا تھا‘ محمود صاحب بولے ’مم مگر یہ آپ تک پہنچا کیسے ؟ یہ تو میری جیب سے کسی نے نکال لیا تھا‘ناصر کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ’آج جب میں آفس آرہا تھا تو ایک شخص کار سے ٹکراگیااس کے ہاتھ میں یہ چیک تھا اتفاق سے ایک پولیس وین بھی وہاں سے گزر رہی تھی پولیں نے اس شخص کو پہچان لیا وہ ایک جیب کترا اور کئی بار کا سزا یافتہ تھا غالبا اسی نے چیک اڑایا تھا دیکھ لیس اﷲ کی قدرت اس نے میرا چیک مجھ تک پہنچادیا‘ ’واقعی اﷲسب سے بڑا ہے اس کا وعدہ سچا ہے اسی نے آپ کے مال کی حفاظت کی‘ ناصر کی آنکھوں میں آنسو آگئے |
|
#2
| |||||
| |||||
| wahhh bohat hi umdah aur iman afroz kahani hey..........tareef k liye alfaz nahi miltey............ve ry nice sharing...
__________________ Kuch Aansoo Kuch KhushiyaaN Dey Kar Taal Gaya Jeevan Ka Ik Aur Sunehra Saal Gaya ...!! Meri Zaat Zarra E Bey NishaaN Mera Ishq Naghma E Bey Nawa |
|
#3
| |||||
| |||||
| aadil saahb aapkay novel ka tabsara bhi udhar hay,,main nay parh to mukammal liya tha laikin reply nahi likh saka,,,,mojooda halaat ko tasweer krnay ki kamyaab saee thi,,boht acha novel tha,,, ye afsana bhi boht khoob raha,,achi kahani buni or khoob naseehat laaiy hamaray liye,,kaash kay ham zakaat ki ahmiyet say waqif hojatay,,namaz pr boht zoar rahta hay laikin zakaat ka naam bhi sunnay ko tayyar nahi hain,,ramzaan main bankon main line lagjati hay zakaat se paisa bachwanay walon ki,,,,, boht achay yaar,,boht pasand aai tahreer.likhtay raha karo ji,ham aapki kawish boht shoaq say parhtay hain |
|
#4
| |||||
| |||||
| Quote:
|
|
#5
| |||||
| |||||
| Quote:
|
|
#6
| |||||
| |||||
| Novel ki tarha afsanay ki kahani bhi naseehat or haqeeqt say qareeb hai. boht acha or mutassir kun likha, aik paigham aap nay sab kay liye chora hai k agar zakwat di jaaiy to maal ki hifazat Allah krtay hain, or burai ko anjaam tak police nahi balkay qudrat pohnchati hai, kash jurm krnay walay is baat ko jaan lain or police k bajaiy Allah se darain. aik boht khobsorat afsanay per daad qubol kijiye , aisi hi achi or naseeht aamooz tahreerain likhtay rahain ![]()
__________________ ![]() ![]() |