Re: Muqabla-e-Tarahi ghazal.. May-08 | |
ڈوب آگ کے در یا کو پار کرنا ہے
ہر ایک دستور زمانہ کو تار کرنا ہے
وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ہے
خود اپنے ہی قاتل سے پیار کرنا ہے
نگا ہ ناز کے تیروں کے مقابل ھے جگر
کتنے لگتے ہیں کس نے شمار کرنا ہے
گھنیری زلف کی شوخ بجلیوں کی قسم
ھے آشیانہ میرا جہاں تونے وار کرنا ہے
اس کا ایک بھی وعدہ وفا ھوا نہ کبھی
مزاج دلگیر کو مگر اعتبار کرنا ہے
گلوں میں رنگ بہاروں کی آمدیں عمران
میرا نصیب مجھے انتظار کرنا ہے
M. Imran Ansari |