Re: Muqabla-e-Tarahi ghazal.. May-08 | | slam
aaj phir iss forum meen ik ghazal ke sath hazir hoon pata nahia ap koo pasand bhi ati hee ya nahi.
کچھ ذکر حسن کچھ یاد یار کرنا ھے
بے کار زندگی کو مصروف کا ر کرنا ھے
چشم نم سے بھی عیاں راز نہ ہونے پاے
وفا میں اب یہ ھنر ا ختیار کرنا ھے
تمام ھمسفروں نے تو پا لیں منزلیں اپنی
فریب مجھ سے مقدر نے ھر بار کرنا ھے
ًًمیرے محبوب نظر ,،میرے مسجود خیال
جو زخم تو نے دیے، انکو شمار کرنا ھے
یہ جانتا ھوں آپ نہ آئیں گے میرے پاس
پھر بھی نجانے کیوں تیرا انتظار کرنا ھے
جب بھی کوئ حسین سر راہ مل گیا
اس پے گماں کیوں شکل یار کرنا ھے
وعدے پہ آئیں گے وہ نواز یقین جانو
صبرآزما ہیں گھڑیاں کچھ انتظار کرناھے
Last edited by faridnawaz; 05-10-2008 at 08:18 PM.
|