azeezan e bazm
assalam o alaekum
aik ghazal pesh e khidmet hay
apni besh qeemet raey say zarur nawaziay ga
sohail malik
یہی درد ہے یہی سوز ہے یہی مے کشی کا فراز ہے
مرا عشق ہے مرا ہمسفر مرا دل اسی سے گداز ہے
مجھے کیا کہے غمِ عاشقی مرا کام ہے تری بندگی
یہ نوا ہے وقفِ صدائے جاں یہ مرے جنوں کی نماز ہے
مری آرزو کا نصیب تُو مری التجا تری گفتگو
رہوں نارسا تو گلہ نہیں مجھے اپنے عشق پہ ناز ہے
یہ عجیب حال مرا ہوا نہ اِدھر رہا نہ اُدھر گیا
نہ حریمِ جان عزیز ہے نہ ہی بندگی میں نیاز ہے
تُو سمجھ اگر تجھے ہو خبر تو تُو عمر بھر چلے اِس ڈگر
یہاں کون جلوہ پذیر ہے یہاں کون جلوہ طراز ہے
انہی فرقتوں میں کہیں مجھے تری آشنائی نصیب ہو
انہی مشکلوں میں وجودِ گِل مری سروری کا مجاز ہے
تُو ہے منتظر میں حریص ہوں پہ زماں مکاں کا اسیر ہوں
میں ازل سے محوِ خرام ہوں مرا کام کتنا دراز ہے