- کیا لہو روئے تو آیا ہے بہاروں کا سلام
- میں نے ہی کیا نکالی تھی یہ رہگزر کبھی
- نہ یہ عالی جناب اٹھے، نہ وہ عالی مقام آئے
- نگاہیں منتظر تھیں ، کب کرن پھوٹے سحر جاگے
- ہم کو خواب اور حقیقت نے ڈسا ہے مل کر
- دل وہ معصوم کہ ہر شب کو کہانی مانگے
- دل وہ کافر کہ حقیقت نہ فسانہ مانگے
- چاند کو چھونے کا قصہ ، پھول پی جانے کی بات
- چلو ہم اپنی خطاؤں کا اعتراف کریں
- ایک خوشبو میں کئی جادو کہاں سے آگئے
- آج کل کیا کیا کرشمے آدمی کے ساتھ ہیں
- kal aur aaj