- یا رب، دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
- کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طواف
- فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ
- تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی
- کھو نہ جا اس سحروشام میں اے صاحب ہوش!
- ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو
- مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی
- گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ
- کی حق سے فرشتوں نے اقبال کی غمازی
- فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک
- ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک
- رہا نہ حلقۂ صوفی میں سوز مشتاقی
- حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے
- خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
- ہر چیز ہے محو خود نمائی
- ہر شے مسافر ، ہر چیز راہی
- خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
- تو اے اسیر مکاں! لامکاں سے دور نہیں
- نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
- نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے