- جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
- عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
- خدا سے حسن نے اک روز یہ سوال کیا
- ہارون کی آخری نصیحت
- غلامی کیا ہے؟ ذوقِ حسن و زیبائی سے محرومی
- گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
- ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام
- دلِ بیدار فاروقی ، دل بیدار کراری
- دگر گوں ہے جہاں ، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
- بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے
- عصرِ حاضر ملک الموت ہے ، تیرا جس نے
- اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد
- اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں
- ستارہ صبح کا روتا تھا اور یہ کہتا تھا
- کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
- اگر کج رَو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا میرا؟
- افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
- افکار جوانوں کے خفی ہوں کہ جلی ہوں
- اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ
- bazm-e-hasti apni araayesh pe tu naazaa'n na ho