- کوئے ستم کی خامشی آباد کچھ تو ہو
- سب کاٹ دو بسمل پودوں *یہ فصل امیدوں کی ہمدم*
- Africa Come Back*آجاؤ، میں نے سن لی*
- ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر
- دل سے پھر ہوگی مری بات کہ اے دل اے دل
- اور کچھ دیر میں ، جب پھر مرے تنہا دل کو
- گڑی ہیں کتنی صلیبیں مرے دریچے میں
- تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
- اے روشنیوں کے شہر
- سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
- یہ رات اُس درد کا شجر ہے *ملاقات*
- کسی کے دستِ عنایت نے *اے حبیبِ عنبر دست!*
- ایک افسردہ شاہرہ ہے دراز *شاہراہ*
- دل کے ایواں میں لیے گُل شدہ شمعوں کی قطار
- گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی*موضوعِ سخن*
- وہ شاعر بھی ہے وہ مفکر بھی ہے
- بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے
- یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے
- آؤ کہ مرگِ سوزِ محبت منائیں ہم
- چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز