- چشمِ میگوں ذرا ادھر کر دے
- ہر حقیقت مجاز ہو جائے
- عشق منت کشِ قرار نہیں
- حسن مرہونِ جوشِ بادۂ ناز
- قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
- یادِ غزال چشماں، ذکرِ سمن عذاراں
- Sher: Jo Rukay to
- تیری صورت جو دلنشیں کی ہے
- کسی گماں پہ توقع زیادہ رکھتے ہیں
- اب وہی حرفِ جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
- روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں
- دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
- رنگ پیرہن کا خوشبو ، زلف لہرانے کا نام
- وہیں ہے دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
- گرانئ شبِ ہجراں دو چند کیا کرتے
- عجزِ اہل ستم کی بات کرو
- شفق کی راکھ میں جل بجھ گیا ستارۂ شام
- تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
- تم آئے ہو، نہ شبِ انتظار گزری ہے
- یاد کی راہگزر جس پہ اسی صورت سے