- صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی
- یوں بہار آئی ہے اس بار کے جیسے قاصد
- کچھ محتسبوں کی خلوت میں
- گرمیِ شوقِ نظارہ کا اثر تو دیکھو
- گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
- ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے
- کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں،
- شاخ پر خونِ گل رواں ہے وہی
- بات بس سے نکل چلی ہے
- رہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہے
- شامِ فراق، اب نہ پوچھ،
- ستم کی رسمیں بہت تھیں لیکن، نہ تھی تری انجم
- سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
- نصیب آزمانے کے دن آرہے ہیں
- کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسنِ دو عالم سے
- پھر لوٹا ہے خورشیدِ جہانتاب سفر سے
- پھر حریفِ بہار ہو بیٹھے
- کچھ دن سے انتظارِ سوال دگر میں ہے
- رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
- دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے