مجھے جنت کی خوشبو آ رہی ہے | | مجھے جنت کی خوشبو آ رہی ہے عجب ایک کیف دل پرچھا گیا ہے
سکوں بیتاب دل کو آگیا ہے
کوئی آ کر ابھی بتلا گیا ہے
مرا بیٹا شہادت پا گیا ہے خبر یہ روح کو گرما رہی ہے
مجھے جنت کی خوشبو آ رہی ہے وہ صورت آنکھ سے اوجھل ہوئی ہے
کہ جس کی چاہ دل میں بس رہی ہے
مگر میری بصیرت کہہ رہی ہے
جدائی کا یہ وقفہ عارضی ہے حیات ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے
مجھے جنت کی خوشبو آ رہی ہے میرا بیٹا تھا محبوب دل و جاں
شہادت کا جسے بے حد تھا ارماں
بنے گا وہ میری بخشش کا ساماں
راہ ِ فردوس ہوگی مجھ پہ آساں طبیعت کیسی تسکین پا رہی ہے
مجھے جنت کی خوشبو آ رہی ہے
شاعر: پروفیسر عنایت علی خان
Last edited by Mukhshif; 05-17-2008 at 09:54 PM..
|