It seems that you are unregistered. Please register with us by clicking Here, or if you are already registered login here
Welcome to Urdu Community & Poetry/Shayari Forum
This is a discussion on Madina Chhoot.ta hai within the Islam & Muslim Ummat forums, part of the Islam & Religions of World category; مدینہ چُھوٹتا ہے۔۔۔ بسم اللہ و صلی اللہ علٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ وعلٰی آلہ وصحبہ وبارک وسلم۔۔۔ ...
| |||||||
| Poetry | Video | Photo | Books | Games | Sites | Register | Groups | FAQ | Calendar | Mark Forums Read | Chat |
|
#1
| |||||
| |||||
| مدینہ چُھوٹتا ہے۔۔۔ بسم اللہ و صلی اللہ علٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ وعلٰی آلہ وصحبہ وبارک وسلم۔۔۔ ۔1۔ حُرمت مدینہ کی خاطر ہجرت فرمانے کو ترجیح یہ سن ۔60۔ ہجری کے شعبان المعظم کی چوتھی شب ہے۔ امام عالی مقام حُسین ابن علی رضی اللہ عنہما نے قصد فرما لیا ہے کہ، ابھی اسی شب میں مکہ شریف کے ارادے سے، مع اہل و عیال سفر فرمایا جائے گا۔۔۔ نان جان رحمت عالمیان صلی اللہ علیہ وسلم کے میٹھے مدینے کو چھوڑنا، صرف اورصرف اسکی حُرمت کی خاطر گوارا کرلیا ہے۔۔ لیکن امام کو یہ گوارا نہیں کہ انکے یزید کی بیعت نہ کرنے پر مدینے شریف میں فساد پھیلے، اور اہل مدینہ پر مصیبت آئے۔۔۔ ۔2۔ روضہ انور پر الوداعی حاضری یہ رات امام عالی مقام نے اپنے جدّ کریم رؤوف الرّحیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کے روضہ منورہ میں گزاری۔۔ کہ آخر تو فراق کی ٹھہرتی ہے۔۔ چلتے وقت تو جدّ کریم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کی مقدس گود میں لپٹ لیں۔۔ پھر خدا جانے زندگی میں ایسا وقت ملے یا نہ ملے۔۔ امام آرام میں تھے کہ خواب میں دیکھا۔۔ حضور پر نور علیہ الصلٰوۃ والسلام تشریف لائے ہیں، اور امام کو کلیجے سے لگا کر فرماتے ہیں۔۔ حُسین۔۔!۔ وہ وقت قریب آتا ہے، کہ تم پیاسے شہید کئیے جاؤگے۔۔ اور جنت میں شہیدوں کے بڑے درجے ہیں۔۔ یہ دیکھکر آنکھ کھل گئی اور روضہ مقدسہ کے سامنے رخصت ہونے کو حاضر ہوئے۔۔ مسلمانو۔۔!۔ حیاتِ دنیَوی میں امام کی یہ سب سے آخری حاضری ہے۔۔ صلٰوۃ و سلام عرض کرنے کے بعد سر جھکا کر کھڑے ہوگئے ہیں۔۔ غم فراق کلیجے میں چٹکیاں لے رہا ہے۔۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔۔ رقت کے جوش نے جسم مبارک میں رعشہ پیدا کردیا ہے۔۔ بے قراریوں نے محشر بپا کر رکھا ہے۔۔ دل کہتا ہے سر جائے، مگر یہاں سے قدم نہ اُٹھائیے۔۔ لیکن صبح کے کھٹکے کا تقاضا ہے کہ، جلد تشریف لے جائیے۔۔ دو قدم جاتے ہیں، لیکن پھر پلٹ آتے ہیں۔۔ حُب وطن قدموں میں لوٹتی ہے کہ، کہاں جاتے ہو۔؟۔ لیکن غریب الوطنی دامن کھینچتی ہے کہ، کیوں دیر لگاتے ہو۔؟۔ شوق تمنا ہے کہ عمر بھر نہ جائیں۔۔ لیکن مجبوروں کا تقاضا ہے کہ، دم بھر نہ ٹھہرنے پائیں۔۔ ۔3۔ روانگئ قافلہ رات کے تین پہر گزر چکے ہیں، اور آخری پہر کے نرم نرم جھونکے سونے والوں کو تھپک تھپک کے کر سُلا رہے ہیں۔۔ لیکن۔۔ خاندان نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی سواریاں دروازوں پر تیار کھڑی ہیں۔۔ محمل کس دئیے گئے ہیں۔۔ پردے کا انتظام ہوچکا ہے۔۔ اِدھر امام کے بیٹے، بھائی، بھتیجے، گھر والے سوار ہورہے ہیں، تو اُدھر امام مسجد النبوی علٰی صاحبھا الصلٰوۃ و التسلیم سے باہر تشریف لاتے ہیں۔۔ محرابوں نے سر جُھکا کر تسلیم کی۔۔ میناروں نے کھڑے ہوکر تعظیم دی۔۔ اور قافلہ سالار کے تشریف لاتے ہی نبی زادوں کا قافلہ روانہ ہوگیا ہے۔۔ ۔4۔ مدینہ چھوٹتا ہے۔۔ امام مظلوم سے مدینہ چھوٹتا ہے۔۔ مدینہ ہی نہیں، بلکہ دنیا کی سب راحتیں، تمام آسائشیں، ایک ایک کرکے رخصت ہوتی اور خیر آباد کہتی ہیں۔۔ یہ سب درکنار، ناز اُٹھانے والی ماں کا پڑوس۔۔ بھائی کا ہمسایہ۔۔ اور سب سے بڑھکر نانا جان جدّ کریم رؤوف الرّحیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کا قرب۔۔۔ ایک ایک کرکے رخصت ہورہی ہیں۔۔ مدینے شریف کی زمین۔۔ جس پر آپ گھٹنوں چلے۔۔ جس نے آپ کی بچپن کی بہاریں دیکھیں۔۔ جس پر آپ کی جوانی کی کرامتیں ظاہر ہوئیں۔۔ وہ مقدس زمین اپنے سر پر خاکِ حسرت ڈالتی، اور پردیس جانے والے پیارے پیارے نازک پاؤں سے لپٹ کر زبان ِ حال سے عرض کر رہی ہے کہ۔۔ اے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گود کے سنگار۔۔!۔ کلیجے کی ٹیک۔۔!۔ زندگی کی بہار۔۔!۔ کہاں کا ارادہ فرمالیا ہے۔؟۔ وہ کونسی سرزمین ہے، جسے یہ عزت والے پاؤں، جو میری آنکھوں کے تارے ہیں، شرف بخشنے کا قصد فرماتے ہیں۔؟۔ جس قدر یہ برکت والا قافلہ نگاہ سے دور ہوتا جاتا ہے۔۔ اسی قدر پیچھے رہ جانے والی پہاڑیاں، اور مسجد النبوی علٰی صاحبھا الصلٰوۃ و التسلیم کے منارے، سر اُٹھا اُٹھا کر دیکھنے کی خواہش زیادہ ظاہر کرتے ہیں۔۔ یہاں تک کہ جانے والے نگاہوں سےغائب ہوگئے۔۔ اور مدینے کی آبادی پر حسرت بھرا سناٹا چھا گیا۔۔۔
__________________ ﻢﮐﻠ ﻮ ﺎﻨﻠ ﷲﺍﺮﻔﻐﻴ Regards |
|
#2
| |||||
| |||||
| nice sharing...........ja zakALLAH .......jari rehna chaiye
__________________ ![]() |