جنت کے درخت کی عظمت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اِنَّ فِی الجَنَّۃِ لَشَجَرَة یَسِیرُ الرَّاکِبُ الجَوَّادُ المُضَّمَرُ السَرِیعُ مِائَۃَعَامٍ وَمَایَقطَعُھاَ
” یقینا جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ تیز رفتار تضمیر شدہ گھوڑے پر سوار 100سال تک چلتا رہے تو وہ درخت ختم نہیں ہوگا -“
(بخاری:کتا ب الرقاق باب صفة الجنة -مسلم :کتاب الجنة باب انِّ فی الجنة شجرة یسیرالراکب فی ظلہامائة عام فی رقم الحدیث: 4846عن ابی سعید الخدری)
( نوٹ) تضمیر شدہ گھوڑا وہ ہوتا ہے جسے خوب کھلا پلا کر موٹا یا جاتا ہے اور پھر اس کی خوراک آہستہ آہستہ کم کی جاتی ہے حتی کہ بہت کم رہ جاتی ہے چنانچہ ایسا گھوڑا پختہ جسم کا مالَک انتہائی تیزر فتار ہو جتا ہے -