It seems that you are unregistered. Please register with us by clicking Here, or if you are already registered login here
User Name: Password:
Urdu Poetry/Shayari Forum

Urdu Poetry Forum

Welcome to Urdu Community & Poetry/Shayari Forum

 


Saeed Khan Poetry Book, ایک مٹھی میں میرے خواب

This is a discussion on Saeed Khan Poetry Book, ایک مٹھی میں میرے خواب within the Ghazal forums, part of the Urdu Poetry - Shairi category; This is the Poetry Book of famous Urdu Poet Saeed Khan. ==================== =============== اس شہر میں رسوائی کا سامان بہت ...


Go Back   Urdu Poetry/Shayari Forum > Urdu Poetry > Urdu Poetry - Shairi > Ghazal

Video Photo Books Games Sites Register Groups FAQ Calendar Mark Forums Read Chat

Notices

Rate This Thread - Saeed Khan Poetry Book, ایک مٹھی میں میرے خواب.
(0)
Thread Rating: 0 votes, average.

Reply
 
Thread Tools
  #1  
Old 04-08-2008, 08:50 AM
zubairamin's Avatar
Junior Member
 
Join Date: Apr 2008
Posts: 105

Country:

Tutorials: 0

Thanks: 0
Thanked 18 Times in 16 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 22
zubairamin is on a distinguished road
Thumbs down Saeed Khan Poetry Book, ایک مٹھی میں میرے خواب

This is the Poetry Book of famous Urdu Poet Saeed Khan.
==================== ===============
اس شہر میں رسوائی کا سامان بہت ہے
اب چشمِ تماشائی پشیمان بہت ہے

مدت سے جو در پے تھا مرے شیشہِ جاں کے
اب ٹوٹ گیا ہے تو وہ حیران بہت ہے

اب دشت و بیاباں کا سفر کون کرے گا
جب شہر میں تنہائی کا سامان بہت ہے

یہ سوچ کے میں گھر میں چراغاں نہیں کرتا
یہ روشنیِ طبع مری جان بہت ہے

فرقت میں سکوں ہے نہ تجھے قرُب میں آرام
اے دل تری بنیاد میں ہیجان بہت ہے

مشکل ہیں بہت ترکِ محبت کے مراحل
چپ چاپ بچھڑ جانا تو آسان بہت ہے


====================


دوستوں کے درمیاں ہوتے ہوئے
ہم یہاں کب ہیں یہاں ہوتے ہوئے

طعنہ زن اک تو نہیں دنیا بھی ہے
اورہم چپ ہیں زباں ہوتے ہوئے

دشمنوں سے دھوپ کیوں مانگے کوئی
دوستی کا سائباں ہوتے ہوئے

شعلۂِ غم آتشِ دل جو بھی ہو
وقت لگتا ہے دھواں ہوتے ہوئے

خاک ہونے کا تماشا کیا کریں
دشت کا دل میں سماں ہوتے ہوئے

تشنگی کا پاس رکھا ہے سعید
صحبتِ پیرِ مغاں ہوتے ہوئے


====================

لب کشا شہرِ ملامت ہے چلو پوچھتے ہیں
ہم سے کس کس کو شکایت ہے چلو پوچھتے ہیں

میری رسوائی پہ چُپ میرے شناسائوں کی
بے بسی ہے کہ مروت ہے چلو پوچھتے ہیں

کیوں اسے دیکھ کے چلتا ہوا رک جاتا ہے
وقت کو کیسی مصیبت ہے چلو پوچھتے ہیں

میں نے شاید اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
گفتگو کی یہی صورت ہے چلو پوچھتے ہیں

اس کی معصوم خموشی کے پسِ پردہ بھی
کوئی بیتاب شرارت ہے چلو پوچھتے ہیں

لوگ کہتے ہیں یہی مجھ سے محبت ہے اُسے
کس قدر اس میں حقیقت ہے چلو پوچھتے ہیں

کسی بے درد رفاقت کا نشاں ہے شاید
اس کی آنکھوں میں جو وحشت ہے چلو پوچھتے ہیں

وہ نیا بت جو پرستش کے مناسب ہے سعید
اس کی کعبے سے جو نسبت ہے چلو پوچھتے ہیں


==================== ==

قربت کا سبب ہو بھی تو کھُل کر نہیں ملتے
کچھ یہ بھی ستم ہے کہ ہم اکثر نہیں ملتے

بے مہریِ حالات یا قسمت کا لکھا ہے
دل جس سے بھی ملتا ہے مقدر نہیں ملتے

کچھ خانہ خرابوں کی خبر ہو تو خبر ہو
ہم ڈھونڈنے والوں کو کبھی گھر نہیں ملتے

موسم کا برُا ہو سرِ بام شبِ ہجراں
اب یاد کے جگنو بھی منور نہیں ملتے

کچھ خواب جو خوشبو کی طرح پھیل چکے ہیں
اب مجھ کو مری ذات کے اندر نہیں ملتے

اس شہرِ خدا ساز میں مجنوں کی دعا سے
بت اتنے زیادہ ہیں کہ پتھر نہیں ملتے


==================== ===

کسی بھی سنگِ ملامت سے جی نہیں بھرتا
جنونِ دل ترا وحشت سے جی نہیں بھرتا

ِادھر جَبیں پہ سنبھلتے نہیں مرے سجدے
اُدھر خدا کا عبادت سے جی نہیں بھرتا

کسی کو حرصِ ستائش کسی کو حرصِ کرم
یہاں کسی کا ضرورت سے جی نہیں بھرتا

یہ دل بھی کیا ہے کہ اس بے قرار وحشی کا
کسی طرح کی ریاضت سے جی نہیں بھرتا

بلا رہی ہیں مگر کب سے منزلیں مجھ کو
وہ ہم سفر ہےمسافت سے جی نہیں بھرتا

وہ محوِ شوق ہے کب سے مگر مرے اندر
عجب خلا ہے محبت سے جی نہیں بھرتا

کوئی نشہ ہے کہ احساس پر مسلط ہے
تری ادا ٗ تری صورت سے جی نہیں بھرتا


==================== ==

جو گریزاں ہو نہ بیباک ملے
ایسے پتھر سے کوئی خاک ملے

یار وحشت کا مزا ہی جب ہے
دل بھی دامن کی طرح چاک ملے

اب ہمیں فرصتِ گریہ بھی نہیں
اور کیا وقت کا ادراک ملے

کچھ تو آوارہ ہے دل بھی اپنا
کچھ ہمیں لوگ بھی بیباک ملے

زخم ہوتے تو رفو کرتے ہم
کیا کریں قلب و جگر چاک ملے

حسن پھر دل کے مقابل ہے سعید
جیسے چالاک سے چالاک م

==================== ==

وہ جو ہر لب پہ ہے رنگین فسانے کی طرح
اس پہ تقدیر بھی مائل ہے زمانے کی طرح

اس کا شیوہ نہ سہی مہر و محبت لیکن
دوست ہو کر کوئی ملتا ہے زمانے کی طرح؟

وہ بھی کھوئے ہوئے راہی کی طرح گُم صُم ہے
میں بھی چُپ ہوں کسی گمنام ٹھکانے کی طرح

اس سے تجدیدِ محبت کی طلب کیا کیجئے
اب وہ اقرار بھی کرتی ہے بہانے کی طرح

عکس در عکس اسے دیکھتی رہتی ہے سعید
آنکھ بے بس ہے کسی آئینہ خانے کی طرح


===================

کیف جنوںسے دیر و حرم بولنے لگے
ہم روبرو ہوئے تو صنم بولنے لگے

پہلے تو ناگوار تھیں ان کو خموشیاں
اب ان کو یہ گلہ ہے کہ ہم بولنے لگے

یا رب عطا ہو میرے بیاں کو وہ سرکشی
میں چپ رہوں تو میرا قلم بولنے لگے

پھر آئینے نے اپنے برابر کیا ہمیں
پھر ہنس کے اپنے آپ سے ہم بولنے لگے

دل کو زباں کی نوک پہ رکھتے تھے تم سعید
کیا فکر آ پڑی ہے جو کم بولنے لگے


===================

ابر سے جیسے ہم آغوش ہو ساون کی ہوا
مجھ سے ملنا وہ ترا مل کے جدا ہو جانا

اک ندامت ہے ہنر ٹوٹ کے جڑ جانے کا
دل کو آیا نہ محبت میں فنا ہو جانا

شب کی مستی کو چھپائے گا سحر سے کیسے
اس کی انگڑائی کا خود موجِ صبا ہوجانا

تازگی عشق میں حیرت کی طلب کرتی ہے
حسن وہ ہے جسے آتا ہو نیا ہو جانا

وہ سبق دے ہمیں تسلیم و عبادت کا سعید
جس نے دیکھا ہو کسی بُت کا خدا ہو جانا


==================== ==

وہ کوئے دل ہو کہ اہلِ نظر کے دروازے
کھلے ہیں تیرے لئے شہر بھر کے دروازے

کسی کی آس پہ تصویر آرزو بن کر
کھڑے ہیں کب سے مرے ساتھ گھر کے دروازے

ہمیں بھی آیا نہ دل میں اتارنے کا ہنر
نظر نہ آئے اسے بھی نظر کے دروازے

کبھی سفر ٗ کبھی آوارگی نہیں جاتی
ترس گئے ہیں مجھے میرے گھر کے دروازے

غزل کی آہٹیں سن کر چٹکنے لگتے ہیں
کمالِ شوق سے میرے ہنر کے دروازے

زبان و حرف و سماعت پہ ایک سکتہ ہے
کھلے ہیں سچ پہ بظاہر خبر کے دروازے

طلب ہے منزلِ عرفان و آگہی لیکن
مجھے قبول نہیں خیر و شر کے دروازے

ابھی تو آئی تھی شب میرے غم کدے میں سعید
ابھی سے ڈھونڈ رہی ہے سحر کے دروازے


==================== =











Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Submit to Yahoo!Submit to Google!Submit to Live!Submit to Facebook!Submit to Ask!Submit to StumbleUpon!Submit to Squidoo Submit to Netscape Submit to SlashDot Submit to Reddit Submit to FarkSubmit to Newsvine
Reply With Quote
  #2  
Old 04-08-2008, 09:37 AM
zubairamin's Avatar
Junior Member
 
Join Date: Apr 2008
Posts: 105

Country:

Tutorials: 0

Thanks: 0
Thanked 18 Times in 16 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 22
zubairamin is on a distinguished road
Default Re: Saeed Khan Poetry Book, ایک مٹھی میں میرے خواب

پھول جس کے لب و رخسار کے شیدائی ہیں
ہم بھی اس غیرتِ گلزار کے شیدائی ہیں

اس نے اک روز مجھے داد سخن بخشی تھی
لوگ جب سے مرے اشعار کے شیدائی ہیں

میں بھی نفرت کا محبت میں روادار نہیں
میرے دشمن بھی مرے یار کے شیدائی ہیں

سچ کا آزار ہی ایسا ہے تڑپ اٹھتے ہیں
لوگ ورنہ لبِ اظہار کے شیدائی ہیں

جو کبھی حرف کی حرمت پہ یقین رکھتے تھے
بِک رہے ہیں کہ خریدار کے شیدائی ہیں

چشمِ عالم ہو ستارے کہ مرا دل ہو سعید
سب کے سب ماہِ رخِ یار کے شیدائی ہیں
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Submit to Yahoo!Submit to Google!Submit to Live!Submit to Facebook!Submit to Ask!Submit to StumbleUpon!Submit to Squidoo Submit to Netscape Submit to SlashDot Submit to Reddit Submit to FarkSubmit to Newsvine
Reply With Quote
  #3  
Old 04-08-2008, 09:38 AM
zubairamin's Avatar
Junior Member
 
Join Date: Apr 2008
Posts: 105

Country:

Tutorials: 0

Thanks: 0
Thanked 18 Times in 16 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 22
zubairamin is on a distinguished road
Default Re: Saeed Khan Poetry Book, ایک مٹھی میں میرے خواب

جب وہ صہبا سے بہک جاتی ہے
خود بخود رات مہک جاتی ہے

مجھ کو دیکھے تو محبت کی شفق
اس کے چہرے سے جھلک جاتی ہے

ساتھ جب تک ہے چلے چلتے ہیں
راہ تو دور تلک جاتی ہے

زندگی بھی مری رفتار سے اب
ساتھ چلتے ہوئے تھک جاتی ہے

عشق آنکھوں میں تپکتا ہے سعید
اب کہاں دل سے کسک جاتی ہے
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Submit to Yahoo!Submit to Google!Submit to Live!Submit to Facebook!Submit to Ask!Submit to StumbleUpon!Submit to Squidoo Submit to Netscape Submit to SlashDot Submit to Reddit Submit to FarkSubmit to Newsvine
Reply With Quote
  #4  
Old 04-08-2008, 09:39 AM
zubairamin's Avatar
Junior Member
 
Join Date: Apr 2008
Posts: 105

Country:

Tutorials: 0

Thanks: 0
Thanked 18 Times in 16 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 22
zubairamin is on a distinguished road
Default Re: Saeed Khan Poetry Book, ایک مٹھی میں میرے خواب

پھر کسی آس میں رہ کر دیکھیں
اک نیا درد ہی سہہ کر دیکھیں

ہم کو مل جائے کنارہ شاید
آئوجذبات میں بہہ کر دیکھیں

میری نظروں سے بھی گر جائیں گے
اشک آنکھوں سے تو بہہ کر دیکھیں

ہم کو آرام نہیں خوابوں سے
جس خرابے میں بھی رہ کر دیکھیں

میں سعید اور مرے دل کا غبار
آئو اک شعر تو کہہ کر دیکھیں
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Submit to Yahoo!Submit to Google!Submit to Live!Submit to Facebook!Submit to Ask!Submit to StumbleUpon!Submit to Squidoo Submit to Netscape Submit to SlashDot Submit to Reddit Submit to FarkSubmit to Newsvine
Reply With Quote
  #5  
Old 04-08-2008, 09:39 AM
zubairamin's Avatar
Junior Member
 
Join Date: Apr 2008
Posts: 105

Country:

Tutorials: 0

Thanks: 0
Thanked 18 Times in 16 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 22
zubairamin is on a distinguished road
Post Re: Saeed Khan Poetry Book, ایک مٹھی میں میرے خواب

میں خوش نہیں ہوں کہ شب کے مصاحبین کے ساتھ
گماں بھی جاگ رہے ہیں مرے یقین کے ساتھ

مرا مقام تو آگے تھا ماہ و انجم سے
الجھ گئے ہیں مرے راستے زمین کے ساتھ

میں اس کے جھوٹ پہ سچ کا گمان کر لوں گا
وہ کوئی بات کہے تو سہی یقین کے ساتھ

بجا ہے تیرا مچلنا مگر دل ویراں
کوئی مکاں بھی گیا ہے کبھی مکین کے ساتھ

دکھا رہے ہیں شریعت کے آئینے سب کو
’’فریب کرتے ہیں جو آپ اپنے دین کے ساتھ ‘‘

لہو لہو ہے مرا دل سنبھل کے اے قاتل
چپک نہ جائے کہیں تیری آستین کے ساتھ

سعید خود کو کسی کی نظر سے کیا دیکھوں
میں اپنی ذات میں رہتا ہوں اب یقین کے ساتھ
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Submit to Yahoo!Submit to Google!Submit to Live!Submit to Facebook!Submit to Ask!