It seems that you are unregistered. Please register with us by clicking Here, or if you are already registered login here
Welcome to Urdu Community & Poetry/Shayari Forum
This is a discussion on Saeed Khan Poetry Book, ایک مٹھی میں میرے خواب within the Ghazal forums, part of the Urdu Poetry - Shairi category; عجب نہیں کہ بتِ بے نیاز کھل جائے عجب نہیں کہ بتِ بے نیاز کھل جائے میں رُخ کروں تو ...
| |||||||
| Poetry | Video | Photo | Books | Games | Sites | Register | Groups | FAQ | Calendar | Mark Forums Read | Chat |
|
#31
| |||||
| |||||
| عجب نہیں کہ بتِ بے نیاز کھل جائے عجب نہیں کہ بتِ بے نیاز کھل جائے میں رُخ کروں تو وہ زلفِ دراز کھل جائے دکھائی دے اُسے تصویر سے تصور تک جس آئینے پہ ترا عکسِ ناز کھل جائے وہ جلوہ گاہ میں آئے تو اک جہاں پہ مرے جنوںِ دیدہ و دل کا جواز کھل جائے ہم اہلِ درد کی صحبت میں یہ بھی ممکن ہے کھلے نہ فتنہ مگر فتنہ ساز کھل جائے سعید اُن کو صحیفوں سے کیا غرض جن پر حدیثِ غالب و فیض و فراز کھل جائے |
|
#32
| |||||
| |||||
| قطعات چلو پھر کرچیاں چنتے ہیں آئینے اٹھاتے ہیں سعید آئو کسی پتھر سے قسمت آزماتے ہیں بہت دیکھی ہے ویرانی ہمارے خانہِ دل نے چلو دیوارِ دل پر اک نئی صورت بناتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرے دن رات پر چھایا ہے عکسِ دلنشیں کوئی محبت اب مری آنکھوں کی بینائی میں رہتی ہے سنا ہے اس کی سوچوں میں بھی اب ہلچل مچاتی ہے وہ بے چینی جو میرے دل کی گہرائی میں رہتی ہے |
|
#33
| |||||
| |||||
| مرا دل بے نشاں کشتی ترے جذبات کے طوفان زدہ ناراض موسم میں نجانے کب سے لرزاں ہے کہاں تک سرد لمحوں میں سلگناہے؟ کہاں تک اجنبی موسم نبھانے ہیں ؟ چرا کر دل زدہ خوابوں کے دامن سے شفق ساماں لفافے میں سجا کر دو عدد قطرے بہاراں کے اگر بھیجو تو شاید شام ڈھل جائے |
|
#34
| |||||
| |||||
| عشرتِ بادہِ گلفام اٹھا لائے ہیں عشرتِ بادہِ گلفام اٹھا لائے ہی دوست کچھ غم بھی سرِشام اٹھا لائے ہیں شاعری ہم تری زینت کیلئے دکھ اپنے دامنِ دل سے سرِبام اٹھا لائے ہیں اور کچھ طعنہ و دشنام کی صورت نہ رہی یار محفل میں ترا نام اٹھا لائے ہیں ہم کہ اب گھر میں بھی رہتے ہیں سرائے کی طرح صبح دم نکلے تھے اور شام اٹھا لائے ہیں خواب مہکے ہیں سحر دم کہ صبا کے جھونکے خوشبوئے یارِ گل اندام اٹھا لائے ہیں شعبدہ باز مرے غم کی تسلی کو سعید پھر کسی جشن کا پیغام اٹھا لائے ہی |
|
#35
| |||||
| |||||
| میوزیم لٹ چکے بک چکے پھر بھی آزار میں کب سے بے بس ہیں مغرب کے بازار میں یہ کمانیں، یہ شمشیر و تیر و سناں میرے آباء کی جدوجہد کے نشاں یہ چاندی یہ سونا یہ لعل وگہر جاوداں کر گیا جن کو دستِ ہنر یہ شکستہ صنم یہ حسیں مورتیں میری تہذیب کی گمشدہ صورتیں یہ ٹوٹی ہوئی خوشنما طشتری جس پہ لکھی ہے تاریخِ کوزہ گری یہ شکستہ صراحی پہ تشنہ سبو مجھ سے کرتے ہیں بے ساختہ گفتگو جا بجا یہ نوادر سجائے ہوئے مجھ سے شاکی ہیں یہ بت چرائے ہوئے لٹ چکے ٗ بک چکے ٗ پھر بھی آزار میں کب سے بے بس ہیں مغرب کے بازار میں |
|
#36
| |||||
| |||||
| EORA GIRL تیرے الجھے ہوئے جذبات سے کیا کچھ نمایاں ہے کبھی ان مہرباں آنکھوں سے حیرانی جھلکتی ہے کبھی اس پھول سے چہرے سے ویرانی جھلکتی ہے تری چاہت کے اک پل میں کئی موسم نکلتے ہیں تری خوشیوں کے دامن میں بھی اکثر غم نکلتے ہیں یہ دکھ ان محترم خوابوں کی ناقدری کا ماتم ہے جو ٹھکرائے گئے کہہ کر فریبِ داستان اب تک یہ دکھ اس بے سکوں دھرتی کا بے آواز گریہ ہے جسے پامال کرتے ہیں ہوس کے کارواں اب تک یہ دکھ ان بے سرو سامان لوگوں کی امانت ہے جنہیں تہذیب نے لاکر سجایا قتل گاہوں میں یہ دکھ ان گمشدہ نسلوں کی پوشیدہ نشانی ہے جنہیں سونپا گیا تھا چھین کر مذہب کی بانہوں میں ترے الجھے ہوئے جذبات سے کیا کچھ نمایاں ہے Eoraآسٹریلیا کے آبائی Aboriginalقبیلے کے لوگوں کیلئے استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ’’مقامی‘‘ کے ہیں۔ |
|
#37
| |||||
| |||||
| فراز کے نام ایک خط۔ ۔ ۔ اگست2005 فراز تجھ پہ نچھاور ہیں اہلِ دیدہ و دل تو ایک جاں ہے مگر قافلے کی صورت ہے فراز تجھ سے ہراساں ہیں اہلِ حرص و ہوس کہ حرف حرف ترا آئینے کی صورت ہے ترا فراز مدح خوانِ دست بستہ کو کسی سند کسی دربار سے نہیں ملنا ترا فراز کسی ’’بارہویں کھلاڑی‘‘ کو ج |