It seems that you are unregistered. Please register with us by clicking Here, or if you are already registered login here
Welcome to Urdu Community & Poetry/Shayari Forum
This is a discussion on Saeed Khan Poetry Book, ایک مٹھی میں میرے خواب within the Ghazal forums, part of the Urdu Poetry - Shairi category; ہم خانہ خرابوں کو بھلے ٹھیک نہ سمجھو سائے کو بھی اس دشت میں نزدیک نہ سمجھو یہ دل میں ...
| |||||||
| Poetry | Video | Photo | Books | Games | Sites | Register | Groups | FAQ | Calendar | Mark Forums Read | Chat |
|
#11
| |||||
| |||||
| ہم خانہ خرابوں کو بھلے ٹھیک نہ سمجھو سائے کو بھی اس دشت میں نزدیک نہ سمجھو یہ دل میں اتر جائے تو اک کوہ گراں ہے تم خارِ غمِ ہجر کو باریک نہ سمجھو گردش کے مظاہر ہیں نہاں سیلِ جنوں میں وحشت کو فقط عشق کی تحریک نہ سمجھو تم جھوٹے نواگر مری خاموش روی کو اپنے کسی الزام کی تصدیق نہ سمجھو وہ حسن کوئی۔۔ ساعتِ بے تاب ہے جیسے وہ ساتھ اگر ہو بھی تو نزدیک نہ سمجھو روشن ہیں ابھی اور بھی امکان کی راہیں اتنا بھی شبِ ہجر کو تاریک نہ سمجھو جس دور کی اقدار پہ برسے ہوں صحیفے اس دور کی ہر بات کو اب ٹھیک نہ سمجھو |
|
#12
| |||||
| |||||
| دشت پرآب ہے کئی دن سے دل میں سیلاب ہے کئی دن سے پھر سفینہ مری محبت کا پیشِ گرداب ہے کئی دن سے خواب آنکھوں میں تیرتے ہیں مگر آنکھ بے خواب ہے کئی دن سے میں بھی کم کم کسی سے ملتا ہوں وہ بھی کم یاب ہے کئی دن سے کس کے قدموں کی نرم آہٹ کو راہ بے تاب ہے کئی دن سے اک نیا عکس بامِِ دل پہ سعید رشکِ مہتاب ہے کئی دن سے |
|
#13
| |||||
| |||||
| دل کی محفل میں بٹھا کر کبھی نزدیک سے دیکھ دیکھنا ہے تو مری جان مجھے ٹھیک سے دیکھ مجھ سے کچھ دور نہیں کوزہ گری خوابوں کی میری بے خواب سی آنکھیں ذرا نزدیک سے دیکھ اس سے پہلے کہ ہمیں وقت جدا کر ڈالے میں ترے سامنے بیٹھا ہوں مجھے ٹھیک سے دیکھ یہ مری ذات کے پہلو بھی ہیں آئینے بھی میرے احساس کے زخموں کو نہ تضحیک سے دیکھ اس میں لرزاں ہیں کہیں تیری انا کا گوہر اپنے کشکول کی وقعت نہ فقط بھیک سے دیکھ جس نے طوفان اٹھایا ہے رگوں میں تیری میں بھی مجبور ہوں دل کی اسی تحریک سے دیکھ زندگی کم ہے تجسس کی پذیرائی کو دل جسے دیکھنا چاہے اسے نزدیک سے دیکھ جب بھی فرصت ہو تجھے شہرِ چراغاں سے سعید دور نگراں ہیں دریچے کئی تاریک سے دیکھ |
|
#14
| |||||
| |||||
| اسے بکھرے ہوئے لوگوں سے رغبت ہے اسے چارہ گری میں چین ملتا ہے وہ جب آغاز میں اپنی مسیحائی دکھاتی ہے تو اسکی مہرباں نظروں کی حدت سے پگھل کر ہم شکستہ دل غم و افسوس کیا اپنی حقیقت بھول جاتے ہیں اور اس کی پراثر قربت کا راتوں میں دل و جاں سے مگن ہو کر عجب دیوانگی ملتی ہے وحشت بھول جاتے ہیں ہم اپنی کرچیاں چنتے ہیں آئینے اٹھاتے ہیں اور اپنے دل کے ہر کونے کو خوابوں سے سجاتے ہیں اسیرِ آرزو ہو کر غرض خود کو اکٹھا کر کے اس قابل بناتے ہیں کہ شاید ہم مسیحا کی نگاہوں میں ٹھہر جائیں کہ شاید یہ مسیحائی محبت میں بدل جائے ہمیں کب یاد رہتا ہے محبت آرزو مندی ۔ ۔ ۔ یہ باتیں ہوش مندی کی اسے کب راس آتی ہیں اسے بکھرے ہوئے لوگوں سے رغبت ہے اسے چارہ گری میں چین ملتا ہے |
|
#15
| |||||
| |||||
| چلتے چلتے ۔ ۔ ۔ خوابوں کی مستی سے چور آخر یہ پرُشوق مسافت چہروں کے جم گھٹ سے دور ہم کو ایسی بند گلی میں لے آئی ہے جس میں چین کے سائے سائے ارمانوں کے ڈیرے ہیں لیکن اس کوچے سے آگے کوئی راہ نہیں جاتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چاہو تو ہم لوٹ چلیں بھیڑ میں ڈوبے ان رستوں پر جن پر لمحہ لمحہ ہم کو کھو جانے کا ڈر رہتا ہے چاہو تو ہم رک جائیں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
#16
| |||||
| |||||
| بارش میں آوارہ بادل ہوں تو ساون کی تیز ہوا آئو مل کر خوابوں کو تصویر کریں جب تھک جائیں قطرہ قطرہ رم جھم رم جھم خاک میں سوئی خوشبو کو بیدار کریں رنگوں کو آزاد کریں! میں آوارہ بادل ہوں تو ساون کی تیز ہوا مل کے بچھڑنا اپنی قسمت میں لکھا ہے! |
|
#17
| |||||
| |||||
| موت کی کشتی ایسا لگتا ہے کوئی روگ ہے ساحل ساحل موج در موج کوئی سوگ ہے ساحل ساحل کوئی ماتم ہے کوئی شور بپا ہے جیسے اب تو پانی میں اترنا بھی سزا ہے جیسے غم سسکتی ہوئی لہروں میں نہاں ملتا ہے یہ سمندر ہے جو اب نوحہ کناں ملتا ہے مو |