View Single Post
  #1  
Old 04-08-2008, 09:10 AM
zubairamin's Avatar
zubairamin zubairamin is offline
Junior Member
 
Join Date: Apr 2008
Posts: 105

Country:

Tutorials: 0

Thanks: 0
Thanked 18 Times in 16 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 26
zubairamin is on a distinguished road
Post Poetry Book - ایک مٹھی میں میرے خواب

جانے کس دشت کا آزار ہو کل ساتھ مرے
میں ہوائے شب ِہجراں ہوں نہ چل ساتھ مرے
میں تو پابند کروں وحشتِ دل کو لیکن
راہ کہتی ہے کہیں دور نکل ساتھ مرے
تجھ سے اس شہر کے رنگوں میں توانائی ہے
بے وجہ عکسِ پریشان میں نہ ڈھل ساتھ مرے
تجھ میں بے چین پرندوں کی ابھی تاب نہیں
یوں نہ حالات کے پنجرے سے نکل ساتھ مرے
ہم سفر ہے تو پس و پیش تماشائی کیا
گر مرے ساتھ مری جان سنبھل ساتھ مرے
تجھ سے پتھر کو گہر کر دے مرے دل کی تپش
آ کبھی حبسِ شب ِ غم میں پگھل ساتھ مرے
کس نظر نے مجھے نزدیک سے دیکھا ہے سعید


==================== ===

موسم بھی نیا اب کے ٹھکانے بھی نئے ہیں
کچھ دل کے دھڑکنے کے بہانے بھی نئے ہیں
کچھ اپنی کہانی کو نئے موڑ کی خواہش
کچھ اس کی نگاہوں کے فسانے بھی نئے ہیں
اس حسن سے منسوب ہیں حیرت کے کرشمے
وہ پوچھے تو حالات پرانے بھی نئے ہیں
کیا لوٹ کے آئے ہیں سرِ شہرِ تمنا
چہرے ہی نہیں اب کے زمانے بھی نئے ہیں
کچھ رات کے پہلو میں بھی خوشبو کی خبر ہے
کچھ خواب سعید اپنے سرہانے بھی نئے ہیں


==================== =======

کس قدر تجھ کو تری ذات سے ہٹ کر سوچا
حد تو یہ ہے کہ تجھے اوروں سے لپٹ کر سوچا

محو ہو کر تری خوشبو کے گماں میں اکثر
ہم نے صدیوں کو بھی لمحوں میں سمٹ کر سوچا

عشق بنیاد میں شامل تھا سدا سے اپنی
دل کے محور سے نہ ہم نے کبھی ہٹ کر سوچا

فکر کب شور کے پہلو میں نمو پاتی ہے
سوچنے والوں نے آشوب سے کٹ کر سوچا

ہر تعلق میں ترا نقش ابھر آتا ہے
ہم نے جب بھی کسی مورت سے لپٹ کر سوچا

ہم نے ہجرت کی لہو رنگ سحر سے پہلے
جانے کیا کیا تیری بانہوں میں سمٹ کر سوچا

بارہا کر دیا حالات نے مسمار سعید



==================== =

دل چاک ہے سو داغ بھی دامن سے لگے ہیں
کچھ تار غنیمت ہے ابھی تن سے لگے ہیں

اس حبس میں آواز اٹھانے کی سزا ہے
خود ہاتھ مرے اب مری گردن سے لگے ہیں

در آئیں کے دیوار اٹھانے سے ذرا اور
جو خوف کے سائے مرے آنگن سے لگے ہیں

زخموں کو مسیحا کی نظر کھول کے دیکھے
سہمے ہوئے کچھ خواب مرے تن سے لگے ہیں

پھر در پےِ آزار ہے فرقت کا مہینہ
پھر ہجر کے آسیب نشیمن سے لگے ہیں



================

وہ بت گرفتہ دلوں کا نصیب ہو کر بھی
کسے ہوا ہے میسر قریب ہو کر بھی

ملا ہے یار بھی ہم کو سکونِ دل جیسا
نصیب ہو نہیں سکتا نصیب ہو کر بھی

غروبِ شب ہے کہ خود آگہی ستاروں کی
بجھے بجھے ہیں سحر کے نقیب ہو کر بھی

ہم اپنی ذات میں اک انجمن سے کیا کم تھے
تری طلب میں جہاں کے رقیب ہو کر بھی

شکستِ جاں بھی وفا چاہتی ہے خوابوں سے
نبھا رہے ہیں تعلق صلیب ہو کر بھی

قلندری میں نہاں ہے سکندری کا مزا
ہم اپنے آپ میں خوش ہیں غریب ہو کر بھی

سعید ظرف یہی ہے جہانِ حیرت میں
رہے ہیں سادہ روش ہم عجیب ہو کر بھی



==================== ====

راہ چلتے ہوئے راہی کا گلہ کون کرے
دل کی بے صرفہ تباہی کا گلہ کون کرے

داغ اس دل کی ضرورت بھی ہیں سرمایہ بھی
پھر مقدر کی سیاہی کا گلہ کون کرے

سخت منزل ہو تو سائے بھی بچھڑ جاتے ہیں
تجھ سے بے ربط نگاہی کا گلہ کون کرے

شہر کیا ہے کوئی الزام سرا ہے جیسے
اپنی ناکردہ گناہی کا گلہ کون کرے

آنکھ آئینے سے کترا کے گزرتی ہے یہاں
وقت کی کور نگاہی کا گلہ کون کرے

درد اشعار میں خود عکس کشی کرتا ہے
چشمِ بے بس کی گواہی کا گلہ کون کرے

ہم بھی اس غفلت خود سوز میں شامل ہیں سعید
اب یہاں چور سپاہی کا گلہ کون کرے



==================== ==

مری فصیلِ انا میں شگاف کر کے رہے
کہ دوست مجھ کو بھی میرے خلاف کر کے رہے

یہ معجزہ ہے کہ اپنے دلوں کی وسعت ہے
محبتوں میں بھی ہم اختلاف کر کے رہے

رکے تو حسن کا کعبہ تھا اپنے پہلو میں
چلے تو اس کی گلی کا طواف کر کے رہے

جنوں میں رنج و ملامت کو رائیگاں نہ سمجھ
یہ داغ وہ ہے جو دامن کو صاف کر کے رہے

ترے فراق نے آخر بتوں کو سونپ دیا
سوادِ ہجر سے ہم انحراف کر کے رہے

ہم اپنے دل کی قیامت کا راز کیا رکھیں
وہ جس نظر میں رہے انکشاف کر کے رہے

میں سر اٹھا کے کچھ ِاس شان سے جیا ہوں سعید
مرے عدو بھی مرا اعتراف کر کے رہے



==================== ===

اس نے دیکھا ہے
اس نے دیکھا ہے
تو ہم تپتے ہوئے صحرا بھی
مدتوں بعد سنور کر گل و گلزار ہوئے

اس نے پوچھا ہے
تو ہم شاعرِ دل بستہ بھی
خامشی چھوڑ کے شرمندہ ِ اظہار ہوئے

اس نے سمجھا ہے
تو ہم خواب ِپریشاں کے اسیر
حرفِ بے نام سے اندازِ ِ بیاں ٹھہرے ہیں

اس نے چاہا ہے
تو ہم خاک بسر اہلِ جنوں
سنگِ بے مایہ سے اب گہرِ ِ گراں ٹھہرے ہیں



==================== =

زلف ِ جاناں تری خوشبو کے سہارے تک ہے
یہ سفر صبح کے مجبور ستارے تک ہے

آئو حالات کو پھر ہجر کا مجرم سمجھیں
ورنہ اس غم کا مداوا بھی ہمارے تک ہے

وقت آساں ہی سہی ہم پہ بظاہر لیکن
دشتِ فرقت میں گزر اپنا گزارے تک ہے

پیڑ ہوتے تو زمینوں کی حفاظت کرتے
اب تو موسم بھی ہوائوں کے اشارے تک ہے

کون رہتا ہے رواں اپنی حدوں سے باہر
شدتِ موج سمندر کے کنارے تک ہے

کچھ نئے زخم ہوئے اب مری پہچان سعید
سلسلہ درد کا سڈنی سے ہزارے تک ہے



==================== =====

جب کسی درد کو سہلاتے ہیں
کچھ نئے زخم نکل آتے ہیں

زیست وہ کربِ مسلسل ہے کہ ہم
سانس لینے سے بھی گھبراتے ہیں

بے وجہ اتنا بھی مت سوچا کر
وسوسے دل میں اتر جاتے ہیں

کیسا ماحول کہاں کی خوشبو
پھول کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

ہم اًسے سوچنے بیٹھیں تو سعید
فاصلے خود ہی سمٹ جاتے ہیں



==================== ==

حشر کیسا بھی ہو برپا نہیں دیکھا جاتا
یار اب ہم سے تماشا نہیں دیکھا جاتا

ایسے برزخ سے تڑپنا ہی کہیں بہتر تھا
دل کومحرومِ تمنا نہیں دیکھا جاتا

خوف آتا ہے تو بس خواب کی بے خوفی سے
ورنہ اس آنکھ سے کیا کیا نہیں دیکھا جاتا

ان کی ہستی کی نمو ہے مری بربادی میں
ناصحوں سے مجھے اچھا نہیں دیکھا جاتا

فاصلہ رکھ کے سرِراہ ملا کر دشمن
دوستوں سے ہمیں یکجا نہیں دیکھا جاتا
ترکِ الفت ہی سہی ٗ ترکِ تعلق ہی سہی
پھر بھی اپنوں کو پرایا نہیں دیکھا جاتا

ہجر دشوار مسافت ہے مگر یاد رہے
یہ وہ غم ہے کہ جو تنہا نہیں دیکھا جاتا

نقش آنکھوں میں ہے محبو ب کی صورت ورنہ
ہم سے اس شہر کا نقشہ نہیں دیکھا جاتا

ایسی شدت سے ہمیں وقت نے بدلا ہے سعید
آئینہ اب نہیں دیکھا ٗ نہیں دیکھا جاتا



==================== ====

سب سمجھ کر بھی زیادہ نہ سمجھ
دل سادہ اُسے سادہ نہ سمجھ

اُس کی دو دن کی رفاقت کو ابھی
ساتھ چلنے کا ارادہ نہ سمجھ

وسعتیں دل میں ہوا کرتی ہیں
ہر کھلے گھر کو کشادہ نہ سمجھ

ایسی دو دن کی شناسائی کو
کچھ ضرورت سے زیادہ نہ سمجھ

ساقیا ٗ پاسِ تعلق کو ِمرے
کششِ ساغر و بادہ نہ سمجھ

صورتِ ریگِ رواں ہے دنیا
نقشِ پا کو یہاں جادہ نہ سمجھ

جس نے کچھ دن تجھے پہنا تھا سعید
خود کو اُس بُت کا لِبادہ نہ سمجھ



===================

یوں تو کیا کیا راحتیں دامانِ ساحل میں نہیں
جو نشہ موجِ مسافت میں ہے منزل میں نہیں

اب تو قاتل کے ہنر کی دادا دینا چاہیے
اب تو رنجش کا نشاں تک رقصِ بسمل میں نہیں

یار کو ہم نے بالآخر مہرباں تو کر لیا
آپڑی ہے دل کو اب مشکل کہ مشکل میں نہیں

اس بتِ کافر کی صحبت کا اثر کہہ لیجئے
کچھ محبت کے سوا اب خانہِ دل میں نہیں

جان سے بھی سخت جاں ہیں روح کی بے چینیاں
اپنی وحشت کا مداوا دستِ قاتل میں نہیں

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشتِ عشق میں
قیس صحرا میں نہیں ٗ لیلیٰ بھی محمل میں نہیں

ہم کو خوش آیا تری فطرت کا یہ پہلو سعید
یا تو اپنے رنگ میں یا رنگِ محفل میں نہیں



==================== ====

سرِبازار لُٹ کر بھی دہائی اب نہیں دیتے
مرے لوگوں کو دکھ اپنے دکھائی اب نہیں دیتے

سرِ محشر کوئی خلقِ خدا سے کیا نباہے گا
یہاں ملزم خود اپنی بھی صفائی اب نہیں دیتے

کبھی چشمِ شناسا کی طرح جو ہنس کے ملتے تھے
وہ آئینے بھی دادِ آشنائی اب نہیں دیتے

جو منظر تھے وہ پس منظر میں پنہاں ہوتے جاتے ہیں
تماشے میں تماشائی دکھائی اب نہیں دیتے

ہماری سرحدوں سے شہ رگوں تک آن پہنچے ہیں
محافظ اپنے پنجوں سے رہائی اب نہیں دیتے

گلِہ کس کس کی رخصت کا سعید اس دشت میں کیجئے

ہمیں خود اپنے سائے بھی دکھائی اب نہیں دیتے


==================== ===

آنکھوں کو زخم زخم تو دل کو لہو کریں
پھر جی یہ چاہتا ہے تری جستجو کریں

رستا ہے جس کے چاک سے پندار کا لہو
وہ زخم کس کے تارِ نظر سے رفو کریں

دل مضطرب ہے شام سے آ اے غم حیات
تجھ کو سپردِ گردشِ جام و سبو کریں

حائل ہیں اپنی راہ میں ہم خود انا پرست
خود کو بھلا سکیں تو تری آرزو کریں

جیسے سب اہلِ شہر مرے غم شناس ہوں
جب گفتگو کریں تو تری گفتگو کریں

ہم ہیں کہ پچھلے زخم ہمیں بھولتے نہیں
اور دل کہے کہ کوئی نئی آرزو کریں

جس جا گزر ہو میرے بُتِ خود شناس کا
پتھر بھی آئینوں کی طرح گفتگو کریں

ہر شخص اپنے آپ سے نادم ہو جب سعید
کیا لوگ آئینے کے مجھے روبرو کریں


==================== ========

سپردگی کا قرینہ سبھی کو آتا ہے
سو ابتدا میں پسینہ سبھی کو آتا ہے

شعورِ مے نہ سہی کثرتِ ہوس ہی سہی
شراب لائو کہ پینا سبھی کو آتا ہے

یہ اپنے آپ سے بچھڑے ہووئوں کی بستی ہے
یہاں تو ہجر میں جینا سبھی کو آتا ہے

کوئی بھی اب نہیں مرتا یہاں غمِ دِل سے
یہ زہر گھول کے پینا سبھی کو آتا ہے

سعید ایک تمہی ہو کہ سرکشیدہ ہو
غلام بن کے تو جینا سبھی کو آتا ہ

==================== =





Last edited by zubairamin; 04-08-2008 at 09:19 AM. Reason: additions
Reply With Quote