jaur se baaz | | جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
کہتے ہیں ہم ان کو موں دکھلایئں کیا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہےگا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگائو
جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
عمر بھر دیکھا کیئے مرنے کی راہ
مر گئے پر دیکھئے دکھلائیں کیا
ہو لئے کیوں نامہبر کے ساتھ ساتھ
یارب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا
موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا
__________________  
Last edited by Aisha Baig; 05-09-2008 at 08:34 PM.
|