![]() |
| Home | Forum | Photo | Video | Books | Games | Tags | Invite | Survey | Chat | Awards | Advertise | Top20 | Promote | Support | Tutorials | Rules | Urdu Editor |
| |||||||
| Discussion Corner Discuss, read & share Political, Current Affairs, Urdu and Islamic articles and Columns, or discuss Pakistani & Indian political, Islamic & religious, psychological or social and Indo-Pak economic issues. |
![]() |
| | LinkBack (2) | Thread Tools |
|
#1
| ||||
| ||||
| aslamualikum ap logon ka tahir ul qadri ki in tasveer aur is harkat kay baray man kya khyal hay ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]()
__________________ کلک رضا ھے خنجر خوانخوار برق بار اعداء سے کہدو خیر منائیں نہ شر کریں |
| Sponsored Links |
|
#3
| ||||
| ||||
| i think kissi ki baat kernay say pehlay hamain khud ko deikhna chahyay kuon kay hamain nahin pata kay aaj sans hay kal ho gi ya nahin ................iss liyay apna ehtisaab zaroori hay her pal .............
__________________ /shukar |
|
#4
| ||||
| ||||
| Asslamo Alaikum Tayyab sahib yeh bataeN keh yahaN oopar wali post meiN qabil-e-eitraaz baat konsi hai ? Khush RaheN
__________________ |
|
#6
| ||||
| ||||
| waisay kuch kuch dr zakir naik jaise jhalak dikha'ee dai rahe hy
__________________ ميں سچے رب كے رستے ميں سو بار لڑوں اور جاں دے دوں پهر لوٹ كے دنيا ميں آوں پهر جام شهادت نوش كروں |
|
#7
| ||||
| ||||
|
__________________ ![]() najanay kon duaaon mein yaad karta hay mein dobta hon, samndar uchal deta hay ...!! |
|
#9
| ||||
| ||||
| بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔ یہ لنک دیکھیں کلک کریں۔۔۔ وسلام۔۔۔ URL hata diya gaya hai.
__________________ ![]() ![]() ![]() Last edited by Mukhshif; 03-27-2008 at 08:04 PM. |
|
#10
| ||||
| ||||
| بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد!۔ یہ لنک دیکھیں کلک کریں۔۔۔ وسلام۔۔۔ URL hata diya gaya hai. Mukhshif
__________________ ![]() ![]() ![]() Last edited by Mukhshif; 03-27-2008 at 08:06 PM. |
|
#11
| ||||
| ||||
| جناب طاہر القادری صاحب پاکستان کی معروف شخصیت ہیں اور بہت سے علوم و فنون میں مہارت رکھنے کے داعی ہیں ان کے اکثر دعاوی کی حقیقت تو آشکار ہوچکی ہے اب موصوف پر حدیث نبوی پر دستریس کا دعوٰی کا خبط غالب ہے اس لئے کہ اب ان کے نام کے ساتھ شیخ الاسلام کے منصب پر فائز ہونے کا لاحقہ بھی شامل ہوچکا ہے اور اس منصب جلیل کے لئے قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تفہیم میں مہارت ضروری ہے ورنہ یہ لاحقہ بھی مذاق بن جاتا ہے چنانچہ آج کل موصوف اسی تک ودو میں لگے ہوئے ہیں چنانچہ انہوں نے اپنے برطانیہ کے دورے کے درمیان برمنگھم میں صحیح بخاری کا دورہ کرایا ہے ان کے دورے کا دوسرا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ستم آزمانے کے لئے صحیح بخاری کا انتخاب کیا ہے اور اس ضمن میں صرف صحیح بخاری پر ہی ظلم نہیں کیا بلکہ اسلام کے اساسی رکن توحید کو بھی تختہ مشق بنایا ہے راقم الحروف کو تو کبھی بھی ان کی ذات شریف کے کردار پر نظر رکھنے کی دلچسپی نہیں رہی تاہم بعض حضرات نے ان کی حدیث نبوی پر دست درازیوں پر کچھ لکھنے کا اصرار کیا راقم الحروف نے حدیث کے بارے میں ان کے جب فرمودات دیکھے تو معلوم ہوا کہ احباب کا اصرار بجا اور درست ہے۔۔۔ ماہنامہ منہاج القرآن نومبر ٢٠٠٦ء ہے جس میں موصوف کے دورہ صحیح بخاری کی پہلی قسط طبع منظر کشا ہوئی ہے ہم اس کا ہی سلسلہ وار جائزہ قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔۔۔وباللہ التوفیق۔۔۔ اہمیت سند موصوف نے اپنے دورہ کا آغاز سند کی اہمیت بیان کرنے سے کیا ہے اور اس بارے میں ایسے عجیب وغریب استدلال یا انکشافات کئے ہیں جن سے پہلی صدی ہجری سے لے کر دورہ حاضر تک کے مسلمان محروم چلے آرہے ہیں انہوں نے بغیر کسی تمہید کے سند کی اہمیت کا تذکرہ چھیڑا ہے فرماتے ہیں حدیث اور قرآن کے علم کو حاصل کرنا اور آگے پہنچانا اور نہ صرف پہچانا بلکہ متصل، معتمد، معتبراسناد کے ساتھ پہنچانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے اور پھر موصوف اپنے اس موقف پر (بحوالہ مجمع الزاوئد صفحہ ١٣٧ جلد ١) یہ دلیل پیش کی ہے کہ!۔ عن ثابت بن قیس تسمعون ویسمع منکم ویسمع من الذین یسمعون منکم ویسمع من الذین یسمعون من الذین یسمعون منکم۔۔۔ اور پھر کچھ یوں کیا ہے کہ!۔۔۔ حضرت ثابت بن قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے سنو گے اور پھر سے سنا جائے گا اور پھر ان سے میری حدیث سنی جائے گی جن لوگوں نے پہلے سنانے والوں سے سنا ہوگا (صفحہ ٢٠ بلفظہ)۔۔۔ اولا!۔ ہم کہتے ہیں موصوف نے اس روایت کے الفاظ بیان کرنے میں بڑا ہی تصرف اور نازک مزاجی سے کام لیا ہے یا پھر علم حدیث کے بارے میں اپنی جہالت کا ثبوت فراہم کیا ہے وہ یہ کہ اس روایت میں اپنی طرف سے بہت سا اضافہ کیا ہے جو اصل میں نہیں ہے۔۔۔ مجمع الزوائد میں یہ روایت ان الفاظ سے ہے کہ!۔ تسمعون ویسمع منکم ویسمع ممن یسمع منکم۔۔۔ مختصر سی روایت کو اضافہ کے ساتھ دوگنا طویل کر دیا اور پھر یہ نہیں کہ یہ اضافہ کتابت کی غلطی ہے اس لئے کہ جو ترجمہ کیا ہے وہ بھی تقریبا اضافہ شدہ عبارت کے مطابق جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اضافہ سہوا نہیں بلکہ عمدا کیا گیا ہے جو حدیث میں اپنی طرف سے اضافہ کرتا ہے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہے ایسے شخص پر صحیح بخاری کی ہی متواتر احادیث صادق آتی ہیں کہ!۔ من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار۔۔۔ جس شخص نے مجھ پر عمدا جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی طریق سے بھی جھوٹ بولنا اور اپنے ماسبق کذاب راویوں کے جھوٹ کو اپنی تائید میں پیش کرنا۔۔۔ (جیسا کہ المنہاج النبوی میں بعض من گھڑت روایات ہیں)۔۔۔ موصوف کا دل پسند مشغلہ معلوم ہوتا ہے آخر انہوں نے اپنے منہاج کو تمام مسلمانوں سے انوکھے انداز میں چلانا ہے تو وہ اس کے بغیر کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔۔۔۔ ثانیا!۔ موصوف نے اس روایت میں صرف تحریف ہی نہیں کی ہے بلکہ جس کے حوالہ سے روایت کو نقل کیا ہے اس نقل میں بھی انہوں نے عقل سے کام نہ لیتے ہوئے بدیانتی کو ملحوظ رکھا اور یہود و نصارٰی کی اُس روش پر چل پڑے جو انہوں نے کلام اللہ کے ساتھ کیا اور جانتے ہوئے تحریف کے مرتکب ہوئے اور قیامت تک ذلت و رسوائی جن کا مقدر بن گئی موصوف نے تحریف کرتے ہوئے اتنا بھی نہیں سوچا کہ ایک عامی جو دین کے علم سے ناواقف ہے وہ کیا سوچ اور کیا عقیدہ لے کر اُٹھے گا۔۔۔ انہی جیسے علماء سو پر اللہ نے قیامت تک لعنت فرمادی ہے جو تھوڑی سی قیمت کے بدلے کلام کو بدل دیتے ہیں۔۔۔ مجمع الزوائد کے مؤلف امام ہیشمی کی مجمع میں عادت ہے کہ وہ اس میں حدیث نقل کرنے کے بعد اس حدیث کی سند کے بارے میں اپنا محدثانہ فیصلہ بھی رقم فرماتے ہیں چنانچہ انہوں نے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ!۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلی لم یسمع من ثابت بن قیس (مجمع الزوائد صفحہ ١٣٧ جلد ١) قادری صاحب نے یہ روایت تو نقل کردی مگر امام ہیثمی نے اس روایت پر جو انقطاع کا حکم لگایا ہے اسے حذف کر گئے۔۔۔ کیوں؟؟؟۔۔۔ قانون شکنی!۔ موصوف قادری نے خود ہی اُمت محمدیہ کا یہ امتیاز تحریر کیا ہے کہ متصل سند کے ساتھ حدیث پہنچانا اُمت محمدیہ کی خاصیت ہے اور خود ہی اس اصول کی خلاف ورزی کر کے اپنے موقف میں منقطع السند روایت پیش کردی جو متصل السند کی ضد ہے۔۔۔ اصل حقیقت!۔ بلاشبہ حدیث کی صحت کے لئے دیگر اوصاف کے ساتھ اس کا متصل السند ہونا بھی ضروری ہے مگر چونکہ قادری صاحب کی معرض احتجاج میں پیش کردہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے اس لئے محدثین نے سند کی افادیت میں یہ روایت پیش نہیں کی کیونکہ اس سے تو متصل السند ہونے کی شرط ختم ہوجاتی ہے چونکہ حدیث قادری صاحب کا فن نہیں اس لئے انہوں نے مذکورہ بالا ضعیف روایت اپنے استدلال میں پیش کی ہے۔۔۔ سند دین ہے!۔ موصوف نے صحیح مسلم کے حوالہ سے امام محمد بن سیر رحمہ اللہ کا یہ قول نقل یا ہے کہ وہ فرماتے ہیں!۔ ان ھذا العلم دین (ای علم الاسناد) تاخذوا دینکم (صفحہ ٢٠ بلفظہ)۔۔۔ یہ مختصر سی عبارت ہے اس کے نقل کرنے میں بھی موصوف ہاتھ کی صفائی دکھا گئے ہیں مسلم شریف میں یہ عبارت اس طرح ہے کہ۔۔۔ ان ھذا العلم دین فانظروا عمن تاخذون دینکم۔۔۔ قادری صاحب نے (عمن) کو (من) اور (تاخذون) کو (تاخزوا) بنادیا جس سے واضح ہے کہ موصوف نقل میں غیر موثق اورناقابل اعتماد اور عربیت سے ناواقف ہیں قابل غور بات یہ ہے کہ جو شخص آدھ سطر بھی درست نہ لکھ سکے وہ صحیح بخاری کا دورہ کیسے کراسکتا ہے (فاعتبروا) پھر اس قول سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں اسناد میں دین کی کوئی تعلیم نہیں ہوتی دین کا کوئی مضمون نہیں ہوتا احکام شریعت میں سے کوئی شئی اسناد میں بیان نہیں ہوتی اور تعلیمات اسلام میں کوئی تعلیم اسناد کا حصہ نہیں ہوتی اسناد شخصیتوں کے ناموں کا ایک سلسلہ ہے (صفحہ ٢١)۔۔۔ عجب معمہ ہے موصؤف تو اسناد کی اہمیت بیان کر رہے ہیں اور اس کو دین بھی سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ اسے دین سے خارج بھی کر رہے ہیں اگر سند اسلام کی تعلیم کا حصہ نہیں تو پھر یہ دین کسیے ہوگی اور اس سے عجب تر یہ بات ہے کہ موصوف قرآن میں لفط (قل) کو متن نہیں بلکہ سند مانتے ہیں جیسا کہ فرماتے ہیں (قل) کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا جارہا ہے کہ آپ فرمادیں پس (قل) یہ سند ہے اور اگلا حصہ (ھو اللہ احد) متن ہے (صفحہ ٢٢)۔۔۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کا کچھ حصہ ایسا ہے بقلم خود شیخ الاسلام کے نزدیک نہ اس میں دین کی تعلیم ہے اور نہ کوئی دین کا مضمون ہے اور نہ ہی احکام شریعت کا اس میں کوئی حکم ہے ویسے امریکہ اور برطانیہ وغیرہ کو ایسے شیخ الاسلام کی ضرورت ہے جو ان کے مشن کو ان کی جہد ونقصان کو بغیر چلائے۔۔۔ موصوف کے علم میں ہونا چاہئے کہ سند متن تک پہنچنے کا ذریعہ ہے جو ایک خبر کی حیثیت رکھتی ہے اور خبر کی تحقیق کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے اللہ کریم فرماتے ہیں کہ!۔ یا ایھا الذین امنو ان جاء کم فاق بنیاء فتبینوا (الحجرات ٦)۔۔۔ اے ایمان والوں!۔ اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کیا کرو۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ یہ آیت موصوف کے ذہن میں نہ ہو اس لئے سند کے بارے میں بے مقصد باتیں ذکر کردی ہیں ورنہ بات تو بالکل سیدھی سی ہے کہ جس کے ذریعے خبر پھیلی ہے اس کے بارے میں تحقیق کی جائے کہ آیا وہ اس لائق ہے کہ اس کی بیان کردہ خب |