It seems that you are unregistered. Please register with us by clicking Here, or if you are already registered login here
User Name: Password:
Urdu Poetry/Shayari Forum

Urdu Poetry Forum

Welcome to Urdu Community & Poetry/Shayari Forum

 


tahir ul qadri

This is a discussion on tahir ul qadri within the Discussion Corner forums, part of the Mehfil category; جناب طاہر القادری صاحب پاکستان کی معروف شخصیت ہیں اور بہت سے علوم و فنون میں مہارت رکھنے کے داعی ...


Go Back   Urdu Poetry/Shayari Forum > Welcome To HallaGulla - Urdu Poetry Forum > Mehfil > Discussion Corner

Video Photo Books Games Sites Register Groups FAQ Calendar Mark Forums Read Chat [5]

Notices

Rate This Thread - tahir ul qadri.
(0)
Thread Rating: 0 votes, average.

Closed Thread
 
Thread Tools
  #11  
Old 06-03-2007, 01:39 PM
Kartos's Avatar
Star Members
 
Join Date: Mar 2005
Location: Sahafa Street
Posts: 4,256

Country:

Tutorials: 0

Thanks: 6
Thanked 6 Times in 3 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 418
Kartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond reputeKartos has a reputation beyond repute
Default Re: tahir ul qadri

جناب طاہر القادری صاحب پاکستان کی معروف شخصیت ہیں اور بہت سے علوم و فنون میں مہارت رکھنے کے داعی ہیں ان کے اکثر دعاوی کی حقیقت تو آشکار ہوچکی ہے اب موصوف پر حدیث نبوی پر دستریس کا دعوٰی کا خبط غالب ہے اس لئے کہ اب ان کے نام کے ساتھ شیخ الاسلام کے منصب پر فائز ہونے کا لاحقہ بھی شامل ہوچکا ہے اور اس منصب جلیل کے لئے قرآن کی تفسیر اور حدیث کی تفہیم میں مہارت ضروری ہے ورنہ یہ لاحقہ بھی مذاق بن جاتا ہے چنانچہ آج کل موصوف اسی تک ودو میں لگے ہوئے ہیں چنانچہ انہوں نے اپنے برطانیہ کے دورے کے درمیان برمنگھم میں صحیح بخاری کا دورہ کرایا ہے ان کے دورے کا دوسرا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ستم آزمانے کے لئے صحیح بخاری کا انتخاب کیا ہے اور اس ضمن میں صرف صحیح بخاری پر ہی ظلم نہیں کیا بلکہ اسلام کے اساسی رکن توحید کو بھی تختہ مشق بنایا ہے راقم الحروف کو تو کبھی بھی ان کی ذات شریف کے کردار پر نظر رکھنے کی دلچسپی نہیں رہی تاہم بعض حضرات نے ان کی حدیث نبوی پر دست درازیوں پر کچھ لکھنے کا اصرار کیا راقم الحروف نے حدیث کے بارے میں ان کے جب فرمودات دیکھے تو معلوم ہوا کہ احباب کا اصرار بجا اور درست ہے۔۔۔

ماہنامہ منہاج القرآن نومبر ٢٠٠٦ء ہے جس میں موصوف کے دورہ صحیح بخاری کی پہلی قسط طبع منظر کشا ہوئی ہے ہم اس کا ہی سلسلہ وار جائزہ قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔۔۔وباللہ التوفیق۔۔۔

اہمیت سند موصوف نے اپنے دورہ کا آغاز سند کی اہمیت بیان کرنے سے کیا ہے اور اس بارے میں ایسے عجیب وغریب استدلال یا انکشافات کئے ہیں جن سے پہلی صدی ہجری سے لے کر دورہ حاضر تک کے مسلمان محروم چلے آرہے ہیں انہوں نے بغیر کسی تمہید کے سند کی اہمیت کا تذکرہ چھیڑا ہے فرماتے ہیں حدیث اور قرآن کے علم کو حاصل کرنا اور آگے پہنچانا اور نہ صرف پہچانا بلکہ متصل، معتمد، معتبراسناد کے ساتھ پہنچانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے اور پھر موصوف اپنے اس موقف پر (بحوالہ مجمع الزاوئد صفحہ ١٣٧ جلد ١) یہ دلیل پیش کی ہے کہ!۔

عن ثابت بن قیس تسمعون ویسمع منکم ویسمع من الذین یسمعون منکم ویسمع من الذین یسمعون من الذین یسمعون منکم۔۔۔

اور پھر کچھ یوں کیا ہے کہ!۔۔۔ حضرت ثابت بن قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے سنو گے اور پھر سے سنا جائے گا اور پھر ان سے میری حدیث سنی جائے گی جن لوگوں نے پہلے سنانے والوں سے سنا ہوگا (صفحہ ٢٠ بلفظہ)۔۔۔

اولا!۔ ہم کہتے ہیں موصوف نے اس روایت کے الفاظ بیان کرنے میں بڑا ہی تصرف اور نازک مزاجی سے کام لیا ہے یا پھر علم حدیث کے بارے میں اپنی جہالت کا ثبوت فراہم کیا ہے وہ یہ کہ اس روایت میں اپنی طرف سے بہت سا اضافہ کیا ہے جو اصل میں نہیں ہے۔۔۔

مجمع الزوائد میں یہ روایت ان الفاظ سے ہے کہ!۔
تسمعون ویسمع منکم ویسمع ممن یسمع منکم۔۔۔
مختصر سی روایت کو اضافہ کے ساتھ دوگنا طویل کر دیا اور پھر یہ نہیں کہ یہ اضافہ کتابت کی غلطی ہے اس لئے کہ جو ترجمہ کیا ہے وہ بھی تقریبا اضافہ شدہ عبارت کے مطابق جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اضافہ سہوا نہیں بلکہ عمدا کیا گیا ہے جو حدیث میں اپنی طرف سے اضافہ کرتا ہے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہے ایسے شخص پر صحیح بخاری کی ہی متواتر احادیث صادق آتی ہیں کہ!۔

من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار۔۔۔
جس شخص نے مجھ پر عمدا جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔۔۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی طریق سے بھی جھوٹ بولنا اور اپنے ماسبق کذاب راویوں کے جھوٹ کو اپنی تائید میں پیش کرنا۔۔۔ (جیسا کہ المنہاج النبوی میں بعض من گھڑت روایات ہیں)۔۔۔ موصوف کا دل پسند مشغلہ معلوم ہوتا ہے آخر انہوں نے اپنے منہاج کو تمام مسلمانوں سے انوکھے انداز میں چلانا ہے تو وہ اس کے بغیر کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔۔۔۔

ثانیا!۔ موصوف نے اس روایت میں صرف تحریف ہی نہیں کی ہے بلکہ جس کے حوالہ سے روایت کو نقل کیا ہے اس نقل میں بھی انہوں نے عقل سے کام نہ لیتے ہوئے بدیانتی کو ملحوظ رکھا اور یہود و نصارٰی کی اُس روش پر چل پڑے جو انہوں نے کلام اللہ کے ساتھ کیا اور جانتے ہوئے تحریف کے مرتکب ہوئے اور قیامت تک ذلت و رسوائی جن کا مقدر بن گئی موصوف نے تحریف کرتے ہوئے اتنا بھی نہیں سوچا کہ ایک عامی جو دین کے علم سے ناواقف ہے وہ کیا سوچ اور کیا عقیدہ لے کر اُٹھے گا۔۔۔ انہی جیسے علماء سو پر اللہ نے قیامت تک لعنت فرمادی ہے جو تھوڑی سی قیمت کے بدلے کلام کو بدل دیتے ہیں۔۔۔

مجمع الزوائد کے مؤلف امام ہیشمی کی مجمع میں عادت ہے کہ وہ اس میں حدیث نقل کرنے کے بعد اس حدیث کی سند کے بارے میں اپنا محدثانہ فیصلہ بھی رقم فرماتے ہیں چنانچہ انہوں نے اس روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ!۔

عبدالرحمٰن بن ابی لیلی لم یسمع من ثابت بن قیس (مجمع الزوائد صفحہ ١٣٧ جلد ١) قادری صاحب نے یہ روایت تو نقل کردی مگر امام ہیثمی نے اس روایت پر جو انقطاع کا حکم لگایا ہے اسے حذف کر گئے۔۔۔ کیوں؟؟؟۔۔۔

قانون شکنی!۔ موصوف قادری نے خود ہی اُمت محمدیہ کا یہ امتیاز تحریر کیا ہے کہ متصل سند کے ساتھ حدیث پہنچانا اُمت محمدیہ کی خاصیت ہے اور خود ہی اس اصول کی خلاف ورزی کر کے اپنے موقف میں منقطع السند روایت پیش کردی جو متصل السند کی ضد ہے۔۔۔

اصل حقیقت!۔ بلاشبہ حدیث کی صحت کے لئے دیگر اوصاف کے ساتھ اس کا متصل السند ہونا بھی ضروری ہے مگر چونکہ قادری صاحب کی معرض احتجاج میں پیش کردہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے اس لئے محدثین نے سند کی افادیت میں یہ روایت پیش نہیں کی کیونکہ اس سے تو متصل السند ہونے کی شرط ختم ہوجاتی ہے چونکہ حدیث قادری صاحب کا فن نہیں اس لئے انہوں نے مذکورہ بالا ضعیف روایت اپنے استدلال میں پیش کی ہے۔۔۔

سند دین ہے!۔ موصوف نے صحیح مسلم کے حوالہ سے امام محمد بن سیر رحمہ اللہ کا یہ قول نقل یا ہے کہ وہ فرماتے ہیں!۔

ان ھذا العلم دین (ای علم الاسناد) تاخذوا دینکم (صفحہ ٢٠ بلفظہ)۔۔۔
یہ مختصر سی عبارت ہے اس کے نقل کرنے میں بھی موصوف ہاتھ کی صفائی دکھا گئے ہیں مسلم شریف میں یہ عبارت اس طرح ہے کہ۔۔۔

ان ھذا العلم دین فانظروا عمن تاخذون دینکم۔۔۔
قادری صاحب نے (عمن) کو (من) اور (تاخذون) کو (تاخزوا) بنادیا جس سے واضح ہے کہ موصوف نقل میں غیر موثق اورناقابل اعتماد اور عربیت سے ناواقف ہیں قابل غور بات یہ ہے کہ جو شخص آدھ سطر بھی درست نہ لکھ سکے وہ صحیح بخاری کا دورہ کیسے کراسکتا ہے (فاعتبروا) پھر اس قول سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں اسناد میں دین کی کوئی تعلیم نہیں ہوتی دین کا کوئی مضمون نہیں ہوتا احکام شریعت میں سے کوئی شئی اسناد میں بیان نہیں ہوتی اور تعلیمات اسلام میں کوئی تعلیم اسناد کا حصہ نہیں ہوتی اسناد شخصیتوں کے ناموں کا ایک سلسلہ ہے (صفحہ ٢١)۔۔۔

عجب معمہ ہے موصؤف تو اسناد کی اہمیت بیان کر رہے ہیں اور اس کو دین بھی سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ اسے دین سے خارج بھی کر رہے ہیں اگر سند اسلام کی تعلیم کا حصہ نہیں تو پھر یہ دین کسیے ہوگی اور اس سے عجب تر یہ بات ہے کہ موصوف قرآن میں لفط (قل) کو متن نہیں بلکہ سند مانتے ہیں جیسا کہ فرماتے ہیں (قل) کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا جارہا ہے کہ آپ فرمادیں پس (قل) یہ سند ہے اور اگلا حصہ (ھو اللہ احد) متن ہے (صفحہ ٢٢)۔۔۔

اسکا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کا کچھ حصہ ایسا ہے بقلم خود شیخ الاسلام کے نزدیک نہ اس میں دین کی تعلیم ہے اور نہ کوئی دین کا مضمون ہے اور نہ ہی احکام شریعت کا اس میں کوئی حکم ہے ویسے امریکہ اور برطانیہ وغیرہ کو ایسے شیخ الاسلام کی ضرورت ہے جو ان کے مشن کو ان کی جہد ونقصان کو بغیر چلائے۔۔۔

موصوف کے علم میں ہونا چاہئے کہ سند متن تک پہنچنے کا ذریعہ ہے جو ایک خبر کی حیثیت رکھتی ہے اور خبر کی تحقیق کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے اللہ کریم فرماتے ہیں کہ!۔

یا ایھا الذین امنو ان جاء کم فاق بنیاء فتبینوا (الحجرات ٦)۔۔۔
اے ایمان والوں!۔ اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کیا کرو۔۔۔

ہوسکتا ہے کہ یہ آیت موصوف کے ذہن میں نہ ہو اس لئے سند کے بارے میں بے مقصد باتیں ذکر کردی ہیں ورنہ بات تو بالکل سیدھی سی ہے کہ جس کے ذریعے خبر پھیلی ہے اس کے بارے میں تحقیق کی جائے کہ آیا وہ اس لائق ہے کہ اس کی بیان کردہ خبر قبول کی جاسکے کیونکہ اللہ تعالٰی نے خبر کی تحیق کے لئے فاسق کا ذکر کیا ہے جو اپنا ایک وجود رکھتا ہے تو گویا کہ اس آیت کریمہ نے موصوف کے تمام مفروضات کو باطل قرار دیا ہے اور ان کے متجددانہ دعوٰی کے غبارہ سے ہوا نکال دی ہے۔۔۔

دین متن ہے یا سند!۔
موصوف فرماتے ہیں بیشک متن میں تعلیم ہے دین تعلیم کے متن میں بلکہ تعلیم کی سند کا نام ہے (صفحہ ٢١) معلوم نہیں کے موصوف جب بخاری کا دورہ کرارہے تھے تو ان پر شیخ الاسلام بننے کے دورے پڑھ رہے تھے سند کو تو دین مانتے ہیں مگر متن میں تعلیم ہے مگر دین تعلیم کے متن کو دین ماننے سے انکاری ہیں واضع رہے کہ اصل دین تو متن ہے جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر کا نام ہے سند تو اس تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے اور وہ سند متن کی وجہ سے دین میں شامل ہے ورنہ خالی سند کو بغیر متن کے ہوا سے کون دین کہتا ہے کہ شافعی، مالک، فافع تو کیا محض ان خالی ناموں کو ین کہا جائے گا۔۔۔ ہرگز نہیں ہاں جب حدثنا الشافعی عن مالک عن نافع عن ابن عمر قال قال رسول اللہ تو یہ دین میں ہوگی اور اسی کو امام ابن سیرین نے دین سے کہا ہے اس لئے کہ اس سند کے ذریعے اصل دین (حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) تک رسائی ہوتی ہے موصوف مزید لکھتے ہیں ان اللہ کے بندوں کے ناموں کی فہرست کا جاننا اور ان کو یاد کرنا اور ان ناموں کے سلسلے سے منسلک ہونا دین ہے(صفحہ ٢١)۔۔۔

موصوف کا یہ فرمان لغو اور باطل ہے جس کا سلف صالحین میں سے کوئی بھی قائل نہیں تھا اللہ کے بندوں کے ناموں کو جاننا اور انہیں یاد رکھنا اور ناموں کے سلسلے میں منسلک کس دلیل سے دین ہے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارت میں سند کا جب وجود نہ تھا اور نہ اس کی ضرورت تھی اس لئے کہ لوگ حدیث براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے تھے اس وقت چونکہ ناموں کا سلسلہ موجود نہ تھا تو کیا معاذ اللہ دین ناقص تھا ہاں جب اکابر صحابہ کے دور کے بعد سند کی ضرورت پیش آئی تو کیا دین اس وقت پورا سند کی خبر تک رسائی اور اس کے کذب و صدق کے جانچنے کا ذریعہ ہے صحابی اپنے شاگرد تابعی اور تابعی اپنے شاگرد تبع تابعی کو اور وہ اپنے شاگرد کو حدیث کی خبر دیا ہے محض ناموں کا کوئی اعتبار نہیں اس لئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ صحابی کے پیچھے جو سلسلہ سند ہے اس کے راوی کیسے ہیں کیا وہ قابل اعتماد بھی ہیں کہ نہیں؟؟؟۔۔۔ اگر قابل اعتماد نہ ہو تو اس کی بیان کردہ روایت بھی قابل اعتماد نہیں ٹھہراتی اگر صرف ناموں کا سلسلہ ہوتا تو ناقابل اعتماد راویوں کی روایت کیوں رد کردی جاتی ہے۔۔۔

سند کی تحقیق متن کی حفاظت کی خاطر ہے!۔
بلاشبہ سند تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہی معرض وجود میں آچکی تھی لیکن اس میں تحقیق کی تب ضرورت پیش آئی جب اہل بدعت نے اپنے عقائد کی خاطر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے من گھڑت باتیں منسوب کرنا شروع کیں اور خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں حدیث رسول غیر محفوظ نہ ہوجائے جیسا کہ امام ابن سیرین فرماتے ہیں کہ!۔

لم یکونوا یسئالون عن الاسناد فلما وقعت الفتنۃ قالو اسمو النار فینظر الی اھل السنۃ فیؤخذ حدیثھم وینظر الی اھل البدع فلا یؤخذ حدیثھم (مسلم صفحہ ١٩ جلد ١)۔۔۔

عہد صحابہ میں لوگ سند کا سوال نہیں کرتے تھے اور جب فتنہ واقع ہوگیا (جنگ صفین ہوئی پھر کہنے لگے سامنے ان کا نام ذکر کرو جن سے حدیث روایت کی گئی ہے) تو دیکھا جاتا اگر حدیث کے راوی اہل سنت میں سے ہیں تو اُن کی روایت کردہ حدیث لے لی جاتی اور اہل بدعت کو دیکھا جاتا تو ان کی حدیث رد کر دی جاتی امام ابن سیرین کے قول کا یہ مطلب نہیں کہ واقعہ صفین سے پہلے سند موجود نہ تھی بلکہ واضع مطلب یہ ہے کہ لوگ سند کا سوال نہیں کرتے تھے اور اُس کی وضاحت امام ابن سیرین نے خود ہی کردی ہے کہ!۔

فان القرم کانوا اصحاب حفظ واتقان (جامع الاصول ١٣١ جلد ١)۔۔۔
اس وقت کے لوگ حفظ و اتفاق والے تھے امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ!۔

کنت اذا سمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیثا نفعنی اللہ بماشاء منہ واذا حدثنی عنہ غیری استحلفتہ فاذا حلف لی صدقۃ۔۔۔ (مسند احمد صفحہ ٢ جلد١) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست کوئی حدیث سنتا تو اللہ تعالٰی جس قدر چاہتا مجھے اس سے فائدہ پہنچاتا اور جب مجھے دوسرا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا تو اس سے قسم اُٹھواتا اور جب وہ قسم اُٹھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا اسی طرح خلیفہ رسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی (ابوداود، ترمذی) اور امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ بھی حدیث سننے کے بعد چھان بین کرتے اور تصدیق کے بعد قبول کرتے (بخاری کتاب لاستبذان ومسلم وغیرہ) گویا کہ سند متن کی خادم ہے متن کے بغیر اس کا وجود محال ہے۔۔۔

ناموں کی برکت!۔
موصوف سند کو ناموں کی برکت سے بھی تعبیر کرتے ہیں اس پر انہوں نے ابن ماجہ کی ایک روایت کو بطور دلیل پیش کیا ہے دو روایت اس طرح ہے کہ!۔

عن عبدالسلام بن ابی صالح بن علی بن موسی رضا عن ابیہ ای موسی الکاظم عن جعفر بن الصادق عن ابیہ ای الام محمد الباقر عن ابیہ علی بن حسین الاما زین العابدین عن ابیہ ای الامام حسین عن ابیہ ای علی بن ابی طالب قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الایمان معرفۃ بالقلب وقول بلسان وعمل بالارکان (صفحہ ٢١ بلفظہ)۔۔۔

موصوف نے اس روایت کی سند میں اپنے متجدانہ تخیل کو سمودیا ہے اور سند میں بھی اپنی طرف سے بہت سا اضافہ کیا ہے ابن ماجہ میں یہ سند اس طرح ہے کہ!۔

حدثنا سھل بن ابی سھل و محمد بن اسمعٰیل قالا حدثنا عبدالاسلام بن صالح ابو الصلت الھروی حدثنا علی ابن موسی الرضا عن ابیہ عن جعفر بن محمد عن ابیہ عن علی بن الحسن عن ابیہ عن علی بن ابی طالب۔۔۔

آپ اصل سند کا قادری صاحب کی تحریر کردہ سند سے موازنہ کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ اصل سند القاب سے خالی ہے جبکہ قادری صحاب کی بیان کردہ سند میں کتنے ناموں کے ساتھ القاب ملحق ہیں اور پھر ان القاب کی اصل سند کے ساتھ اس طرح گڈ مڈ کر دیا ہے کہ امتیازی علامت (بریکٹ) بھی نہیں ڈالا جس سے قاری یہ سمجھتا ہے کہ قادری صاحب کی بیان کردہ سند بعینہ وہی ہے جو ابن ماجہ میں ہے اگر قادری صاحب یہ عذر پیش کریں کہ یہ القاب محج توضیع کے لئے ہیں تو پھر یہ اصول حدیث کے علوم سے ناواقفی کا تنیجہ ہے اصول کی رو سے اگر توضعی یا توضیحی کلمہ بڑھانا تھا تو اس کے لئے قوسین (بریکٹ) لگاتے تاکہ اصل اور اضافہ میں امتیاز ہوجاتا ورنہ یہ مدرج فی الاسناد ہے جو اصول حدیث کی رو سے ممنوع ہے۔۔۔

روایت من گھڑت ہے!۔
موصوف کی پیش کردہ مذکورہ روایت من گھڑت ہے محقق اور ناقد محدثین نے اسے من گھڑت قرار دیا ہے تفصیل کے لئے راقم الحروف کی کتاب ضعیف اور موضوع روایات ملاحظہ کریں۔۔۔ موصوف لکھتے ہیں کہ!۔

قال ابو السلط الھروی لوقرء ھذا الاسناد علی مجنون لبرء۔۔۔
یہ کیا ہے اس حدیث کی صرف سند پڑھ کر کسی دماغی مریض پر دم کردیاجائے تو شفایات ہوجائے گا پھر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں اس حدیث مبارکہ کی سند میں موجود ناموں کی برکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ متن سے پہلے ناموں کا یہ سلسلہ بھی اسلام کے اندر اہمیت و عظمت کا حامل ہے (صفحہ ٢١)۔۔۔

ہم کہتے ہیں کہ اولا تو موصوف نے اس متن میں تحریف کی ہے اس قول کا قائل ابوالسلط نہیں ابو الصلت ہے یہ تحریف کیوں کی تو اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابوالصلت چونکہ متعصب شیعہ اور معروف کذاب ہے موصوف اس کے نام کو بدل کر قول کو معرض حجت پیش کررہا ہوں وہ تو کذاب ہے بھلا کذاب راوی کی بات کیسے معتبر ہوسکتی ہے لہذا بہتر یہی ہے کہ قائل کا نام ہی بدل دو تاکہ اس کے کذاب پر اعتراض ہی نہ ہو پھر یہ کتاب کی غلطی بھی نہیں اس لئے کہ موصوف نے ترجمہ میں ابوالسلط ہی لکھا ہے۔۔۔

شفا کا نظریہ!۔
اس سند کے رجال پر غور کیا جائے تو ابوالصلت کے استاذ سے لے کر آخر تک تمام راوی اہل بیت میں سے ہیں اور شیعہ حرات ان تمام کو اپنے معصوم امام مانتے ہیں ابو الصلت بھی چونکہ شیعہ تھا جیسا کہ امام ذہبی فرماتے ہیں متعصب شیعہ تھا (میزان صفحہ ٦١٦ جلد ٢) اس لئے اس نے سند کے بارے میں یہ عقیدہ کہا ہے کہ اگر اسے مجنون پر پڑھا جائے تو وہ تندرست ہوجائے موصوف کی چونکہ علم حدیث فن خصوصا رجال حدیث کے بارے میں ان کی معلومات سفر کے برابر ہیں اور پھر تحقیق کا بھی کوئی ذوق نہیں صرف نمود مقصد ہے اس لئے اگر تحقیق کریں تو اس قسم کے شرکیہ عقائد کو چھوڑنا لازما آجائے گا جو موصوف کے لئے ناممکن ہے۔۔۔

نام میں برکت!۔
اسلام کا اس بارے میں شفاف نظریہ ہے کہ (وتبارک اسمک) اللہ تعالٰی کانام بابرکت ہے اس کے علاوہ اسلام نے کسی نام کو باعث برکت قرار نہیں دیا اور نہ صحابہ کرام ہی اللہ تعالٰی کے نام کے علاوہ محض کسی دوسرے کے نام سے برکت حاصل کرتے تھے یہ اعتقادی بدعت ہے جو شیعہ کے واسطے سے مسلمانوں میں پھیلی ہے اب اس بدعت کے پھیلانے کی ذمداری قادری صاحب نے اپنے ذمہ لے لی ہے۔۔۔

ابو الصلت کا تعارف!۔
عقیلی فرماتے ہیں رافضی خبیثت (الضغعاء الکبیر) ابن عدی فرماتے ہیں متھم ہے (اسوہ الکامل) دارقطنی فرماتے ہیں رافضی خبیث وضع حدیث کرنے میں منھم ہے اس نے یہی حدیث الایمان باقر ارالقلب (جسے قادری صاحب نے پیش کیا ہے) وضع کی ہے میزان صفحہ ٦١٦ جلد ٢) امام ابن حبان فرماتے ہیں یہ حماد بن زید اور اہل عراق سے فضائل علی اور اہل بیت سے عجیب قسم کی احادیث روایت کرتا ہے جب یہ کسی حدیث کے روایت کرنے میں منفرد ہوتو قابل حجت نہیں (کتاب المجروحین صفحہ ١٥١ جلد ٢) راقم الحروف کہتا ہے یہ مذکورہ روایت اسی کذاب راوی کی روایت کردہ ہے جو اس لائق نہیں کہ اس سے احتجاج پکڑا جائے چہ جائیکہ اس سے اسلام شکن جیسا نظریہ قائم کیا جائے۔۔۔

احناف اور مذکورہ روایت!۔
امام ابو حنیفہ اور دیگر آئمہ احناف کا ایمان کے بارے میں یہ قول ہے کہ ایمان صرف اقرار اور تصدیق کا نام ہے اعمال ایمان میں داخل نہیں اسی بناء پر احناف ایمان میں کمی بیشی کے قائل نہیں مگر مذکورہ روایت احناف کے عقیدہ کی نفی کرتی ہے کہ اس روایت میںعمل بالارکان کو ایمان کا جزء بلکہ شرط قرار دیا گیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ جس کی سند میں اتنی قوت ہے کہ پاگل مریض سنتے ہی وہ شفایات ہوجاتا ہے تو اُس کے متن کا کتنا بڑا درجہ ہوگا اس لئے کہ متن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان یا عمل کو کہا جاتا ہے یہ رویات گویا کہ قادری صاحب کے لئے ایک امتحان ہے اولا تو صاف الفاظ میں عملا بھی اس روایت کو قبول کریں اور اس بارے میں آئمہ احناف کے معروف عقیدہ کی نفی کریں کیا یہ ممکن ہے؟؟؟۔۔۔

امام مسلم پر الزام!۔
فرماتے ہیں امام مسلم شخصیت پرست نہ تھے مگر شخصیت پرست نہ ہوکر فرماتے ہیں دین صرف اللہ والوں کے نام کے ناموں کا نام ہے یعنی وہ اہل اللہ جن کے ذریعے دین پہنچا ہے ان کے اسناد کو دین کہتے ہیں (صفحہ ٢١) امام مسلم نے امام ابن سیرین کا قول نقل کر کے یہ واضع کیا ہے کہ سند دین میں سے ہے یہ تو نہیں کہا کہ اہل اللہ کے نام دین ہیں سند اور عام ناموں میں بعد مابین المشرقین ہے عام ناموں کو قطعا کسی نے دین قرار نہیں دیا بلکہ جب یہ نام اس سلسلہ کے ساتھ بالترتیب واقع ہوں کہ جو کسی متن کی خبر دیں تو تب یہ سند ہوگی چونکہ سند متن یعنی دین تک پہنچنے کا نام ہے اس لئے اس واسطے کو امام ابن سیرین نے دین کہا ہے جب کہ موصوف اہل اللہ کے مطلق ناموں کو دین قرار دے رہے ہیں جس سے امام ابن سیرین اور امام مسلم دونوں ہی بری ہیں۔۔۔

سند اور قرآن!۔
فرماتے ہیں کہ!
ان ھذا العلم ای علم الاسناد دین۔۔۔
یہ دین قول قرآن کی اس آیت کی تشریح ہے جس میں اللہ تعالٰی نے فرمایا (اھدنا الصراط المستق&