It seems that you are unregistered. Please register with us by clicking Here, or if you are already registered login here
Welcome to Urdu Community & Poetry/Shayari Forum
This is a discussion on ***Benazir ka qatal insniya ka qatal*** within the Discussion Corner forums, part of the Mehfil category; salam! what is ur opinion?...
| |||||||
| Poetry | Video | Photo | Books | Games | Sites | Register | Groups | FAQ | Calendar | Mark Forums Read | Chat |
|
#2
| |||||
| |||||
| Asalam-o-Alaikum Be-nazir ki moat se ziyada dukh dene wali cheez un ki party ke logon ka hewaniyat se bherpur aytajaaj tha, jin ko nahi maloom tha woh bhi jaan gaye ke be-nazir ki himayat mai majority kis qammash ke logon ki hai. jahalat ka andaaz karain ke khud larkana mai qehat para hua tha, or log khanay peenay ki ashiya se mehroom tha. sirf sindh mai jo kuch bhi kya gaya, woh is province ko mazeed peechay le gaya, or nuqsaan kisi or ka nahi sindh ka apna hua hai. jo kuch be-nazir ne kya, yaani apne dor-e-iqtadar mai loot maar, 3 din tak woh hi kuch us ke supporters kerte rahe. khuda in logon ko hidayat de, or in ko ache rehnuma ata fermaye. Ameen
__________________ ![]() |
|
#3
| |||||
| |||||
| thanks for sharing ............. lakin aik baat ki samajh nahin aati kay her taraf her jaga sirf aik naam goonj raha hay Benazir........... ham sab ko iss ka afsoos hay ....magar un logon per kuon afsoos nahin jo benazir kay saath mot kay ghat utaar diyay gayay ................... wo log kon thay jo karachi saneha main jaan behaq ho gayay .................wo bachiyan kon theen jo laal masjid main maar di gayeen ................ pishawar dhamakay main marnay walay kiya insaan nahin thay .............kiya afsoos sirf siyasi shakhsiat kay liyay hota hay ............. Allah kay nazdeek sab uss ki makhloq hay aur bara aur behtar wohi hay jo ziyada perhaizgaar hay .................... . Mujhay nahin samajh aati kay mein sirf benazir ka afsoos kuon keron aur afsoos bhi aisa kay logon ki garian jala don , mulk ka nuqsaan keron jiss kay liyay kitni qurbanian deen ........... Mujhay aap sab say aik sawal poochna hay jo jo yeh hangamay ker rahay hain aur jahalat ka saboot day rahay hain mulk kay wasail ko aag laga ker kay ................ agar wo dhamaka na hota tou kiya benazir sahiba zinda rehteen ???????????????????? ???????? jab kay un ki mot ka tou waqt aa giya tha .................... haan uss shakhs jiss nay yeh kiya uss nay apni akherat kharab ker li .................... ..
__________________ /shukar |
|
#4
| |||||
| |||||
| Quote:
__________________ We are all going to go.The big question we still have to ask is not where we are going but what we are doing here in the first place. |
|
#5
| |||||
| |||||
| بسم اللہ الرحمٰن الرحیم السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد! ـ میں اس بارے میں تھوڑا مختلف نظریہ رکھتا ہوں۔۔۔ ضروری نہیں کہ میری رائے سے کسی بھی ممبر کا اتفاق ہو۔۔۔ میری نظر میں مملکت خدادا پاکستان میں بے نظیر بھٹو کے قتل سے جو معصوم لوگوں کی جانیں گئیں اس کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔یہ زیادتی ہے جس کی جتنی بھی مزمت کی جائے کم۔۔۔ سوال یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم پہلے مسلمان ہیں پاکستانی؟؟؟۔۔۔ اگر بحیثیت پاکستانی کسی بھی ساتھی کو بےنظیر کی موت پر افسوس ہے تو یہ سوچ جمہوریت پسند روشن خیال لوگوں کا نظریہ ہے۔۔۔ لیکن ایک نظریہ اور تاثر ہمیں ہمارے دین نے دیا ہے وہ یہ کہ مسلمانوں پر عورت کی حکمرانی خود مسلمانوں پر باعث رحمت نہیں بلکہ حدیث کی روح سے ملاحظہ فرمائیں۔۔۔ ابو بكرۃ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ خبر ملى كہ اہل فارس نے كسرى كى بيٹى كو اپنا حكمران اور بادشاہ بنا ليا ہے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: " وہ قوم كبھى بھى ہرگز كامياب نہيں ہو سكتى جس نے اپنے معاملات كا نگران ايك عورت كو بنا ليا" صحيح بخارى حديث نمبر ( 4163 )۔۔۔ اب ہمارے سامنے دو راستے ہیں ایک راستہ جو اللہ اور اُس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دکھایا۔۔۔ اور دوسرا راستہ وہ جو ہمیں شیطان اور اُس کے پیروکاروں نے دکھانے کی کوشش کی۔۔۔ فیصلہ اب ہمیں خود کرنا ہے کہ ہم پہلے مسلمان ہیں یا پھر پاکستانی؟؟؟۔۔۔۔ والسلام۔۔۔ مزید تفصیل سے اس تحریر کو پڑھنے کے لئے دیئے گئے ہوئے لنک پر کریں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔وبعد! ۔ اول: ہر مسئلہ ميں لازم نہيں كہ اس كى خاص دليل قرآن مجيد سے ہو، بلكہ بہت سے احكام ايسے ہيں جو سنت نبويہ صحيحہ سے ثابت ہيں، اور قرآن مجيد سے ثابت نہيں، اور مسلمان شخص پر ضرورى اور واجب ہے كہ وہ قرآن و سنت دونوں كى اتباع و پيروى كرے. فرمان بارى تعالى ہے: {اے ايمان والو! اللہ تعالى اور اس كے رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كى اطاعت و فرمانبردارى كرو، اور اپنے حكمرانوں كى، اور اگر كسى چيز ميں تم اختلاف كرو تو اسے اللہ تعالى اور اس كے رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كى طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ تعالى اور يوم آخرت پر ايمان ركھتے ہو، يہ تمہارے ليے انجام كے لحاظ سے بہتر اور اچھا ہے} النساء ( 59 ). تو اللہ تعالى نے اس آيت ميں اپنى اور اپنے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت كرنے، اور متنازعہ مسائل كو اپنى كتاب اور اپنے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت پر لوٹانے كا حكم ديا ہے. اور ايك مقام پر فرمان بارى تعالى ہے: {اور رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) جو حكم تمہيں ديں اسے مان ليا كرو، اور جس چيز سے منع كريں اس سے رك جايا كرو، اور اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو، بلا شبہ اللہ تعالى سخت سزا دينے والا ہے} الحشر ( 7 ). اور ابن ماجۃ رحمہ اللہ تعالى نے مقدام بن معديكرب كندى رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: " قريب ہے كہ ايك وقت آئے ايك شخص اپنے تكيہ پر سہارا ليے ہوئے ميرى احاديث ميں سے ايك حديث بيان كرے، تو يہ كہے: ہمارے اور تمہارے مابين اللہ عزوجل كى كتاب ہے، اس ميں جو كچھ ہم حلال پائيں گے اسے ہم حلال مانيں گے، اور جو كچھ اس ميں حرام پائيں گےاسے ہم حرام مانيں گے، خبردار! بلاشبہ اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم نے جو حرام كيا ہے وہ اسى طرح ہے جس طرح اللہ تعالى نے حرام كيا ہے" سنن ابن ماجۃ حديث نمبر ( 12 )علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 8186 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے. دوم: كتاب و سنت كے دلائل سے يہ ثابت ہوتا ہے كہ عورت كے ليے ولايت عامہ كا منصب جائز نہيں، مثلا خلافت، اور وزارت، اور قضاء جج وغيرہ. ذيل ميں اس كے قرآن وسنت سے دلائل پيش كيے جاتے ہيں: 1 - قرآن مجيد سے دلائل: فرمان بارى تعالى ہے: {مرد عورتوں پر حاكم ہيں، اس وجہ سے كہ اللہ تعالى نے ايك كو دوسرے پر فضيلت دى ہے، اور اس وجہ سے كہ مردوں نے اپنے مال خرچ كيے ہيں} النساء ( 34 ). قرطبى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: قولہ تعالى: {مرد عورتوں پر حاكم ہيں}. يعنى: وہ ان پر خرچ كرتے ہيں، اور ان كا دفاع اور حفاظت كرتے ہيں، اور اس ليے بھى كہ مردوں ميں ہى حكمران اور امير اور جھاد و قتال اور جنگ كرنے والے ہوتے ہيں، اور يہ عورتوں ميں نہيں ہوتا. اھـ ديكھيں: تفسير القرطبى ( 5 / 168 ). اور ابن كثير رحمہ اللہ تعالى اس آيت كى تفسير ميں كہتے ہيں: يعنى مرد عورت پر قيم اور نگران ہے، يعنى وہ اس كا رئيس اور بڑا اور اس پر حاكم ہے، اور جب وہ ٹيڑھى ہو جائے تو اسے سيدھا كرنے والا ہے. { اس وجہ سے كہ اللہ تعالى نے ايك كو دوسرے پر فضيلت دى ہے}. يعنى: كيونكہ مرد عورت سے افضل ہے، اور مرد عورت سے بہتر ہے، اسى ليے نبوت مردوں كے ساتھ خاص ہے، اور اسى طرح بڑى حكمرانى اور بادشاہت بھى. اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: " وہ قوم كبھى بھى كامياب نہيں ہو سكتى جس نے اپنے معاملات كا نگران عورت كو بنا ليا" اسے امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے اپنى صحيح ميں نقل كيا ہے. اور اسى طرح قضاء اور جج كا منصب بھى. اھـ ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 1 / 492 ). 2 - سنت نبويہ سے دلائل: ابو بكرۃ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ: جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ خبر ملى كہ اہل فارس نے كسرى كى بيٹى كو اپنا حكمران اور بادشاہ بنا ليا ہے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: " وہ قوم كبھى بھى ہرگز كامياب نہيں ہو سكتى جس نے اپنے معاملات كا نگران ايك عورت كو بنا ليا" صحيح بخارى حديث نمبر ( 4163 ). امام شوكانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اس ميں دليل ہے كہ عورت حكمرانى نہيں كر سكتى اور وہ اس كى اہل نہيں، اور كسى بھى قوم كے ليے اسے حكمران بنانا حلال نہيں، كيونكہ ان پر ايسے كام سے اجتناب كرنا ضرورى ہے جو ان كى عدم فلاح اور ناكامى كا باعث ہو.اھـ كچھ كمى و بيشى كے ساتھ ديكھيں: نيل الاوطار للشوكانى ( 8 / 305 ). اور ماوردى رحمہ اللہ تعالى وزارت كے متعلق كلام كرتے ہوئے كہتے ہيں: اور عورت كے ليے يہ منصب جائز نہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: " وہ قوم كبھى بھى كامياب نہيں ہو سكتى جس نے اپنے معاملات عورت كے سپرد كر ديے"؛ اور اس ليے بھى كہ اس ميں رائے طلب كى جاتى ہے، اور عزم كى پختگى بھى ہوتى ہے جس سے عورتيں كمزور ہيں، اور معاملات خود طے كرنے ميں ظاہر بھى ہونا پڑتا ہے جو كہ عورتوں كے ليے ممنوع ہے. اھـ ديكھيں: الاحكام السطانيۃ ( 46 ). اور ابن حزم رحمہ اللہ تعالى خلافت كے متعلق كلام كرتے ہوئے كہتے ہيں: اور اس ميں كسى كا اختلاف نہيں كہ يہ عورت كے ليے ناجائز ہے. اھـ ديكھيں: الفصل فى الملل و الاھواء والنحل ( 4 / 129 ). اور الموسوعۃ الفقھيۃ ميں ہے: فقھاء كرام كا اتفاق ہے كہ امام اعظم كى شروط ميں سے ہے وہ مرد ہو، لھذا عورت كے ليے حكمرانى صحيح نہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: " وہ قوم ہرگز كبھى بھى كامياب نہيں ہو سكتى جس نے اپنے معاملات عورت كى سپرد كر ديے" اور ( مرد اس ليے ہے ) تا كہ وہ مردوں سے ميل جول ركھ سكے، اور حكمرانى كے معاملات نپٹانے كے ليے فارغ ہو؛ اور اس ليے بھى كہ اس منصب ميں بہت سے خطرناك اعمال پائے جاتے ہيں، اور بہت زيادہ تھكا دينے والے كام ہيں، جو صرف اور صرف مرد كے لائق ہيں. اھـ ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 21 / 270 ). شيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال دريافت كيا گيا: خالص شريعت اسلاميہ ميں عورت كا اپنے آپ ملك كى سربراہ يا حكومت كى سربراہ، يا وزيراعظم كى نامزدگى كے ليے پيش كرنے كا حكم كيا ہے؟ تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا: عورت كو حكمران بنانا، اور اسے مسلمانوں كى عام سردارى كے ليے اختيار كرنا جائز نہيں، اس پركتاب و سنت اور اجماع دلالت كر رہا ہے: كتاب اللہ ميں فرمان بارى تعالى ہے: {مرد عورتوں پر حاكم ہيں، اس وجہ سے كہ اللہ تعالى نے ايك كو دوسرے پر فضيلت دى ہے} النساء ( 34 ). اور آيت ميں مذكور حكم عام ہے جو كہ مرد كى اس كے خاندان ميں حكمرانى اور ذمہ دارى كو شامل ہے، اور اسى طرح عام حكمرانى تو بالاولى شامل ہو گى، اور اس حكم كى مزيد تاكيد آيت ميں وارد تعليل سے ہوتى ہے كہ آيت ميں عقل اور رائے اور حكم اور سردارى كى دوسرى اشياء كى افضليت ہے. اور سنت نبويہ سے دليل يہ ہے كہ: كہ جب فارسيوں نے كسرى كى بيٹى كو اپنا حكمران اور بادشاہ بنا ليا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: " وہ قوم ہرگز كبھى بھى كامياب نہيں ہو سكتى جس نے اپنے معاملات عورت كے سپرد كر ديے" اسے امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے روايت كيا ہے. اور اس ميں كوئى شك نہيں كہ يہ حديث عورت كى عمومى امارت اور حكمرانى كى حرمت پر دلالت كرتى ہے، اور اسى طرح كسى صوبے اور ملك كى حكمرانى كى حرمت پر بھى؛ كيونكہ يہ سب كچھ اس كى عمومى صفت ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عورت كو حكمران بنانے كى كاميابى اور فلاح كى نفى كى ہے، اور فلاح و كاميابى خير و بھلائى ميں كاميابى ہوتى ہے. خلفاء راشدين كے عہد مبارك ميں امت اور تين صديوں كے آئمہ كرام جن كے بارہ ميں خير و بھلائى كى شہادت دى گئى ہے نے عملى اجماع كيا كہ عورت كو نہ تو قضاء كا منصب ديا |