It seems that you are unregistered. Please register with us by clicking Here, or if you are already registered login here
User Name: Password:
Urdu Poetry/Shayari Forum

Urdu Poetry Forum

Welcome to Urdu Community & Poetry/Shayari Forum

 


Articles by Columnist on Marshal Law in Pakistan

This is a discussion on Articles by Columnist on Marshal Law in Pakistan within the Discussion Corner forums, part of the Mehfil category; Asalamo Alaikum, This thread is dedicated only to share different articles written by columnists and shared on internet. If you ...


Go Back   Urdu Poetry/Shayari Forum > Welcome To HallaGulla - Urdu Poetry Forum > Mehfil > Discussion Corner

Video Photo Books Games Sites Register Groups FAQ Calendar Mark Forums Read Chat

Notices

Rate This Thread - Articles by Columnist on Marshal Law in Pakistan.
(0)
Thread Rating: 0 votes, average.

Reply
 
LinkBack (1) Thread Tools
  #1  
Old 11-15-2007, 05:50 PM
WebMaster's Avatar
 
Join Date: Apr 2003
Age: 33
Posts: 4,959
Blog Entries: 3
Thanks: 0
Thanked 5 Times in 5 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 1000
WebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond repute
Default Articles by Columnist on Marshal Law in Pakistan

Asalamo Alaikum,

This thread is dedicated only to share different articles written by columnists and shared on internet.

If you know any interesting article please care to share.

Regards,
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Spurl this Post!Reddit! Wong this Post!
Reply With Quote
  #2  
Old 11-15-2007, 05:51 PM
WebMaster's Avatar
 
Join Date: Apr 2003
Age: 33
Posts: 4,959
Blog Entries: 3
Thanks: 0
Thanked 5 Times in 5 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 1000
WebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond repute
Default Re: Articles by Columnist on Marshal Law in Pakistan

Thursday, 15 November, 2007, 15:20 GMT 20:20 PST

عارف شمیم
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

پہلے پاکستان پر اس سے پہلے ’میں‘
ہمارے جنرل صدر صاحب!

میں آپ پر کالم نہیں لکھنا چاہتا تھا۔ نہ ہی آپ کی وردی اور نہ ہی کوٹ پینٹ پر۔ نہ ہی آپ کے فوجی آپریشن اور نہ ہی سولین آپشن پر، نہ ہی آپ کی جمہوریت اور نہ ہی آمریت پر۔

مگر آج لکھ رہا ہوں۔ اور اس کی اگر کوئی وجہ ہے تو صرف آپ ہیں، صرف آپ۔ آپ نے مجھے مجبور کیا بلکہ میں یہ کہوں گا کہ آپ بندوق کے زور پر مجھ سے یہ سب لکھوا رہے ہیں۔

آپ کو پاکستان کا اقتدار سنبھالے آٹھ برس ہو چکے ہیں۔ آپ صرف وردی میں آئے تھے اور اس کے بعد وردی اور سوٹ میں آنا شروع ہو گئے۔ اگرچہ مجھے آپ کی پہلی تقریر بھی آپ سے پہلے آنے والے جرنیلوں خصوصاً جنرل ضیاء کی تقریر سے مختلف نہیں لگی تھی لیکن کیونکہ انسان کی اچھائی پر ایمان ہے اس لیے سمجھا کہ شاید یہ شخص سچ بول رہا ہے اور واقعی یہ ملک کا اچھا کر کے وعدے کے مطابق جلد چلا جائے گا۔ لیکن آپ نہیں گئے اور وعدے پر وعدے کرتے رہے۔ میں اور میرے ساتھ پاکستان کے سولہ کروڑ عوام چپ رہے۔

پھر گیارہ ستمبر ہوا اور آپ کو ٹی وی پر دیکھا، مشکل فیصلے کا بہانہ بنا کر آپ پھر ڈٹ گئے۔ اس مرتبہ آپ کی وردی مغرب کو سوٹ نظر آئی اور انہوں نے آپ کو اتحادی بنانے میں ذرا بھی تعمل نہیں کیا۔ لیکن پاکستان کے باسی آپ سے کچھ خائف نظر آنے لگے۔ میں اس وقت بھی یہ سمجھا کہ دراصل یہ ہماری ہی نظر کا قصور ہے کہ ہم آپ کی اچھائیاں نہیں دیکھ پا رہے اور آپ کی ضرورت کو محسوس نہیں کر رہے۔ کرپٹ سیاستدانوں کے ملک سے چلے جانے کے بعد کسی وسعت النظر رہنما کی ضرورت تھی اور شاید ہم کم عقلوں کو آپ کی وہ اچھائیاں نظر نہیں آ رہی تھیں۔

آپ نے ’کرپٹ‘ سیاستدانوں کو اتنا برا بھلا کہا کہ ہمیں یقین ہو گیا کہ ان کو کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن پھر آپ نے اپنے ارد گرد انہیں لوگوں کو دوبارہ جمع کرنا شروع کر دیا۔ گجرات کے چوہدریوں سے کون واقف نہیں ہے اور اگر آپ انہیں نہیں جانتے تو مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ کم از کم پاکستان پر حکومت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ وہی سب لوگ آپ کے ساتھ ہوئے جو کرپٹ سیاستدانوں کے ساتھ تھے۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ایک ایک کا نام لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔ فہرست بڑی لمبی ہو جائے گی اس لیے میں اصل بات کی طرف آتا ہوں۔

لیکن آپ کی اور صرف آپ کی وجہ سے وہ غصہ اب شرمندگی بننے لگا ہے اور ڈر ہے کہ کہیں شرمندگی غصہ نہ بن جائے اس لیے رہا نہیں جا رہا۔ مجبور ہو کر لکھ رہا ہوں اور میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اس میں قصور آپ کا ہی ہے۔

آپ نے پاکستان پر آٹھ سال حکومت کرنے کے بعد حال ہی میں کہا ہے کہ یہ ملک تباہی کے دہانے پر ہے اور ایک خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے۔ بقول آپ کے ’اندرونی انتشار کا شکار ہے‘ اس لیے تکلیف دہ فیصلوں کا وقت ہے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو خدانخواستہ پاکستان کی سالمیت کو خطرہ ہے۔‘

اگر آپ ایمانداری سے ایک منٹ کے لیے آنکھیں بند کر کے یہ سوچیں کہ آپ کے آنے سے پہلے اس کا کیا حال تھا تو شاید آپ کو معلوم ہو جائے کہ غلطی کہاں ہوئی تھی۔ کارگل کی جنگ کا ہیرو کون تھا، کیا ہو جاتا کہ ایک سویلین وزیرِ اعظم ایک آرمی چیف کو برطرف کر کے کسی دوسرے کو چیف بنا دیتا۔ آخر اتنی بڑی کیا بات ہو گئی تھی، آرمی سے ہی کوئی چیف بنایا جا رہا تھا کہ نواز شریف خود کو ہی بلے لگا رہا تھا۔ آپ نے نہ صرف حکومت کا تختہ الٹا، بلکہ منتخب وزیرِ اعظم کو گرفتار کیا اور بعد میں کسی ڈیل میں انہیں ملک بدر کر دیا۔ میں آج تک یہ سمجحھ نہیں پایا کہ آپ کسی شہری کو کیسے ملک بدر کر سکتے ہیں اور بعد میں تقریروں میں دھڑلے سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ پاکستان نہیں آ سکتے کیونکہ یہی معاہدہ ہے۔

جنرل صدر صاحب میں معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ آپ نے اس وقت بھی سچ نہیں بولا تھا اور اب بھی سچ نہیں بول رہے۔ اس وقت بھی پاکستان پہلے نہیں بلکہ آپ کی ذات پہلے تھی اور اب بھی پاکستان نہیں آپ کی ذات پہلے ہے۔ کیونکہ نہ تو آپ سے اُس وقت وردی کا اترنا برداشت ہوا تھا اور نہ ہی اب ہو رہا ہے اور اس کے اوپر یہ کہ آپ تیسری مرتبہ صدر بننے پر بھی مصر ہیں۔

جناب جنرل صدر صاحب مہربانی کر کے مجھے بتائیں کہ آخر آپ میں اور ان کرپٹ سیاستدانوں میں فرق کیا ہے۔ وہ بھی تو اقتدار کا دوام ہی چاہتے تھے اور آپ بھی یہی چاہتے ہیں۔

میں آج کل مصر کے فرعونوں پر ایک کتاب پڑھا رہا ہوں کہ کس طرح وہ زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی ’زندہ‘ رہنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بھی تمام عمر حکومت کی جو آپ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ اس وقت کے خدا تھے۔ میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا آپ خدا ہیں اور اگر ہیں تو صاف صاف کہہ دیں تاکہ لوگوں کو تو صبر آ جائے گا اور وہ شاید آپکو قبول کر لیں۔

جـنرل صدر صاحب میں مانتا ہوں ہوں کہ آپ کے دور میں میڈیا کو آزادی ملی لیکن جناب والی کیا آج کے دور میں میڈیا کو غلام بنایا جا سکتا ہے۔ اور جنہوں نے بھی یہ کیا ہے ان کا حشر دیکھ لیں۔ فوجی آمروں سمیت سابق سویت یونین کی مثال اور صدام کا حشر ہمارے سامنے ہے۔

آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ ملک تنزلی کی طرف جا رہا ہے اور اس کی سالمیت کو خطرہ ہے۔ اس کے لیے بہت اچھا ہو گا کہ مہربانی فرما کر آپ اس کا پیچھا چھوڑ دیں۔ آپ اسے اس کے حال پہ چھوڑ دیں، اس کا ٹھیکہ صرف آپ نے ہی نہیں اٹھایا ہوا۔ اگر اس کی قسمت میں تباہ ہی ہونا ’جیسا کہ آپ نے کہا ہے‘ تو اسے تباہ ہونے دیں۔ لیکن خدا کے لیے ایک پاکستانی کو دوسرے پاکستانی کی گردن کاٹنے پر مجبور نہ کریں، ایک پولیس والے کو ایک سویلین پر گولی چلانے اور عدالتوں کی بے حرمتی پر مجبور نہ کریں۔ ایک کو دوسرے سے نہ لڑوائیں۔

جناب جنرل صدر صاحب میں بڑی دیانتداری سے آپ کو بتا رہا ہوں کہ نہ آپ فرعون ہیں اور نہ ہی خدا۔ اس لیے یہ کہنا فضول ہے کہ آپ ہی درست ہیں اور باقی سب غلط۔ آج پندرہ نومبر ہے اور مجھے امید تو نہیں ہے کہ موقع کی مناسبت سے آپ کو میرا یہ مشورہ سمجھ آ جائے گا لیکن کیا کروں کہ میں انسان کی اچھائی پر اپنا یقین نہیں چھوڑ سکتا۔

ایک عام شہری

Link: BBCUrdu.com
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Spurl this Post!Reddit! Wong this Post!
Reply With Quote
  #3  
Old 11-15-2007, 05:55 PM
WebMaster's Avatar
 
Join Date: Apr 2003
Age: 33
Posts: 4,959
Blog Entries: 3
Thanks: 0
Thanked 5 Times in 5 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 1000
WebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond repute
Default Re: Articles by Columnist on Marshal Law in Pakistan

Sunday, 11 November, 2007, 14:33 GMT 19:33 PST

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

خوش قسمت مشرف
منظم تحریک تو خیر کیا چلے گی وہ غدر اور آپا دھاپی ہے کہ اپنی ہی آواز سننا مشکل ہو رہا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف پر اب تک نو مارچ کا آسیب ہے جب انہوں نے پہلی دفعہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کو برطرف کیا تھا۔اور دوسری دفعہ برطرف کرنے کے بعد بھی وہ انہیں نہیں بھولے بلکہ پوری دنیا کے میڈیا کے سامنے انہوں نے وہ دبا ہوا غصہ بھی نکال دیا جو وہ افتخار چوہدری کے فعال چیف جسٹس ہوتے ہوئے نہ نکال سکتے تھے۔

صدرِ مملکت نے آج کی آدھی پریس کانفرنس نظربند چیف جسٹس کو معنون کردی اور سب کو پتہ چل گیا کہ آئین کی معطلی اور ایمرجنسی کا سارا میلہ صرف عدلیہ کا رومال چرانے کے لئے لگایا گیا ہے۔دھشت گردی اور دیگر جوازات تو صرف ماورائے آئین اقدام کے کیک پر کی گئی آئسنگ ہے۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی رہنما اب بھی تمام مشرف مخالف قوتوں کو یکجا کرنے کے بجائے علیحدہ اسٹال لگانے پر بضد ہیں۔حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ سب کرنے کے بعد بھی جو انکے ساتھ ہے وہ انہی کے ساتھ رہے گا اور جو ساتھ نہیں ہے وہ کبھی انکے کیمپ میں نہیں آئے گا۔

کسی دن لگتا ہے کہ وہ لوگوں کو صرف بے نظیر آئے گی روزگار لائے گی کے نعرے تلے یکجا کرنا چاہتی ہیں تو اگلے دن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں سب سے زیادہ فکر اس پاکستانی جھنڈے کی ہے جسے دھشت گرد خاطر میں نہیں لا رہے۔ تیسرے دن یوں لگتا ہے گویا وہ جنرل مشرف کی شکل گم ہونے، ایمرجنسی کے خاتمے اور تین نومبر سے قبل کی آئینی صورتحال بحال ہونے سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہوں گی تو چوتھے دن ایسا لگتا ہے جیسے بے نظیر کے بقول صدر مشرف تو ٹھیک ہیں لیکن انکے اردگرد غلط لوگوں کا گھیرا ہے۔

جس طرح صدر مشرف، چوہدری برادران ، ایم کیو ایم اور مولانا فضل الرحمان کو اندازہ ہے کہ کیا کھیلنا ہے، کہاں تک کھیلنا ہے اور کب نہیں کھیلنا۔بے نظیر کو شائد نو برس ملک سے دور رہنے کے سبب اس گیم کا پورا اندازہ نہیں ہے۔ابھی تو یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ اس اسکرپٹ کو پڑھ پڑھ کر آگے بڑھ رہی ہیں جو وہ اٹھارہ مارچ کو اپنے بریف کیس میں لائی ہیں۔

لیکن یہ ساری صورتِ حال عام آدمی کے نقطہ نظر سے بالکل خوشگوار نہیں ہے۔بلکہ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان اس وقت کم و بیش تبدیلی کے لئے اتنی ہی بے چینی سے کروٹیں لے رھا ہے جس طرح کی بے چینی کے نتیجے میں گذشتہ برس نیپال اور اس سے چند برس پہلے یوکرین اور اس سے بھی کچھ برس پیچھے فلپینز میں تبدیلی آئی تھی۔

اگر آج کے پاکستان اور تبدیل شدہ نیپال، یوکرین اور فلپینز میں کوئی فرق ہے تو صرف اتنا کہ پاکستان میں عوامی خواہشات کے گرم توے پر چوٹ لگانے کے لئے کسی نے ہتھوڑا چھپا دیا ہے۔جن سے توقع تھی وہ خط، فیکس اور آل پارٹیز کانفرنس اور سپریم کونسل یا پارٹی کی مجلسِ عاملہ کے اجلاسوں میں جٹے ہوئے ہیں۔ان میں سے کوئی کسی پر مکمل اعتبار کرنے کو تیار نہیں چنانچہ تکلیف سے چیختے ہوئے عوام بھی ان میں سے کسی پر مکمل یقین کرنے پر آمادہ نہیں۔

کون کہتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف خوش قسمت نہیں ہیں۔

Link: BBCUrdu.com
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!Spurl this Post!Reddit! Wong this Post!
Reply With Quote
  #4  
Old 11-15-2007, 05:59 PM
WebMaster's Avatar
 
Join Date: Apr 2003
Age: 33
Posts: 4,959
Blog Entries: 3
Thanks: 0
Thanked 5 Times in 5 Posts
Nominated 0 Times in 0 Posts
TOTW/F/M Award(s): 0
Rep Power: 1000
WebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond reputeWebMaster has a reputation beyond repute
Default Re: Articles by Columnist on Marshal Law in Pakistan

Wednesday, 07 November, 2007, 13:31 GMT 18:31 PST

رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام،لندن

غلامی پر ضمیر بھاری
صدر جنرل پرویز مشرف کے قانونی مشیر پچھلے کچھ مہینوں سے چیخ چیخ کر سپریم کورٹ کی توجہ ملائیشیا کی اس مثال کی طرف دلواتے رہے کہ چیف جسٹس سے ناراض وزیراعظم مہاتر محمد نے سپریم کورٹ کو تالے لگوا دیے تھے لیکن پاکستانی سپریم کورٹ نےاس مثال کو زیادہ سنجیدگی سے نہ لیا اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی ختم کر کے ان کو عہدے پر بحال کر دیا۔

جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو نو مارچ کو سپریم کورٹ سے نکالا گیا تھا تو اس وقت یہ بات سب پر عیاں تھی کہ ان کو نکالنے کی وجہ ان سے بہتر چیف جسٹس لانا نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی تعیناتی ہے جو’قابل بھروسہ‘ ہو اور وہ کسی ایسی پٹیشن کی سماعت نہ کرے جس میں جنرل مشرف کی بطور صدارتی امیدوار اہلیت پر کوئی سوال اٹھائے گئے ہوں۔

جنرل مشرف نے وکلاء کی تحریک کے دباؤ میں سپریم کورٹ کےاس فیصلے کو تو مان لیا جس کے تحت چیف جسٹس کو بحال کر دیا گیا لیکن وہ اس دوران ملائیشیا کی مثال پر بار بار غور کرتے رہے اور بالآخر تین نومبر کو سپریم کورٹ کو تالے لگوا ہی دیے۔

جنرل مشرف نے آئین معطل کرنے کی دلیل کے طور پر سپریم کورٹ کی ’جوڈیشل ایکٹیوزم‘ کا خصوصی ذکر کیا اور اسے ملک میں خود کش حملوں کا ذمہ دار تک قرار دے دیا۔ جنرل پرویزمشرف نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ نے اکسٹھ خود کش بمباروں کو چھوڑنے کا حکم جاری کیا جو فوجی آپریشن میں لال مسجد سے زندہ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

سپریم کورٹ نے لال مسجد کے معاملے کا نوٹس جسٹس محمد نواز عباسی کے چیف جسٹس کے اس نوٹ پر لیا تھا جس میں انہوں نے چیف جسٹس کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن پر از خود نوٹس لینے کی استدعا کی تھی۔

چیف جسٹس نےمعاملے کا نوٹس لیتے ہوئے لال مسجد کا معاملہ جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر کی عدالت میں لگا دیا۔ لال مسجد کے مقدمے کی جتنی بھی سماعتیں ہوئیں ان میں اکثریت جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کیں۔

جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر جو جنرل پرویز کے دور میں سیکرٹری قانون کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، ایک مرتبہ پھر پی سی او کے تحت حلف لے کر سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔

جنرل مشرف کے ’پی سی او‘ کے تحت حلف نہ لینے والے آٹھ ججوں نے سپریم کورٹ کی اس روایت کو مزید دوام بخشا ہے جس کے تحت اعلٰی عدالتوں کےجج فوجی آمر کی وفاداری کا حلف لینے سے گریزاں ہیں۔

جنرل مشرف نے جب پہلی مرتبہ چودہ اکتوبر انیس سو ننانوے میں پہلا ’پی سی او‘ جاری کیا تو ان کا ہدف عوامی نمائندوں کی اسمبلیاں تھیں۔ جنرل مشرف نے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیاں تو تحلیل کر دیں لیکن بقول اس وقت کے چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی عدلیہ کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ انہیں نہیں چھیڑا جائےگا۔

جنرل مشرف نے تین ماہ بعد جب 25 جنوری سنہ 2000 کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کو اس وقت ’پی سی او‘ کے تحت حلف لینے کے لیے کہا جب ان کے اقتدار پرغاصبانہ قبضے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے مقدموں کی سما