''عید پر موسیقی'' کے زیر عنوان ہم نے بخاری کی روایت رقم٩٠٧سے موسیقی کے جواز پر استدلال کیا تھا۔ اس روایت میں سیدہ عائشہ نے بیان کیا ہے کہ عید کے دن ان کے گھر پر 'جاریتان' (دو لونڈیاں/لڑکیاں) جنگ بعاث کے گیت گا رہی تھیں۔اسی اثنا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا رخ دوسری جانب کر کے بستر پر دراز ہو گئے۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق آئے اورسیدہ کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شیطانی ساز کیوں بجائے جا رہے ہیں؟ نبی کریم یہ سن کر متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ انھیں کرنے دو۔ پھرجب حضرت ابوبکر دوسرے کام میں مشغول ہوئے تو سیدہ نے 'جاریتان' کو جانے کا اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔
اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کے موقع پر موسیقی کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے۔ام المومنین سیدہ عائشہ کا آپ کی موجودگی میں گانا سننا، آپ کااس پرنہ پابندی عائد کرنا اور نہ کسی ناراضی کا اظہار فرمانا، بلکہ سیدنا ابوبکر کو بھی مداخلت سے روک دینا، یہ سب باتیں موسیقی کے مباح ہونے ہی کو بیان کر رہی ہیں۔
لفظ 'جاریتان' کے مفہوم کے حوالے سے حاشیے میں ہم نے یہ تصریح کی تھی کہ اس سے بعض لوگوں نے ''بچیاں'' مراد لیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ 'جاریۃ' کا اطلاق ''بچی'' پر بھی کیا جا سکتا ہے، مگر یہاں لازم ہے کہ اس سے ''لونڈیاں'' ہی مراد لیا جائے اور لونڈیاں بھی وہ جو ماہر فن مغنیات کی حیثیت سے معروف تھیں۔ روایت کے اسلوب بیان کے علاوہ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اسی روایت کے دوسرے طریق: بخاری، رقم ٣٧١٦میں 'جاریتان' کے بجائے 'قینتان' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں اور ' قینۃ' کامعلوم و معروف معنی ''پیشہ ور مغنیہ'' ہے۔
ہمارے اس استدلال پر ''الاعتصام'' کی تنقید کا خلاصہ یہ ہے کہ بخاری ہی میں درج اس روایت کے ایک اور طریق: رقم٩٥٢میں گانے والیوں کے بارے میں سیدہ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ 'لیستا بمغنیتین' یعنی وہ مغنیہ نہیں تھیں۔ چنانچہ انھیں مغنیہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مزید براں 'جاریتان' کا معنی لونڈی کرنا اور اس سے 'قینتان' والے طریق کی روشنی میں مغنیات مراد لینا درست نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اولاً، 'جاریۃ' کے لفظ کا اطلاق عموماً بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے، اس لیے اس سے بچیاں ہی مراد لینا چاہیے۔ ثانیاً، مذکورہ روایت کے چار طرق میں سے تین میں'جاریتان' کا لفظ آیا ہے، جبکہ صرف ایک طریق یعنی امام شعبہ کے طریق میں 'قینتان' کا لفظ آیا ہے، لہٰذا یہاں 'جاریۃ' کا اطلاق ہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ ثالثاً، اگر 'قینتان' والے طریق کو من و عن قبول بھی کر لیا جائے تب بھی اس سے مغنیات مراد لینا درست نہیں ہے، کیونکہ 'قینۃ' کے معنی فقط پیشہ ور مغنیہ قرار دینا لغوی طور پر غلط ہے۔ جہاں تک ان کے غنا کا تعلق ہے تو اس سے وہ غنا مراد نہیں ہے جو اہل لہو و لعب کے نزدیک معروف ہے، بلکہ سادہ طریقے سے اشعار پڑھنا مراد ہے۔
درج بالا خلاصہ'' الاعتصام'' کے جن متون پر مبنی ہے، ان میں چونکہ الفاظ اور ان کے معانی کو زیر بحث لایا گیا ہے، لغات سے مراجعت کی گئی ہے، روایتوں کی اسناد پر جرح کی گئی ہے اور شارحین حدیث کے حوالے نقل کیے گئے ہیں، اس لیے بادی النظر میں یہ علمی بحث و تمحیص کا تاثر دیتے ہیں، مگر عجیب بات یہ ہے کہ ان میں ہمارے اصل استدلال کو زیربحث ہی نہیں لایا گیا۔چنانچہ اس سے پہلے کہ ان نکات پر اپنا نقطہء نظر پیش کریں، ہم اہل الاعتصام سے یہ گزارش کریں گے کہ وہ ایک مرتبہ پھر ہماری تحریر کا مطالعہ فرما لیں، ہمیں امید ہے کہ ان پر یہ بات پوری طرح واضح ہو جائے گی کہ اس حدیث کے حوالے سے ہماری بناے استدلال اصلاً نہ 'جاریتان' (دو لڑکیاں/لونڈیاں) کے الفاظ ہیں اورنہ 'قینتان' (دوگانے والیاں/لونڈیاں) کے، بلکہ یہ واقعہ ہے کہ دو لڑکیوں یا لونڈیوں نے گیت گایا، سیدہ نے اسے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ گانے والیوں کو گانے سے روکا اور نہ سیدہ کو گانے کی سماعت سے منع فرمایا۔ یہی نقطہء نظر ہے جسے ہم نے اس روایت کے حوالے سے بیان کیا ہے۔
چنانچہ بر سبیل تنزل ''الاعتصام'' کے مذکورہ نکات کو من و عن تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی ہماری بناے استدلال میں ادنیٰ تغیر واقع نہیں ہو تا۔ ہماری یہ بناے استدلال صرف اور صرف اسی صورت میں ختم ہوگی ، جب اہل الاعتصام درج بالا حدیث کے حوالے سے حسب ذیل نکات کی تردید کریں گے:
١۔ سیدہ عائشہ نے غنا سنا۔
٢۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران میں تشریف لائے، مگر آپ نے سیدہ کو غنا سننے سے منع نہیں فرمایا۔
٣۔ سیدنا ابوبکر نے جب سیدہ کوغنا سننے سے روکنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں روکنے سے منع فرما دیا۔
وہ اگر ان نکات کی تردید کرنا چاہتے ہیں تو تھوڑی دیر کے لیے توقف کر کے یہ ضرور سوچ لیں کہ اس تردید کو کوئی شخص انکار حدیث سے بھی تعبیر کر سکتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ اس حدیث کا پاس کریں یا نہ کریں، کم سے کم اس دعوے کا پاس ضرور کریں گے جو ''مسلک اہل حدیث کا داعی اور ترجمان'' کے الفاظ میں ''الاعتصام ''کے سرورق پر ہمیشہ سے رقم رہا ہے۔
اس وضاحت کے بعد آئیے اب ان کی تنقید کا جائزہ لیتے ہیں:
'لیستا بمغنیتین' کا جملہ
''الاعتصام ''نے لکھا ہے:
''بڑے وثوق سے فرمایا گیا ہے کہ گانے والیاں ''ماہر فن مغنیات'' اور ''پیشہ ور مغنیہ'' تھیں اور یہ اس لیے کہ ایک روایت میں''جاریتان'' کی بجائے ''قینتان'' کا لفظ ہے۔
بڑے ہی افسوس سے عرض ہے کہ غامدی صاحب کو بخاری کی ایک روایت میں... ''قینتان'' کا لفظ تو نظر آ گیا۔ مگر... بخاری ہی کی ایک روایت رقم ٩٥٢ میں خود حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی یہ وضاحت نظر نہ آئی کہ ''قالت ولیستا بمغنیتین'' انھوں نے فرمایا وہ دونوں مغنیہ نہ تھیں... حضرت عائشہ صدیقہ کی اس وضاحت کے بعدکہ وہ دونوں ''مغنیہ'' نہ تھیں، پھر بھی یہ ضد کرنا اور اس پر اڑنا کہ وہ ''پیشہ ور مغنیہ'' اور ''ماہر فن مغنیہ'' تھیں، علم کی کون سی معراج ہے؟ یہ ضد کسی ضدی، نافہم بچے کی تو ہو سکتی ہے، کسی صاحب علم اور بالغ نظر محقق سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔''(٧/٥٧

#1634;٠)
یہ ''الاعتصام'' کی تنقید کا پہلا نکتہ ہے اور اسی پر ان کی تمام تر تنقید کا انحصار ہے۔ 'قالت ولیستا بمغنیتین' (انھوں نے کہا کہ وہ مغنیات نہیں تھیں) کے جملے کے بارے میں ہمارا نقطہء نظر یہ ہے کہ یہ درحقیت سیدہ عائشہ کا قول ہی نہیں ہے۔ یہ بعد کے راویوں کا اپنا قیاس ہے جسے انھوں نے روایت کے متن میں شامل کر دیا ہے۔ اس ضمن میں مدیر ''الشریعہ'' اور ''المورد'' میں ہمارے رفیق عمار خان صاحب ناصر کی تحقیق حسب ذیل ہے:
''روایت کے تمام طرق جمع کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اس واقعے کی اصل اور مرکزی راوی ہیں۔ ان سے یہ واقعہ ان کے بھانجے عروہ بن زبیر نے نقل کیا ہے اور عروہ سے ان کے یہ چار شاگرد اس کو روایت کرتے ہیں:
١۔ ابوالاسود بمطابق بخاری، رقم ٢٦٩١۔
٢۔ ابن شہاب زہری بمطابق بخاری، رقم ٩٣٤۔
٣۔ محمد بن عبدالرحمن الاسدی بمطابق بخاری، رقم ٨٩٧۔
٤۔ ہشام بن عروہ بمطابق بخاری، رقم ٨٩٩۔
ان میں سے پہلے تین شاگردوں یعنی ابوالاسود، ابن شہاب زہری اور محمد بن عبدالرحمن الاسدی کے طرق میں 'قالت ولیستا بمغنیتین' کا جملہ موجود نہیں ہے۔ یہ صرف ہشام بن عروہ ہیں جن کے طریق میں یہ جملہ نقل ہوا ہے۔ اصول روایت کی رو سے یہ بات بعید از قیاس ہے کہ ایک استاد کے چار شاگردوں میں سے تین شاگرد ایک جملہ نقل کرنا بھول گئے ہوں اور صرف ایک کو یاد رہا ہو۔
ہشام بن عروہ کے اس واحد طریق کی جس میں مذکورہ جملہ نقل ہوا ہے، تفصیلات جمع کرنے سے مزید یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خود ہشام بن عروہ کی طرف بھی اس جملے کی روایت کو منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ دیکھیے، اس واقعے کو ہشام سے ان کے ان پانچ شاگردوں نے نقل کیا ہے:
١۔ شعبہ بمطابق بخاری، رقم ٣٦٣٨۔
٢۔ حماد بن سلمہ بمطابق مسند احمد، رقم ٢٣٨٧٩۔
٣۔ عبداللہ بن نمیر بمطابق المعجم الکبیر، رقم ٢٨٨۔
٤۔ ابو معاویہ بمطابق مسند اسحاق بن راہویہ ٢/٢٧٢، رقم ٧٨٠۔
٥۔ ابو اسامہ بمطابق بخاری، رقم ٨٩٩۔
ان پانچ میں سے پہلے چار شاگردوں کے طرق میں اس جملے کا کوئی وجود نہیں ہے۔ صرف آخری شاگرد ابو اسامہ کی روایت میں اس جملے کا اضافہ ہوا ہے۔ چنانچہ یہ قرار دینا خلاف قیاس ہو گا کہ ہشام کے چار شاگردیہ جملہ بیان کرنا بھول گئے اور صرف ابو اسامہ نے اس کو یاد رکھا۔
اس تفصیل سے واضح ہے کہ یہ جملہ اصل روایت کا حصہ نہیں ہے اور نہ اسے ام المومنین کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔''
'جاریتان' کا معنی اور مصداق
''الاعتصام ''نے لکھا ہے:
''حدیث میں ''جاریتان'' کا لفظ استعمال ہوا ہے اور''جاریۃ'' کا عموماً اطلاق بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے، اور اس کا اعتراف گو غامدی صاحب کو بھی ہے کہ''جاریۃ'' کا لفظ بچی کے معنی میں بھی آتا ہے۔اس اعتبار سے اس حدیث سے بالغ عورتوں کے لیے گانے بجانے کا جواز ڈھونڈنا اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی کا مصداق ہے۔... یہی وجہ ہے کہ شارحین حدیث نے انھیں نابالغ ہی قرار دیا ہے۔ چنانچہ علامہ عینی رقم طراز ہیں: الجاریۃ فی النساء کالغلام فی الرجال ویقال علی من دون البلوغ۔(عمدۃالق اری٦/٢٦٨): ''جاریہ کا اطلاق عورتوں میں اسی طرح ہے جس طرح غلام کا اطلاق مردوں میں ہے اور جاریہ اسے کہتے ہیں جو ابھی بالغ نہ ہو۔''''(٨/٥٧

#1633;٧)
یہ بات درست نہیں ہے کہ ''جاریہ کا عموماً اطلاق بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے۔''تمام اہل لغت بلا استثنا یہ کہتے ہیں کہ جاریہ کا لفظ لڑکی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور لونڈی کے لیے بھی۔ پہلے معنی میں اس کا اطلاق کم سن بچی سے لے کر نوجوان دوشیزہ تک، ہر عمر کی لڑکی پر ہو سکتا ہے اور دوسرے معنی میں یہ ہر عمر کی لونڈی کے لیے مستعمل ہے۔
صاحب ''لسان العرب'' لکھتے ہیں:
الجاریۃ: الفتیۃ من النساء.(١٤/ ١٤٣)
''جاریہ جوان عورت کو کہتے ہیں۔''
''تاج العروس'' میں ہے:
الجاریۃ فتیۃ النساء. (١٠/٧٢)
''جاریہ جوان عورت کو کہتے ہیں۔''
''المعجم الوسیط'' میں درج ہے :
الجاریۃ: الامۃ وان کانت عجوزا. والفتیۃ من النساء.(١/١١٩)
''جاریہ کے معنی لونڈی کے ہیں خواہ وہ بوڑھی ہو۔ اور جوان عورت کو بھی کہتے ہیں۔''
''الرائد'' میں بیان ہوا ہے:
الجاریۃ: ج

#1580;وار. الفتاۃ. الامۃ. العبدۃ . الخادمۃ. (١/٤٩٤)
''جاریہ کی جمع جوار ہے اس کے معنی جوان عورت، لونڈی اور خادمہ کے ہیں۔''
درج بالا لغات کی بنا پر یہ دعویٰ صریح طور پر غلط ثابت ہوگیا ہے کہ ''جاریہ کا عموماً اطلاق بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے۔'' اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ یہ لفظ لونڈی اور لڑکی کے دو مختلف معنوں کا حامل ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ لفظ جب کسی کلام میں استعمال ہو گا تو اس کا فیصلہ کہ یہاں اس سے مراد لونڈی ہے یا لڑکی، مجرد طور پر نہیں، بلکہ سیاق کلام اور دیگر قرائن کی بنا پر کیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک روایت کے حسب ذیل داخلی اور خارجی شواہد کی بنا پر یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ یہاں اس سے لونڈی مراد لیا جائے:
١۔'جاریتان' کے ساتھ 'تغنیان' کا فعل آیا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ دونوں گا رہی تھیں۔ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ اس زمانے میں عرب میں گانے یا غنا کا پیشہ بالعموم لونڈیوں ہی سے وابستہ تھا۔ وہ تہواروں کے موقع پر اور خوشی کی تقریبات میں اس کا مظاہرہ کرتی رہتی تھیں۔آزاد عورتیں اور لڑکیاں نہ اس فن کو سیکھتی تھیں اور نہ اس کا مظاہرہ کرتی تھیں۔
٢۔ روایت میں مذکور سیدنا ابو بکر کے تبصرے 'مزمار الشیطان عند النبی' سے بھی یہی تاثر ہوتا ہے کہ گانے والیاں بچیاں نہیں تھیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ چھوٹی بچیاں ہوتیں تو محض ان کے کھیل پر سیدنا ابوبکر''شیطانی ساز'' کے الفاظ میں سرزنش نہ کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی عید کے موقعے کا حوالہ دیے بغیر سیدنا ابوبکر کو مداخلت سے روکتے۔
٣۔ اسی روایت کے ایک اور طریق: بخاری، رقم٣٧١٦ میں'جاریتان' کے بجائے 'قینتان' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ 'قینۃ' کے معنی مغنیہ یا گانے والی لونڈی کے ہیں۔
٤۔شارح بخاری علامہ ابن حجرعسقلانی نے بعض روایتوں کی بنا پر ان لونڈیوں کا تعین بھی کیا ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک لونڈی حضرت حسان بن ثابت کی مملوکہ تھی۔ ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ یہ دونوں حضرت عبداللہ بن سلام کی لونڈیاں تھیں۔ایک گانے والی کا نام حمامہ بیان ہوا ہے اور دوسری کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ زینب تھی اور اسے شادی بیاہ کی تقریبات میں گانا گانے کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔
ایک روایت کے مطابق خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ سے فرمایا تھا کہ وہ گانے کے لیے زینب کو دلہن کے ساتھ بھیج دیں۔ فتح الباری میں ہے:
وللطبرانی من حدیث ام سلمۃ ان احداہما کانت لحسان بن ثابت وفی الاربعین للسلمی انہما کانتا لعبد اللّٰہ بن السلام، وفی العیدین لابن ابی الدنیا من طریق فلیح عن ہشام بن عروۃ 'وحمامۃ وصاحبتہا تغنیان' واسنادہ صحیح، لم اقف علی تسمیۃ الاخری. لکن یحتمل ان یکون اسم الثانیۃ زینب وذکرہ فی کتاب النکاح. ( ٤/٤٤٠)
''طبرانی میں ام سلمہ کی روایت میں ہے کہ ان میں سے ایک حسان بن ثابت کی لونڈی تھی۔ سلمیٰ کی 'اربعین' میں ہے کہ یہ دونوں حضرت عبد اللہ بن سلام کی لونڈیاں تھیں۔ابن ابی الدنیا کی ''العیدین'' میں ہے ہشام بن عروہ سے فلیح کی سند کے ساتھ بیان ہوا: 'حمامہ اور اس کی ساتھی گارہی تھیں'۔ اس کی سند صحیح ہے۔ دوسری لونڈی کے نام سے میں واقف نہیں ہوں مگر احتمال یہی ہے کہ اس کا نام زینب ہے۔ اور اس کا ذکرکتاب النکاح میں آیاہے۔''
وفی حدیث جابر عند المحاملی 'ادرکیہا یا زینب' امراۃ کانت تغنی بالمدینۃ ویستفاد منہ تسمیۃ المغنیۃ الثانیۃ فی القصۃ التی وقعت فی حدیث عائشۃ الماضی فی العیدین حیث جاء فیہ 'دخل علیہا وعندہا جاریتان تغنیان' وکنت ذکرت ہناک ان اسم احداہما حمامۃ کما ذکرہ ابن ابی الدنیا فی کتاب العیدین لہ باسناد حسن. (٩/٢٢٦)
'' محاملی کی ایک روایت جو حضرت جابر سے ہے، اس میں 'زینب اس (دلہن ) کے پاس جاؤ' کے الفاظ ہیں۔ یہ (زینب ) مدینے میں گاتی تھی۔ اس روایت سے اس دوسری مغنیہ لونڈی کا نام جاننے میں مدد ملتی ہے جس کا ذکر حضرت عائشہ کی اس روایت میں آیا ہے جو کتاب العیدین میں گزر چکی ہے اور جس کے الفاظ یہ ہیں کہ 'نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین کے پاس آئے، جبکہ ان کے پاس دو لونڈیاں گا رہی تھیں۔' ایک کا نام تو ہم نے اس روایت کی شرح ہی میں حمامہ لکھا تھا، جیسا کہ ابن ابی الدنیا نے اپنی کتاب العیدین میں حسن سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔''
امام ابن حجر نے ''الاصابہ فی تمییز الصحابہ'' میں بھی زینب کا ذکر اسی پہلو سے کیا ہے:
(زینب) الانصاریۃ...غیر منسوبۃ جاء انھا کانت تغنی بالمدینۃ فاخرج ابن طاہر فی کتاب الصفوۃ من طریق المحاملی... ان جمیلۃ اخبرتہ انھا سالت جابر بن عبد اللّٰہ عن الغناء فقال نکح بعض الانصار بعض اھل عائشۃ فاھدتھا الی قباء فقال لھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اھدیت عروسک قالت نعم قال فارسلت معھا بغناء فان الانصار یحبونہ قالت لا قال فادرکیہا بزینب امراۃ کانت تغنی بالمدینۃ. (١٤/ ١٤٣)
''(زینب) انصاری خاتون تھی...اس کی نسبت کسی کی طرف نہیں۔ یہ مدینہ میں گاتی تھی۔ ابن طاہر کتاب الصفوہ میں محاملی کی یہ روایت لائے ہیں کہ... جمیلہ نے انھیں بتایا کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ سے غنا کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بیان کیا کہ انصارکے ایک مرد نے سیدہ عائشہ کی ایک رشتہ دار خاتون سے نکاح کیا۔ سیدہ نے اسے قبا کی طرف بھیج دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سے پوچھا کہ کیا تم نے ان کی طرف دلہن کو رخصت کر دیا ہے؟ سیدہ نے اثبات میںجواب دیا۔آپ نے فرمایا کہ کیااس کے ساتھ غنا کا اہتمام بھی کیا ہے؟ کیونکہ انصار گانا پسند کرتے ہیں۔ سیدہ نے فرمایا نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ زینب کو اس کے ساتھ بھیجو۔ زینب مدینے میں گاتی تھی۔''
'قینتان' کے معنی
''الاعتصام ''نے لکھا ہے:
'''' قینہ'' کے معنی ''پیشہ ور مغنیہ'' ہی قرار دینا بجائے خود غلط ہے۔ ...علامہ زمخشری حضرت عائشہ کی یہی حدیث ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''القینہ لونڈی کو کہتے ہیں، وہ گانا گائے یا نہ گائے۔'' (الفائق: ٢/١٩٠) اسی طرح علامہ جوہری رقم طراز ہیں: ''القینہ کے معنی لونڈی ہے، وہ گانے والی ہو خواہ نہ گانے والی ہو... ''ابو عمرو نے کہا ہے کہ اہل عرب ہر غلام کو ''قین'' اور لونڈی کو ''قینۃ'' کہتے ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ''القینۃ'' خاص طور پر مغنیہ کو کہتے ہیں، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔'' (الصحاح ٦ / ٢١٨٦) غور فرمائیے ابو عمرو جس معنی کی تردید کر رہے ہیں، ہمارے یہ متجددین اسی معنی کی بنیاد پر ''القینۃ'' کے معنی ''پیشہ ور مغنیہ'' قرار دینے پرادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا... علامہ ابن منظور نے بھی لسان العرب میں ابو عمرو کا مذکورہ قول ذکر کیا اور اس کے متصل بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی مذکورۃ الصدر روایت نقل کر کے وضاحت فرما دی کہ''القینۃ'' سے مراد لونڈی ہے وہ گانا گائے یا نہ گائے'' ۔''(٧/٥٧

#1634;١)
مزید لکھتے ہیں:
''یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے عروہ نے بیان کی ہے اور ان سے روایت کرنے والوں میں محمد بن عبدالرحمن ابو الاسودالاسدی، ہشام، ابن شہاب زہری تینوں کی روایت میں جاریتان کا لفظ ہے رقم، ٩٤٩، ٩٥٣، ٣٥٢٥۔ البتہ ہشام سے شعبہ کی روایت میں ''قینتان'' کا لفظ ہے، رقم٣٩٣١۔ اور اسی روایت میں یہ شک بھی بیان ہوا ہے کہ یہ عیدالفطر کا دن تھا یا عیدالاضحیٰ کا۔... گویا صرف امام شعبہ کی روایت میں ''قینتان'' کا ذکر ہے اور اسی میں شک کا ایک اور پہلو بھی موجود ہے۔ باقی روایات میں''جاریتان'' ہی کا لفظ ہے۔ بلکہ مسندامام احمد (ج٦ ص

#1641;٩) میں خود شعبہ کی روایت میں بھی ''جاریتان'' ہی کا لفظ ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام شعبہ نے بھی اگر ''قینتان'' کا لفظ ایک روایت میں بیان کیا ہے تو اس کے معنی بھی ''جاریتان ''ہی ہے۔ جیسا کہ اہل عرب کے ہاں معروف ہے۔ کہ ''قینۃ'' کے معنی جاریہ ہے۔ بایں طور بھی امام شعبہ کی ایک روایت کے مطابق ''قینۃ'' کے معنی پیشہ ور مغنیہ قرار دینا محض خواہش پرستی ہے، علم کی کوئی خدمت نہیں۔''(٧/٥٧

#1634;١)
فرماتے ہیں کہ قینہ کے معنی لونڈی کے ہیں اور بخاری میں درج شعبہ کی روایت کے لفظ 'قینتان' سے مراد احمد بن حنبل میں درج شعبہ ہی کی روایت کا لفظ 'جاریتان' ہے اور اس کے معنی دو لونڈیاں ہے۔گویا بالفاظ دیگر یہ فرمایا گیا ہے کہ قینہ کا معنی لونڈی ہے اور روایات میں قینہ اور جاریہ باہم مترادف استعمال ہوئے ہیں، چنانچہ جاریہ کا معنی مغنیہ نہیں، بلکہ لونڈی کرنا ہوگا۔اس تحقیق پر سوال صرف یہ ہے کہ اب اس پر زور استدلال کی کیا حیثیت ہےجو قبل ازیں 'جاریتان' کا معنی چھوٹی بچیاں قرار دینے کے لیے کیا گیا تھا؟
چلیے، اس سے قطع نظر کرتے ہیں اور ''الاعتصام'' کے درج بالا بیانات کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کا خلاصہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں:
پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ 'قینۃ' کے معلوم و معروف معنی مغنیہ کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ اسے مجرد طور پر لونڈی کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ روایت میں لفظ 'قینتان'سے مغنیات نہیں، بلکہ غیر مغنیہ لونڈیاں مراد لینا چاہیے۔
اس ضمن میں نمائندہ لغات کے چند حوالے ملاحظہ فرمائیے۔ ان سے واضح ہو گا کہ اگرچہ 'قینۃ' کا لفظ مجرد طور پر لونڈی کے معنوں میں بھی استعمال ہو سکتا ہے، مگر اس کا کثیر استعمال مغنیہ لونڈی ہی ہے۔ واضح رہے کہ ان میں سے بیش تر لغات وہی ہیں جن کے حوالے ''الاعتصام'' نے کمال مہارت سے نقل کیے ہیں۔
''لسان العرب'' میں ہے:
القینۃ، الامۃ غنت او لم تغن کثیرا ما یطلق علی المغنیۃ فی الامائ. وفی الحدیث: نہی عن بیع القینات ای الاماء المغنیات. ( ١٣/٣٥٢)
''قینہ لونڈی کو کہتے ہیں خواہ وہ مغنیہ ہو یا غیر مغنیہ۔اس (قینہ) کا زیادہ تراطلاق مغنیہ لونڈی پر ہوتا ہے۔ اور حدیث میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قینات کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے یعنی مغنیہ لونڈیوں کی خریدوفروخت سے۔''
یہی بات ابن اثیر نے ''النہایہ'' میں بیان کی ہے:
القینۃ: الامۃ غنت او لم تغن، وکثیرا ما تطلق علی المغنیۃ من الامائ، وجمعہا قینات. ومنہ الحدیث 'نہی عن بیع القینات' ای الاماء المغنیات. (٤ /١٣٥)
''قینہ لونڈی کو کہتے ہیں خواہ وہ مغنیہ ہو یا غیر مغنیہ۔ اس کا زیادہ تر اطلاق مغنیہ لونڈی پر ہی ہوتاہے۔ اس کی جمع قینات ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قینات کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔ یعنی مغنیہ لونڈیوں کی خرید و فروخت سے۔''
''الصحاح'' کے الفاظ ہیں:
والقینۃ: الامۃ المغنیۃ کانت او غیر مغنیۃ. ( ٦/٢١٨٦)
''قینہ لونڈی کو کہتے ہیں خواہ وہ مغنیہ ہو یا غیر مغنیہ۔''
''الرائد'' میں درج ہے:
القینۃ: ج قیان. الامۃ، المغنیۃ. (٢/ ١٢١٤)
''قینہ کی جمع قیان ہے۔ اس کے معنی لونڈی اور گانے والی کے ہیں۔''
''المنجد'' میں ہے:
القینۃ: ج قیان. الامۃ، المغنیۃ. ( ٦٦٧)
''قینہ کی جمع قیان ہے۔اس کے معنی لونڈی اور گانے والی کے ہیں۔''
''المعجم الوسیط'' میں درج ہے:
القینۃ: الامۃ صانعۃ او غیر صانعۃ وغلب علی المغنیۃ. ( ٢ / ٧٧١)
''قینہ لونڈی کو کہتے ہیں خواہ پیشہ ور ہو یا غیر پیشہ ور۔ اس کے غالب معنی مغنیہ کے ہیں۔''
واضح ہوا کہ ان لغات میں سے کوئی ایک لغت بھی ایسی نہیں ہے جس میں 'قینۃ' کے معنی میں نمایاں طور پر مغنیہ کو بیان نہ کیا گیا ہو۔ اس ضمن میں ''الاعتصام'' کی تحقیق کی مثال ایسے ہی ہے کہ کوئی شخص یہ جملہ پڑھ کر کہ ''اسلام نے شراب کو ممنوع قرار دیا ہے'' یہ حکم صادر فرمائے کہ چونکہ لغت میں لفظ شراب کا ایک معنی پیا جانے والا رقیق مشروب بھی درج ہے، اس لیے ہر چیز جو اس معنی کا مصداق قرار پائے گی، ممنوع ٹھہرے گی۔اس پر ان صاحب سے کہاجائے گا کہ زبان پر اس قدر ظلم نہ فرمائیے، بلا شبہ لغت میں وہ معنی درج ہیں جو آپ نے ارشاد فرمائے ہیں، مگر جان لیجیے کہ یہ لفظ اپنے عموم میں نشہ آور مشروب کے لیے خاص ہو گیا ہے۔ مزید براں یہ لفظ جس جملے میں آیا ہے، اس کے دیگر الفاظ بھی اسی معنی پر دلالت کرتے ہیں۔ بعینہٖ یہ بات ''الاعتصام'' کی خدمت میں لفظ قینہ کے بارے میں پیش ہے۔ بے شک، اس اسم کا معنی مجرد طور پر لونڈی بھی ہے، مگر اولاً، اس کا عمومی اطلاق مغنیہ لونڈی ہی پر ہوتا ہے اور ثانیاً مذکورہ روایت میں اس کے ساتھ فعل غنا کے استعمال نے اسے مغنیہ ہی کے مفہوم کے ساتھ خاص کر دیا ہے۔
''الاعتصام'' نے اس بحث میں ''لسان العرب'' کے حوالے سے یہ قول بھی نقل کیا ہے: وقال اللیث: عوام الناس یقولون: القینۃ المغنیۃ۔ یعنی لیث نے کہا ہے کہ عوام الناس کہتے ہیں کہ القینہ کے معنی مغنیہ ہے۔ یہ قول نقل کر کے اس کی شرح میں لکھا ہے:
''غور فرمایا آپ نے کہ ''قینۃ'' کے معنی مغنیہ کرنا ''عوام الناس'' کا قول ہے، اہل عرب کا نہیں۔ مگر ہمارے یہ متجددین اس کو ''معرف ومعلوم'' معنی قرار دیتے ہیں اور یہ محض ''عوام الناس'' کو دھوکا دینے کے لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ''پیشہ ور مغنیہ'' نے گانا گایا لہٰذا موسیقی جائز ہوئی۔(معاذ اللہ)۔'' (٧/٥٧

#1634;١)
اس شرح کو پڑھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اسے ان کی علمیت کا کمال سمجھا جائے یا دیانت کا۔ اہل الاعتصام غالباً بھول گئے ہیں کہ جس لغت کے حوالے سے انھوں نے یہ قول نقل کیا ہے، وہ لغت کسی عجمی زبان کی نہیں،بلکہ عربی زبان کی ہے اور ہر عربی لغت کی طرح اس میں بھی عربوں ہی کے الفاظ و معانی درج کیے گئے ہیں۔ چنانچہ اس میں درج کسی لفظ کے وہ معنی ہرگز مراد نہیں ہو سکتے جو اردو، فارسی یا کسی اور زبان میں مستعمل ہیں۔ لہٰذا بصد ادب گزارش ہے کہ یہاں اردو کا ''عوام الناس'' نہیں، بلکہ عربی کا ''عوام الناس'' استعمال ہوا ہے اور اس کا مصداق پاک و ہند کے عام لوگ نہیں، بلکہ عرب کے عام لوگ ہیں۔ مزید براں لغت کی اس کتاب سے مراجعت کرنے والے جانتے ہیں کہ اس میں اگر یہ لکھا ہو کہ 'کثیرا ما یطلق علی الفلان' یا 'غلب علی الفلان' یا 'عوام الناس یقولون فلان' تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ''اہل عرب کے ہاں اس لفظ کا زیادہ تر استعمال فلاں معنی میں ہوتا ہے'' یا ''اہل عرب کے نزدیک اس کے فلاں معنی غالب ہیں'' یا ''عرب کے اکثر لوگ اس کے معنی فلاں کرتے ہیں۔'' چنانچہ لیث کے مذکورہ قول کے معنی یہ ہوں گے کہ عربوں کے عام لوگ یہ لفظ مغنیہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یعنی قینہ کا رائج اور معروف مفہوم مغنیہ ہے۔
''قینہ'' کے معنی کی یہ بحث توقع ہے کہ ''الاعتصام'' کے اطمینان کے لیے کفایت کرے گی، تاہم اگر وہ اس میں کچھ کمی محسوس کریں تو مزید تشفی کے لیے ہم انھی کی برہان قاطع پیش کیے دیتے ہیں۔ ''الاعتصام'' کی جلد ٥٧ کے شمارہ ١٧ کا صفحہ ١٣ ملاحظہ کیجیے۔ اسی تنقیدی مضمون کے دوسرے حصے کی پہلی قسط میں قینات کا ترجمہ بقلم خودمغنیات کیا ہے:
''حضرت ابو امامہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تبیعوا القینات، ولا تشتروھن ولا تعلموھن.
مغنیات کی خرید و فروخت نہ کرو، اور نہ انھیں (موسیقی) کی تربیت دو۔''
خامہ انگشت بدنداں ہے، اسے کیا لکھیے
'قینتان' کے معنی کی بحث میں ''الاعتصام'' نے دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ مذکورہ روایت کے چار طرق میں سے صرف ایک طریق میں 'قینتان' کا لفظ آیا ہے، جبکہ باقی تین طرق میں 'جاریتان' نقل ہوا ہے، لہٰذا 'جاریتان' ہی کے لفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔
اس پر ہماری گزارش یہ ہے کہ اہل الاعتصام مسلک اہل حدیث کے ترجمان ہیں، اس لیے یقینا یہ جانتے ہوں گے کہ کسی روایت کے دوصحیح طرق میں اگر ایک بات مختلف الفاظ سے ادا کی گئی ہوتو تناقض کا سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک کے الفاظ یا اسالیب دوسری کے نقیض بن رہے ہوں۔اس صورت میں محدثین داخلی اور خارجی قرائن کی روشنی میں کسی ایک کو ترجیح دیتے ہیں یا دونوں کے بارے میں توقف کا فیصلہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ تناقض پیدا نہیں ہوتا تو پھر ایک روایت دوسری کی شرح و وضاحت اور تفصیل و توضیح قرار پاتی ہے۔ چنانچہ 'جاریۃ' کے ایک معنی اگر لونڈی کے ہیں اور 'قینۃ' بھی گانے والی لونڈی ہی کو کہتے ہیں تو صاف واضح ہے کہ یہاں کوئی تناقض پیدا نہیں ہوا، بلکہ 'قینتان' کے الفاظ نے 'جاریتان' کے اس ابہام کو دور کر دیا جو باول وہلہ اس کے معنی میں لڑکی کے مفہوم کا اشتراک ہونے کی وجہ سے پیدا ہو رہا تھا۔
تیسری بات یہ فرمائی ہ