فرمودات جاوید احمد غامدی
دوسرا حصہ
ڈاکٹر فیاض عالم صدیقی
اسلامی قانون خصوصا حدود آرڈنینس کے حوالے سے محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے خیالات ذریں ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ذرا سوچئے کے ذریعے ملک کے لاکھوں افراد تک پہنچ گئے ہیں۔۔۔
اس موضوع پر ان کے یہ خیالات نئے نہیں، وہ برس ہا برس سے ایسے اختلافات رکھتے ہیں اور حدود کے حوالے سے (اشراق) میں شائع ہونے والے ان کے مضامین میں وہی باتیں من و عن موجود ہیں جو غامدی صاحب نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہیں۔۔۔
غامدی صاحب (کاکوشاہ) کی علمیت اور قابلیت پر کسی کو شبہ نہیں ان کے مباحثے کا انداز، مدلل گفتگو اور دھیمہ لہجہ بھی یقینا متاثر کن ہے لیک غامدی صاحب نے کئی مقامات پر ایسی باتیں ضبط قلم کی ہیں جو جمہور علماء کی آراء کے بالکل برعکس ہیں جس سے بعض اوقات یہ تاثر ملتا ہے کہ غامدی صاحب سنت کی آئینی حیثیتت کو اس کی روح کے مطابق تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔ (میں یہاں تاثر کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ تاثر کبھی کبھی حقیقت کے برعکس بھی ہوتا ہے)۔۔۔
بعض مقامات پر تو یہ بات بالکل واضع ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ وہ اکابر صحابہ حتٰی کہ خلفاء راشدین کے قانونی فیصلوں اجتہاد اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہ کے تحت کئے گئے فیصلوں کی اہمیت کو بھی کم کرنے کی شعوری یا لا شعوری کوشش کرتے ہیں۔۔۔
مثال کے طور پر قید کی سزا کے حوالے سے غامدی صاحب کا موقف درج ذیل ہے۔۔۔
قید کی سزا محض سزا نہیں بلکہ ایک بدتریں جرم ہے جس کا ارتکاب خود انسان نے اپنے خلاف کیا ہے اس لئے کسی اسلامی حکومت سے ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ اپنے ضابطہ حدود و تعزیرات میں اس کو کبھی شامل کرے گی۔۔۔(اسلام کا تصور جرم و سزا۔ خورشید احمد ندیم، قید کی سزا پر غامدی صاحب کا مضمون صفحہ نمبر (٥٠٠)۔ اس مضمون کے آخری حصے میں وہ فرماتے ہیں کہ۔۔۔
خدا کی شریعت میں مجرم اس کے گھر ہی میں نظر بند کردینے یا علاقہ بدر کردینے کی سزا تو روارکھی گئی ہے جہاں وہ اپنے اہل و عیال کو بھی اگر چاہئے تو اپنے ساتھ لے جاسکتا ہے لیکن اس کو برسوں کے لئے زندان میں ڈال دینے کا کوئی تصور اس شریعت کے ضابطہ حدود تعزیرات میں موجود نہیں ہے۔۔۔
(گذشتہ دنوں حکومت نے ایک آرڈی نینس کے ذریعئے کئی عورتوں کی قید سے رہائی کا حکم صادر فرمایا اس حکم نامے کے پیچھے غامدی صاحب کی رائے کا بہت دخل نظر آتا ہے)۔۔۔۔
قیدی کی سزا کے حوالے سے عالم اسلام کے معروف اسکالر عبدالقادر عودہ شہید کی معرکتہ الآرا تصنیف التشریح الجنائی کے اردو ترجمہ (اسلام کا فوجداری نظام) پروفیسر ساجد الرحمن صدیقی صفحہ نمبر ٨٨ پر موجود درجہ ذیل مواد ملاحظہ فرمائیے۔۔۔
سزائے حبس (قید)۔۔۔
شریعت میں سزائے حبس (قید) کی دو قسمیں ہیں۔۔۔
١- قید محدود۔
٢- قید غیر محدود۔
قید محدود۔۔۔
شریعت نے عادی تعزیری جرائم پر سزائے قید محدود مقرر کی ہے اور عادی مجرموں کو یہ سزا دی جاتی ہے قید محدود کی کم سے کم مدت ایک دن بھی ہوسکتی ہے مگر اس کی زیادہ سے زیادہ مدت پر اتفاق نہیں ہے بعض فقہاء چھ ماہ تک کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ ایک سال سے کم ہو اور بعض کہتے ہیں زیادہ مدت کی تحدید والی امر کی رائے پر موقوف ہے۔
قید غیر محدود۔۔۔
یہ بات متفق علیہ ہے کہ غیر محدود مدت کی سزا قید خطرناک اور عادی مجرموں کو دی جاتی ہے یعنی وہ مجرم جو جرائم قتل، سرقہ، ضرب کے عادی ہوں یا بار بار خطرناک جرائم کا ارتکاب کر چکے ہوں اور مقررہ سزاوں سے باز نہ آتے ہوں ایسے مجرم مسلسل قید میں رہیں گے یہاں تک یا تو وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو ان کو چھوڑ دیا جائے گا ورنہ وہ تادم مرگ قید میں رہیں گے اور اس معاشرے کو ان کے شر سے محفوظ رکھا جائے گا۔۔۔
اسلامی تاریخ کے ادنٰی طالبعلم بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ اسلام میں جیل کو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے متعارف کروایا۔۔۔(ملاحظ ہ فرمائے علامہ مولانا شبلی نعمانی کی عظیم الشان تصنیف، الفاروق)۔۔۔
اس صیغے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک ایجاد یہ ہے کہ جیل خانے بنوائے ورنہ ان سے پہلے عرب میں جیل خانے کا نام و نشان نہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ سزائیں سخت دی جاتی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اول مکہ معظمہ میں صفوان بن اُمیہ کا مکان چار ہزار درہم میں خریدا اور اس کو جیل خانہ بنادیا۔ (مقریزی جلد دوم صفحہ نمبر ١٨٧)، پھر اور اضلاح میں بھی جیل خانے بنوائے جیل خانہ تعمیر کرنے کے بعد بعض سزاؤں میں بھی تبدیلی ہوئی۔ مثلا ابومحجن ثقفی بار بار شراب پینے کے جرم میں ماخوز ہوئے تو اخیر دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حد کی بجائے قید کی سزادی۔۔۔
قید کی سزا کے متعلق جناب جاوید غامدی صاحب کے فرمان کو اگر من و عن تسلیم کر لیا جائے تو اس کا واضع مطلب یہ نکلے گا کہ خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جیل خانے بنا کر اور قید کی سزا دیکر سنگین جرم کیا۔۔۔ میں غامدی صاحب کی خدمت میں انتہائی ادب سے گذارش کردوں گا کہ محترم دانشوری اپنی جگہ لیکن الفاظ کے استعمال میں احتیاط کیجئے۔ اپنے مؤقف کی قطعیت کیلئے آپ نے قید کی سزا کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کئے ہیں اس کے نتیجے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسی محترم و معزیز ہستی (نعوذ باللہ) مجرم قرار پائی ہے اور ان کی غیر معمولی خلافت راشدہ بھی آپ کی دانشورانہ رائے اور الفاظ کے غیر محتاظ استعمال کے نتیجے میں غیر اسلامی قرار پائے گی۔۔۔
غامدی صاحب نے بدکار عورتوں کو ان کے گھروں میں قید کرنے کی سزا کو عام مجرموں تک پھیلادیا ہے حالانکہ سورۃ النساء کی آیات کا مفہوم بالکل واضع ہے اور ایسی عورتوں کے لئے نازل ہوا ہے جو بدکاری میں ملوث ہوں۔۔۔
(ترجمہ)۔
مسلمانو تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی)گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا خدا ان کے لئے کوئی اور سبیل (پیدا) کرے۔۔۔(النساء ١٥)۔۔
واضع ہو کہ قرآن مجید کے حکم کے مطابق ایسی عورتوں کے لئے کوڑوں اور رجم کے احکامات سے پہلے قید کی سزا کو حد قرار دیا گیا تھا۔ ان واضع احکامات کے نازل ہونے کے بعد قید کی یہ سزا حد سے تعزیز قرار پائی (بخوالہ پروفیسر طاہر القادری ادارہ منہاج القرآن لاہور)۔۔
(کاکوشاہ) غامدی صاحب میں ایک مرتبہ پھر مودبانہ گزارش کرونگا کہ برائے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے ایسا عمل نہ کیجئے جو کہ عملیت کے خلاف ہو یا پھر برائے مہربانی وضاحت فرمائیے کہ قرآن میں بدکار عورتوں کو ان کے گھروں میں قید کرنے کے علاوہ عام مجرموں کو بھی ان کے اپنے گھروں میں قید کرنے کا حکم کن مقامات پر نازل ہوا ہے قرآن کریم میں بدکار عورتوں کو عمر قید کی سزا کے متعلق واضع حکم کے باوجود (قید کی سزا) کو سنگین جرم کہنے اور لکھنے کی جرآت غامدی صاحب کو ہی مبارک ہو ایسی جرات علماء کرام کی اکثریت نے نہ تو پہلے کبھی کی ہے اور نہ ہی آئندہ اس کا کوئی احتمال ہے اس مضمون کے آخر میں جناب غامدی صاحب کو توجہ ایک عملی مسئلہ کی طرف دلانا چاہتا ہوں اور قارئین کو بھی اس حوالے سے دعوت فکر دیتا ہوں۔۔۔
فرض کیجئے کہ ہمارے ملک کے کسی شہر میں پولیس اہلکار یا عدالت کے ہرکارے بدکاری کے کسی اڈے پر چھاپہ مایں اور وہاں سے ٢٥- ٢٠ بدکار عورتوں کو گرفتار کرلیں عموما بدکاری کے اڈاون کے اڈوں کو آباد کرنے والی عورتوں کے گھر نہیں ہوتے ان میں سے اکثر بدقسمت عورتوں کی ولدیت بھی نامعلوم ہوتی ہے اور قانونی طور پر نہ ان کا کوئی بھائی ہوتا ہے اور نہی باپ وہ اڈا چلانے والے یا والی کی زیر سرپرستی پرورش پاتی ہیں عام عقل رکھنے والا آدمی بھی بدکاری کے اڈے کو ان عورتوں کا گھر قرار نہیں دے سکتا۔۔۔
اب آپ خود سوچئے کہ بدکاری کے جس اڈے پر چھاپہ مار کر ایسی خواتین کو گرفتار کیا گیا ہو حکومت بعد ازگرفتاری انہیں کہاں رکھےگی۔ بقول غامدی صاحب ان کے گھروں پر تو گھر تو ان کے ہیں ہی نہیں۔۔۔۔
اس اڈے پر انہیں واپس بھیجنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔ ( بلکہ برائی کے ایسے اڈوں کو تو مسمار کروا دینا چاہئے)۔ ظاہر ہے کہ اگر حکومت ایسی کسی عورت یا کئی عورتوں کو قید کی سزا دینا چاہے تو پھر ان کے قیام و طعام کا بندوبست بھی اسے ہی کرنا پڑے گا نہ صرف قیام و طعام بلکہ ان کی صحت اور دیگر ضروریات کا خیال رکھنا بھی حکومت کی ذمداری ہوگی ان قیدی خواتین کی حفاظت اور انہیں وہاں سے فرار ہونے سے روکنے کیلئے بھی حکومت کو مناسب انتظامات کرنا پڑیں گے۔۔ درجہ بالاتمام مثالوں سے یہ بات بالکل واضع ہوجاتی ہے کہ قید کی سزا پانے والوں یا والیوں کے لئے ایک سرکاری مہمان خانہ یا جیل ہوتا ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
جہاں تک پاکستان میں جیلوں کے خراب ترین ماحول، پولیس کے رویے اور مجرموں کی اصلاح نہ ہونے کے حوالے سے غامدی صاحب (کاکوشاہ) نے اپنے مضمون میں لکھا ہے مجھ سمیت ہر فرد ان کی ان آراء سے اتفاق کریگا لیکن اس حوالے سے میری گذارش بہرحال یہ ہوگی کہ غامدی صاحب حکومت وقت کو مشورہ دیں کہ وہ پولیس کی حقیقی اصلاح کا بندوبست کرے۔
(پولیس ایکٹ ٢٠٠٢ کا ڈرامہ تو ناکام ہو چکا)۔۔۔ جیلوں کے ماحول کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنائے قیدیوں سے انسانی سلوک کیا جائے اور ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے انہیں جیلوں میں ایسا ماحول فراہم کیا جائے کہ وہ اپنے جرائم پر ندامت محسوس کریں اور ان کی اخلاقی تربیت کا بندوبست بھی کیا جائے اگر کوئی قیدی اپنے خاندان کا کفیل ہو تو اس کے اہل خانہ کو مناسب کفالت اور دیکھ بھال کا انتظام بھی کیا جائے کیا پتہ ان میں سے کتنے ہی توبہ کی روش اختیار کرلیں اور معاشرے میں ازسرنو مفید کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں۔۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت اگر بلوچستان کے ایک قدر آوار سیاسی اور بیحدمضبوط قبائلی سردار اکبر خان بگٹی کو موت کے گھاٹ اترواسکتی ہے تو وہ پولیس کی اصلاح اور جیلوں کے ماحول کی درستگی کیلئے بھی عملی اقدام کرواسکتی ہے بات صرف ان کی ترحیحات اور عوامی مسائل میں حقیقی دلچسپی لینے کی ہے۔۔۔
وسلام۔۔۔