It seems that you are unregistered. Please register with us by clicking Here, or if you are already registered login here
Welcome to Urdu Community & Poetry/Shayari Forum
This is a discussion on Doosraa nine eleven oor Pakistan: an interesting column with facts within the Discussion Corner forums, part of the Mehfil category; اسلام و علیکم امریکہ اِس وقت کا سب سے بڑا دہشت گرد اور وسائل پر قبضے کی جنگ میں سب ...
| |||||||
| Poetry | Video | Photo | Books | Games | Sites | Register | Groups | FAQ | Calendar | Mark Forums Read | Chat |
|
#21
| |||||
| |||||
| اسلام و علیکم امریکہ اِس وقت کا سب سے بڑا دہشت گرد اور وسائل پر قبضے کی جنگ میں سب سے بڑا لٹیرا ہے، وہ کیا کر رہا ہے اور اُس کی رپورٹس کن مقاصد کے حصول کے لئے ہیں یہ بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ میں یہاں وکی پیڈیا سے لئے گئے وار آن ٹیرر کے مقتولین کی فہرست شیئر کررہا ہوں جو اصل اعداد و شمار سے کم از کم 10 گنا کم ہی ہوگی، تاکہ ہم اندازہ لگا سکیں کہ 7 سال پہلے شروع کی گئی جنگ میں نقصان کس کا ہوا، جبکہ اب تک امریکہ بہادر جنگ شروع کرنے کے مقاصد کے حصول میں ناکام ہے۔ ![]() ![]() ![]() [Only registered and activated users can see links. ]
__________________ ![]() |
|
#22
| |||||
| |||||
| کسی بھی بے گناہ شہری کی ہلاکت يقينی طور پر قابل مذمت ہے۔ ليکن يہ حقیقت ہے کہ عراق ميں زيادہ تر شہريوں کی ہلاکت دہشت گرد تنظيموں کی کاروائيوں کا نتيجہ ہے جو دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنا رہے ہيں۔ کار بم دھماکوں اور اغوا براۓ تاوان ميں ملوث يہ لوگ صرف اور صرف اپنی مرضی کا نظام نافذ کرنے ميں دلچسپی رکھتے ہيں۔ ميں آپ کو ايک عراقی تنظيم کی ويب سائٹ کا لنک دے رہا ہوں جس کا امريکی حکومت سے کوئ تعلق نہيں ہے۔ اس ويب سائٹ پر آپ عراق ميں ہلاک ہونے والے تمام شہريوں کے نام، ان کے کوائف اور ان واقعات کی تفصيل پڑھ سکتے ہيں جن کے نتيجے ميں يہ شہری ہلاک ہوۓ۔ يہ اعداد وشمار آپ کو عراق ميں بے گناہ شہريوں کے حوالے سے حقيقی صورت حال سمجھنے ميں مدد ديں گے۔ [Only registered and activated users can see links. ] عراق جنگ کے آغاز سے اب تک 87790 عراقی ہلاک ہو چکے ہيں۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ يہ ايک عظيم سانحہ ہے۔ بے گناہ شہريوں کی موت اس ليے بھی قابل مذمت ہے کيونکہ فوجيوں کے برعکس وہ ميدان جنگ کا حصہ نہيں ہوتے۔ اس وقت عراق ميں بے شمار مسلح گروپ دہشت گردی کی کاروائيوں ميں دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنا رہے ہيں۔ عراق ميں موجود ان تنظيموں کے نام اور انکی کاروائيوں کے نتيجے ميں ہلاک ہونے والے عراقيوں کے حوالے سے کچھ اعداد وشمار۔ ImageShack - Hosting :: clipimage002if6.jpg ايران عراق جنگ ، الانفال کی تحريک يا 1991 ميں ہزاروں کی تعداد ميں عراقی شيعہ برادری کا قتل عام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر صدام کا دور حکومت مزيد طويل ہوتا تو بے گناہ انسانوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہتا۔ فواد ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ [Only registered and activated users can see links. ] [Only registered and activated users can see links. ] |
|
#23
| |||||
| |||||
| اسلام و علیکم بھائی عراق میں صدام حسین کی حکومت میں جو کچھ ہو رہا تھا، وہ سراسر عراق کا اندرونی معاملہ تھا، جو وجہ بتا کر امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تھا وہ بالکل بے بنیاد تھی، اور امریکہ اُن الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام بھی رہا۔ عراق، افغانستان، کشمیر، چیچنیا، فلسطین، فلپائن، چین، صومالیہ، انڈونیشیا، لبنان، بوسنیا، انڈیا اور بہت سے ممالک میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا ہے، اُس کے باوجود مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل بھی چسپاں ہے، اور اِس تمام قتلِ عام کی وجہ بھی مسلمانوں کو ہی قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ امریکہ سب سے زیادہ اسلحہ تیار اور استعمال کرنے والا ملک ہے، اسرائیل کا ناجائز وجود اور اُس کی جارحیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، لیکن پھر بھی یہ دونوں شاید دودھ کے دھلے اور معصوم ہیں۔ طاقت کا غلط استعمال صرف اور صرف اِس تمام قتل وغارت کی اصل وجہ ہے۔اِس بات کو سمجھنے اور عالمی امن کے لئے اس کے سدِباب کی ضرورت ہے۔
__________________ ![]() |
|
#24
| |||||
| |||||
| Quote:
Fawad Digital Outreach Team US State Department ڈبليو ايم ڈی ايشو امريکہ کی خارجہ پاليسی کے حوالے سے کيے جانے والے سارے فيصلے مکمل اور غلطيوں سے پاک نہيں ہيں اور نہ ہی امريکی حکومت نے يہ دعوی کيا ہے کہ امريکہ کی خارجہ پاليسی 100 فيصد درست ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ عراق ميں مہلک ہتھياروں کے ذخيرے کی موجودگی کے حوالے سے ماہرين کے تجزيات غلط ثابت ہوۓ۔ اور اس حوالے سے امريکی حکومت نے حقيقت کو چھپانے کی کوئ کوشش نہيں کی۔ بلکل اسی طرح اور بھی کئ مثاليں دی جا سکتی ہيں جب امريکی حکومت نے پبلک فورمز پر اپنی پاليسيوں کا ازسرنو جائزہ لينے ميں کبھی قباحت کا مظاہرہ نہيں کيا۔ اس ايشو کے حوالے سے بل کلنٹن انتظاميہ اور موجودہ امريکی حکومت کے علاوہ ديگر ممالک جو مسلسل رپورٹس ملی تھيں اس ميں اس بات کے واضح اشارے تھے کہ صدام حسين مہلک ہتھياروں کی تياری کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے صدام حسين کا ماضی کا ريکارڈ بھی امريکی حکام کے خدشات ميں اضافہ کر رہا تھا۔ نجف، ہلہ،ہلاجہ اور سليمانيہ ميں صدام کے ہاتھوں کيميائ ہتھیاروں کے ذريعے ہزاروں عراقيوں کا قتل اور 1991 ميں کويت پر عراقی قبضے سے يہ بات ثابت تھی کہ اگر صدام حسين کی دسترس ميں مہلک ہتھياروں کا ذخيرہ آگيا تواس کے ظلم کی داستان مزيد طويل ہو جاۓ گی۔ اس حوالے سے خود صدام حسين کی مہلک ہتھياروں کو استعمال کرنے کی دھمکی ريکارڈ پر موجود ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے حادثے کے بعد امريکہ اور ديگر ممالک کے خدشات ميں مزيد اضافہ ہو گيا۔ جب صدام حسين کے داماد حسين کمل نے 1995 ميں عراق سے بھاگ کرجارڈن ميں پناہ لی تو انھوں نے بھی صدام حسين کے نيوکلير اور کيميائ ہتھياروں کے حصول کے ليے منصوبوں سے حکام کو آگاہ کيا۔ 2003 ميں امريکی حملے سے قبل اقوام متحدہ کی سيکيورٹی کونسل عراق کو مہلک ہتھياروں کی تياری سے روکنے کے ليے اپنی کوششوں کا آغاز کر چکی تھی۔ يہی وجہ ہے کہ جب اقوام متحدہ کئ تحقيقی ٹيموں کو عراق ميں داخلے سے روک ديا گيا تو نہ صرف امريکہ بلکہ کئ انٹرنيشنل ٹيموں کی يہ مشترکہ رپورٹ تھی کہ صدام حکومت کا وجود علاقے کے امن کے ليے خطرہ ہے۔ ميں آپ کو يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی ايک رپورٹ اور ايک ویب سائيٹ کا لنک دے رہا ہوں جس ميں صدام کے ظلم کی داستان تفصيل سے پڑھ سکتے ہيں۔ [Only registered and activated users can see links. ] [Only registered and activated users can see links. ] يہ رپورٹ پڑھنے کے بعد يہ فيصلہ ميں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ عراق کے مستقبل کے ليے کيا صورتحال زيادہ بہتر ہے صدام حسين کا وہ دوراقتدار جس ميں وہ اپنے کسی عمل کے ليے کسی کے سامنے جوابدہ نہيں تھے اور سينکڑوں کی تعداد ميں عراقيوں کو قید خانوں ميں ڈال کر ان پر تشدد کرنا معمول کی بات تھی يا 12 ملين عراقی ووٹرز کی منتخب کردہ موجودہ حکومت جو عراقی عوام کے سامنے اپنے ہر عمل کے ليے جوابدہ ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ حکومت سازی کے حوالے سے ابھی بھی بہت سے مسائل ہيں ليکن مستقبل کے ليے اميد افزا بنياديں رکھ دی گئ ہيں۔ عراق کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے يہ حقيقت بھی مد نظر رکھنی چاہيے کہ امن وامان کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دارامريکی افواج نہيں بلکہ وہ دہشت گرد تنظيميں ہيں جو بغير کسی تفريق کے معصوم عراقيوں کا خون بہا رہی ہيں۔ حال ہی ميں الغزل نامی بازار ميں ذہنی معذور لڑکيوں کے جسم پر بم باندھ کر ان کے ذريعے کرواۓ جانے والے دھماکے اور اس کے نتيجے ميں سو سے زيادہ بے گناہ عراقيوں کی موت اس سلسلے کی تازہ مثال ہے۔ فواد ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ [Only registered and activated users can see links. ] [Only registered and activated users can see links. ] |
|
#25
| |||||
| |||||
| Quote:
Fawad Digital Outreach Team US State Department مسلہ فلسطين امريکی موقف اس ميں کوئ شک نہيں کہ امريکہ اسرائيل کو اپنا دوست سمجھتا ہے۔ اس حوالے سے ميں ايک وضاحت کر دوں کہ امريکہ ميں يہودی تنظيميں اور مختلف گروپ نظام کے اندر رہتے ہوۓ امريکی حکومت کے پاليسی ميکرز اور قانون کے ماہرين کو اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہيں اور انہيں قائل کرنے کی کوشش کرتے ہيں۔ ليکن يہ کسی خفيہ سازشی عمل کا حصہ نہيں ہے۔ يہ آزادی تمام سماجی اور مذہبی تنظيميوں کو يکساں حاصل ہے۔ يہ ہی امريکی جمہوری نظام کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ اور يہ کوئ ڈھکی چھپی بات نہيں ہے۔ پاکستانی میڈيا ميں اسی بات کو "یہودی لابی کی سازشيں" جيسے ليبل لگا کر ايک دوسرے انداز ميں پيش کيا جاتا ہے۔ يہ مفروضہ امريکی نظام سے ناواقف لوگوں ميں خاصہ مقبول ہے۔ 300 ملين کی آبادی والے ملک ميں کسی ايک گروہ کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ وہ ہر فيصلے پر اثرانداز ہو سياسی توازن کو برقرار رکھنے کے ليے اس امر کو يقينی بنايا جاتا ہے۔اہم بات يہ ہے کہ جن فورمز کو يہودی تنظيميں استعمال کرتی ہيں وہ عرب کے مسلمانوں سميت سب کو ميسر ہيں۔ يہ وہ نقطہ ہے جس پر بعض عرب ليڈر اور حماس جيسی تنظيميں اپنا رول ادا کرنے ميں ناکام رہی ہيں۔ ليکن ميں آپ کو بتاتا چلوں کہ پچھلے کچھ عرصے سے اس صورت حال ميں تبديلی آ رہی ہے۔ امريکہ ميں بہت سی ایسی مسلم اور عرب تنظيميں منظر عام پر آئ ہيں جو فلسطين کے مسلۓ کے حل کے ليے يہودی تنظيموں کی طرح اپنا رول ادا کر رہی ہيں۔ اور اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گۓ ہيں۔ موجودہ امريکی صدر بش وہ پہلے امريکی صدر ہيں جنھوں نے ايک آزاد فلسطينی رياست کے قيام اور اسرائيلی تسلط کے خاتمے کے موقف کو سرکاری سطح پر تسليم کر کے اسے امريکی خارجہ پاليسی کا حصہ بنايا ہے اور اس حوالے سے عملی کوششيں بھی شروع کر دی ہيں۔ حال ہی ميں امريکی شہر ايناپوليس ميں ہونے والی کانفرنس جس ميں بے شمار عرب رہنماؤں نے شرکت کی، اس سلسلے کی ايک اہم کاميابی ہے۔ اس کانفرنس کا انعقاد ايک سال کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتيجے ميں عمل ميں آيا۔ اسی طرح دسمبر 2007 ميں ہونے والی پيرس کانفرنس بھی ايک اہم سنگ ميل تھا جس ميں فلسطينی رياست کے قيام کےعمل کے ليے 7 بلين ڈالرز کی امداد جمع کی گئ جو کہ فلسطينی ليڈرشپ کی جانب سے کی جانے والی امداد کی درخواست سے کہيں زيادہ تھی۔صدر بش يہ واضح کر چکے ہيں کہ وہ 2008 کے آخر تک ايک آزاد فلسطينی رياست کے قيام کا خواب سچ ہوتا ديکھنا چاہتے ہيں۔ کونڈوليزا رائس ہی سے منسوب ايک حاليہ بيان پيش ہے "امريکہ ايک آزاد فلسطينی رياست کے ذريعے فلسطين کے عوام کو انٹرنيشنل کميونٹی کا حصہ ديکھنا چاہتا ہے اور اس حوالے سے امريکہ فلسطين کو عالمی معيشت کا حصہ بنانے کے ليے ہر ممکن مدد کرے گا"۔ صدر بش يہ واضح الفاظ ميں کہ چکے ہيں کا اس مسلے کے حل کے ليے اسرائيلی تسلط کا خاتمہ انتہائ ضروری ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں 242 اور 338 کی بنياد پر فلسطين کے مسلۓ کے حل کے ليے امريکہ اپنی کوششيں جاری رکھے گا۔ 1988 ميں پی ايل او نے سلامتی کونسل کی ان قراردوں کی بنياد پر ايک آزاد فلسطينی رياست کے قيام کی مکمل حمايت کی تھی۔ صدر بش کا ايک حاليہ بيان پيش ہے۔ "ايک آزاد فلسطينی رياست کے قيام کا نظريہ بالکل واضح ہے۔ 1967 سے جن علاقوں پر تسلط قائم کيا گيا ہے اس کا خاتمہ انتہائ ضروری ہے۔ ايک آزاد فلسطينی رياست کا قيام بہت پہلے ہو جانا چاہيے تھا۔ يہ فلسطين کے عوام کا حق ہے"۔ ايک آزاد فلسطينی رياست کے قيام کے ليے موجودہ امريکی حکومت کی کوششيں ايک مسلمہ حقيقت ہے اور 2008 کے اختتام تک اس منزل کا حصول صدر بش کی خارجہ پاليسی کا حصہ ہے۔ حال ہی ميں امريکی کوششوں سے کوسوو ميں ايک مسلم حکومت کا قيام اس بات کا ثبوت ہے کہ يہ خواب حقيقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ ليکن اس کے ليے ضروری ہے کہ دونوں فريقين ايناپولس کانفرنس سے شروع ہونے والے بات چيت کے عمل کو جاری رکھيں اور ماضی کی غلطياں نہ دہرائيں جب امن کے بہت سے حقيقی مواقع پر تشدد کاروائيوں کے سبب ضائع ہو گۓ۔ انناپولس کانفرنس کے اختتام پرکونڈوليزا رائس کا بيان پيش خدمت ہے۔ "Annapolis was the culmination of a patient and painstaking diplomacy of almost a year. The negotiating teams have now held their first meeting. And in the year to come, the President and I will actively facilitate and support these negotiations. We will look for ways to engage positively and support the parties in turning their discussions into substantive agreement. And building on the recent Paris Donors Conference, we will continue to support President Abbas's efforts to build an effective democratic state. آخر ميں صدر بش کے اسٹيٹ آف يونين سے آخری خطاب سے ايک اقتتباس This month in Ramallah and Jerusalem, I assured leaders from both sides that America will do, and I will do, everything we can to help them achieve a peace agreement that defines a Palestinian state by the end of this year. |